Creative mind

Creative mind All beautiful things, ideas, snaps, food recipes videos, paintings, dress designs n many more who like creative minds .......

old and new dresses available just for ladies
arrange small events in rawalpindi pakistan
and also supply food items in order,promote buisness of property

01/07/2026
01/07/2026

سارہ جانتی تھی کہ اگر ہیلی کاپٹر ایک بار نظروں سے اوجھل ہو گیا تو دوبارہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ اس نے وقت ضائع کیے بغیر سٹور روم سے ایک پرانی تیز لائٹ (Flashlight) اٹھائی۔
وہ کھڑکی کے پاس پہنچی اور اسے چند انچ کے لیے کھولا۔ جیسے ہی کھڑکی کھلی، باہر کی سرد اور بھاری بینگنی ہوا کا ایک جھونکا اندر آیا، جس سے سارہ کا گلا بری طرح چھل گیا اور اسے خون کی الٹی آنے لگی۔ لیکن اس نے اپنی ہمت مجتمع کی اور لائٹ کی تیز شعاع کو ہیلی کاپٹر کی طرف کر کے بار بار آن اور آف کرنے لگی—یہ 'مورس کوڈ' (Morse Code) میں مدد کا اشارہ تھا: **S.O.S**۔
ہیلی کاپٹر کے پائلٹ نے شاید دھند میں چمکتی ہوئی اس روشنی کو دیکھ لیا تھا۔ ہیلی کاپٹر کا رخ سارہ کی بلڈنگ کی طرف مڑا اور اس کی تیز سرچ لائٹ سارہ کی کھڑکی پر آ کر رک گئی۔
ہیلی کاپٹر بلڈنگ کی چھت پر لینڈ تو نہیں کر سکتا تھا کیونکہ وہاں ہائی وولٹیج تاریں تھیں، لیکن وہ چھت کے بالکل اوپر آ کر رک گیا اور وہاں سے ایک موٹا رسا نیچے پھینکا گیا۔ لاؤڈ سپیکر پر ایک بھاری آواز گونجی: *"جو کوئی بھی اندر ہے، فوراً چھت پر آؤ! ہمارے پاس صرف دو منٹ ہیں!"*
سارہ نے جلدی سے کیمیکل کا وہ برتن اٹھایا جو ابھی تک سفید گیس اگل رہا تھا، اور اپنا وہ ریسرچ پیپر جس پر اس نے فارمولا لکھا تھا، ایک واٹر پروف بیگ میں ڈالا۔ اس نے اپنے منہ پر گیلا کپڑا مضبوطی سے باندھا اور سیڑھیوں کی طرف بھاگی۔
چھت کا دروازہ کھولتے ہی بینگنی پاؤڈر کا ایک طوفان اس سے ٹکرایا۔ ہوا اتنی بھاری تھی کہ ہر قدم اٹھانا ایک پہاڑ سر کرنے جیسا تھا۔ چھت پر ہیلی کاپٹر کے پنکھوں کا شور اور تیز ہوا کا دباؤ تھا، اور سامنے وہ رسا لٹک رہا تھا۔
سارہ نے بیگ کو اپنی پشت پر مضبوطی سے باندھا اور آگے بڑھی۔ اس کی آنکھیں بینگنی پاؤڈر کی وجہ سے جل رہی تھیں اور دھندلا چکی تھیں۔ جیسے ہی اس نے رسے کو پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، اس کا پاؤں چھت پر جمی چکنی بینگنی برف پر پھسل گیا۔
وہ چھت کے بالکل کنارے کی طرف گرنے لگی۔ نیچے سینکڑوں فٹ گہری موت تھی۔
آخری سیکنڈ میں، ایک مضبوط، دستانے پہنے ہوئے ہاتھ نے اندھیرے سے نکل کر سارہ کی کلائی کو جکڑ لیا۔ یہ ہیلی کاپٹر سے نیچے اترا ہوا ایک ریسکیو کمانڈو تھا۔ اس نے سارہ کو جھٹکے سے اوپر کھینچا اور رسے کے ساتھ لگی ہارنس (Harness) میں جکڑ دیا۔
کچھ ہی لمحوں میں سارہ ہیلی کاپٹر کے اندر تھی۔ اندر موجود کمانڈوز نے فوراً ہیلی کاپٹر کا دروازہ بند کیا اور سارہ کے منہ پر آکسیجن ماسک لگا دیا۔
جب سارہ کی سانسیں کچھ بحال ہوئیں، تو اس نے دیکھا کہ ہیلی کاپٹر میں تین اور سائنسدان موجود تھے، جن کے چہروں پر مایوسی لکھی تھی۔ ان میں سے ایک نے کہا، *"ہمیں افسوس ہے لڑکی، ہم تمہیں بچانے تو لے آئے ہیں، لیکن ہمارے پاس بھی صرف چند گھنٹوں کی آکسیجن باقی ہے۔ دُنیا کی بڑی لیبارٹریز تباہ ہو چکی ہیں، کوئی حل نہیں مل رہا۔"*
سارہ نے کمزوری سے مسکراتے ہوئے اپنی پشت سے وہ بیگ اتارا، جس کے اندر سے ابھی تک سفید گیس کی مدہم لکیر نکل رہی تھی۔ اس نے بیگ کھول کر وہ کاغذ ان کے سامنے رکھ دیا۔
*"حل یہاں ہے،"* سارہ نے ماسک ہٹا کر اکھڑی ہوئی سانسوں کے ساتھ کہا۔ *"ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور سلور نینو پارٹیکلز... یہ اس زنجیر کو توڑ رہا ہے۔"*
سائنسدانوں نے حیرت سے پہلے اس برتن کو دیکھا جس کے آس پاس کی بینگنی ہوا بالکل صاف ہو چکی تھی، اور پھر اس کاغذ کو۔ ان کی آنکھوں میں مرتی ہوئی امید اچانک جاگ اٹھی۔
ہیلی کاپٹر کا پائلٹ چلایا، *"ہمیں فوراً انڈین انسٹی ٹیوٹ آف سائنس (IISc) کے زیرِ زمین بنکر کی طرف مڑنا ہوگا! وہاں اب بھی انڈسٹریل کیمیکلز کا ذخیرہ موجود ہے!"*
ہیلی کاپٹر نے ایک تیز موڑ لیا اور بینگنی بادلوں کو چیرتا ہوا زمین کے آخری محفوظ بنکر کی طرف بڑھ گیا۔ انسانوں کو اب آکسیجن کے لیے لڑنے کا ایک موقع مل گیا تھا۔

01/07/2026

اندھیرے کمرے میں لیپ ٹاپ کی نیلی روشنی سارہ کے چہرے پر پڑ رہی تھی، جہاں خوف اور پختہ ارادے کا ایک عجیب امتزاج تھا۔ ہر گزرتے منٹ کے ساتھ کمرے کی ہوا بھاری اور سانس اکھڑتی جا رہی تھی۔
بیٹری **12 فیصد** پر آ چکی تھی۔ سارہ کی انگلیاں کی بورڈ پر جادوئی رفتار سے چل رہی تھیں۔ وہ ہوا میں موجود اس نئے بینگنی پولیمر (Polymer) کے مالیکیولر سٹرکچر کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی۔
"اگر یہ آکسیجن کے ایٹمز کو آپس میں زنجیر کی طرح جوڑ رہا ہے، تو ہمیں اس زنجیر کو توڑنے کے لیے ایک شدید 'ریڈکشن ری ایکشن' (Reduction Reaction) کی ضرورت ہے،" وہ خود سے بڑبڑائی۔ اس کا سر درد سے پھٹ رہا تھا، جو آکسیجن کی کمی کی پہلی علامت تھی۔
اچانک اس کی نظر اپنے ہی ایک پرانے ریسرچ پیپر پر پڑی۔ پچھلے سال اس نے 'سلور نینو پارٹیکلز' (Silver Nanoparticles) اور عام الکحل کے ملاپ سے ایک ایسا محلول تیار کیا تھا جو گیسوں کی کثافت کو بدل سکتا تھا۔
"ہائیڈروجن پر آکسائیڈ اور سلور..." سارہ کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس کے پاس یونیورسٹی کی لیب سے لایا ہوا کچھ کیمیکل کا سامان گھر کے سٹور روم میں موجود تھا۔
وہ فوراً اٹھی، لیکن دماغ میں اندھیرا چھانے لگا۔ وہ لڑکھڑا کر گری، لیکن ہمت ہارنے کا وقت نہیں تھا۔ وہ گھٹنوں کے بل رینگتی ہوئی سٹور روم تک پہنچی۔ وہاں اندھیرے میں اس نے پیتل کے برتن، ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کی بوتل، اور سلور نائٹریٹ کا پاؤڈر ڈھونڈ نکالا۔
جب وہ واپس آئی تو لیپ ٹاپ کی سکرین آخری بار ٹمٹمائی اور ہمیشہ کے لیے بند ہو گئی۔ بیٹری ختم ہو چکی تھی۔
اب کمرے میں مکمل اندھیرا تھا اور باہر سے آنے والی بینگنی بادلوں کی مدہم سی روشنی تھی۔ سارہ نے کانپتے ہاتھوں سے دونوں کیمیکلز کو ایک شیشے کے برتن میں ملایا۔ جیسے ہی سلور نے ہائیڈروجن پر آکسائیڈ کو چھوا، برتن کے اندر ایک تیز ابال آیا اور سفید رنگ کی گیس نکلنے لگی۔
اس نے ایک گہرا سانس لیا۔ اس سفید گیس میں زندگی تھی! اس کا دم گھٹنا بند ہوا اور دماغ کو جیسے نئی توانائی مل گئی۔ یہ فارمولا کام کر رہا تھا! یہ محلول ہوا میں موجود اس بینگنی اثر کو بے اثر کر کے آکسیجن کو دوبارہ آزاد کر رہا تھا۔
لیکن خوشی کا یہ لمحہ بہت مختصر تھا۔ سارہ نے کھڑکی سے باہر دیکھا۔ بینگنی پاؤڈر اب عمارت کی دوسری منزل تک پہنچ چکا تھا۔ اس کے پاس جو کیمیکل تھا، وہ اسے صرف اس ایک کمرے میں چند گھنٹے مزید زندہ رکھ سکتا تھا، پوری دنیا کو بچانے کے لیے یہ نا کافی تھا۔
اسے یہ فارمولا کسی بڑے ادارے، کسی زندہ بچ جانے والی ملٹری بیس یا سائنسی مرکز تک پہنچانا تھا... لیکن کیسے؟ باہر سڑک پر موت کا راج تھا، اور کوئی نیٹ ورک کام نہیں کر رہا تھا۔
تبھی، اندھیرے آسمان میں ایک زوردار گرج دار آواز گونجی۔ سارہ نے اوپر دیکھا۔ ایک فوجی ہیلی کاپٹر، جس کی ہیڈلائٹس اس بینگنی دھند کو چیر رہی تھیں، بہت نیچی پرواز کرتا ہوا اس کے علاقے کی طرف بڑھ رہا تھا۔ وہ شاید زندہ بچ جانے والوں کی تلاش میں تھے۔
سارہ کے پاس ان کی توجہ حاصل کرنے کے لیے صرف چند سیکنڈ تھے۔

29/06/2026

سارہ نے لرزتے ہاتھوں سے کھڑکی کا شیشہ بند کیا اور اسے لاک کر دیا۔ اس کا دل سینے میں ہتھوڑے کی طرح بج رہا تھا۔ کمرے میں خاموشی اس قدر گہری تھی کہ اسے خود اپنی تیز ہوتی ہوئی سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔
اس نے جلدی سے الماری سے کپڑے نکالے اور انہیں گیلا کر کے کھڑکی اور دروازے کے نچلے حصوں میں ٹھونسنا شروع کر دیا تاکہ باہر کی زہریلی ہوا اندر نہ آ سکے۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ یہ سب عارضی تھا۔ اگر ریڈیو پر کہی گئی بات سچ تھی، تو یہ کمرہ اس کی پناہ گاہ نہیں بلکہ ایک قید خانہ بننے جا رہا تھا جس میں آکسیجن آہستہ آہستہ ختم ہو جائے گی۔
اچانک باہر سڑک پر ایک زوردار دھماکہ ہوا، جس سے کھڑکی کے شیشے لرز اٹھے۔ کسی نے گھبراہٹ میں گاڑی اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی تھی اور انجن نے ہوا میں موجود اس نئے کیمیکل کی وجہ سے آگ پکڑ لی تھی۔
سارہ نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔ اب سڑک پر کوئی حرکت نہیں تھی۔ ہر طرف صرف خاموشی تھی—ایک ایسی ہولناک خاموشی جو صرف قبرستانوں میں ہوتی ہے۔ پوری سڑک پر بینگنی رنگ کے باریک پاؤڈر کی ایک چمکدار تہہ جم چکی تھی، بالکل ایسے جیسے کسی دوسری دنیا کی برف باری ہوئی ہو۔
تبھی اس کے فون کی سکرین ایک سیکنڈ کے لیے چمکی۔ کوئی سگنل نہیں تھے، لیکن ایک پرانا سیو (save) کیا ہوا نوٹیفکیشن سامنے آیا جو اس کی یونیورسٹی کے ریسرچ گروپ کا تھا۔
سارہ کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔ وہ خود ایک بائیو کیمسٹ تھی!
اس نے پاگلوں کی طرح اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا۔ اگرچہ انٹرنیٹ بند تھا، لیکن اس کی اپنی ہارڈ ڈرائیو پر سینکڑوں سائنسی مقالے اور کیمیکل ڈیٹا بیس موجود تھے۔ اس نے ریڈیو والے کے الفاظ دہرائے: *"آکسیجن ایک بھاری پولیمر میں بدل رہی ہے..."*
"اگر یہ ایک کیٹالسٹ (catalyst) یعنی کسی بیرونی عنصر کی وجہ سے ہو رہا ہے، تو ہر کیمیکل ری ایکشن کا ایک الٹ (reverse) بھی ہوتا ہے،" اس نے بڑبڑاتے ہوئے کانپتی انگلیوں سے کی بورڈ پر ٹائپ کرنا شروع کیا۔
اس کے پاس صرف 48 گھنٹے تھے، اور آکسیجن کے ہر گزرتے قطرے کے ساتھ اس کا دماغ سست ہو رہا تھا۔ لیکن اب یہ صرف زندہ رہنے کی جنگ نہیں تھی، یہ زمین پر انسانوں کے آخری نشان کو بچانے کی کوشش تھی۔
اچانک، کمرے کی لائٹ چلی گئی۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوب گیا، اور لیپ ٹاپ کی سکرین کی روشنی سارہ کے چہرے پر پڑنے لگی۔ بیٹری کی فیصد ظاہر کر رہی تھی: **صرف 15 فیصد باقی**۔

28/06/2026

دہلی کی اس صبح سردی کی دھند دوپہر تک بھی نہ چھٹی۔ بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ، آسمان کا رنگ گہرا اور بدنما بینگنی ہونے لگا۔
دوپہر کے دو بج کر چودہ منٹ پر، سارہ نے اپنا فون اٹھایا۔ سکرین پر سگنل غائب تھے اور صرف ایک ہی پیغام بار بار چمک رہا تھا: CRITICAL NETWORK FAILURE۔ اس نے سوچا شاید کوئی عام نیٹ ورک کا مسئلہ ہوگا، اور وہ واپس اپنے لیپ ٹاپ پر تھیسس لکھنے لگی۔
لیکن ٹھیک دس منٹ بعد، اس کے کچن سے عجیب سی آوازیں آنے لگیں۔ *ٹک۔۔۔ ٹک۔۔۔ ٹک۔۔۔*
اس کے سمارٹ فریج کی ڈیجیٹل سکرین سرخ ہو گئی اور اس پر لکھا آیا: WARNING: INTERNAL OXYGEN DROPPING۔
"یہ کیا مذاق ہے؟" سارہ نے حیرت سے کہا اور کھڑی ہوئی۔ لیکن کھڑے ہوتے ہی اس کا سر زور سے چکرایا۔ اس نے گہری سانس لینے کی کوشش کی، لیکن ایسا لگا جیسے ہوا میں سے جان ہی نکل گئی ہو—بالکل ویسے ہی جیسے کوئی ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر سانس لینے کی کوشش کر رہا ہو۔
وہ لڑکھڑاتی ہوئی کھڑکی کی طرف گئی اور اسے کھول دیا۔
نیچے سڑک کا منظر دیکھ کر اس کے ہوش اڑ گئے۔ چاروں طرف تباہی کا ماحول تھا۔ گاڑیاں آپس میں ٹکرائی ہوئی تھیں اور ان کے دروازے کھلے تھے۔ لوگ عمارتوں سے باہر بھاگ رہے تھے، سب نے اپنے گلے پکڑے ہوئے تھے۔ کوئی چیخ بھی نہیں رہا تھا—کیونکہ چیخنے کے لیے کسی کے پاس سانس ہی نہیں بچی تھی۔ لوگ سڑک پر گھٹنوں کے بل گر رہے تھے۔
تب سارہ کی نظر آسمان پر گئی۔
آسمان پر بینگنی بادل عجیب طرح سے چمک رہے تھے۔ اور سب سے خوفناک بات—سڑک کے کنارے لگے پرانے، گھنے درخت تیزی سے مرجھا رہے تھے۔ ان کے ہرے پتے دیکھتے ہی دیکھتے مٹی کے رنگ میں بدلے اور راکھ بن کر جھڑنے لگے۔
سارہ نے گھبراہٹ میں اپنا پرانا ایمرجنسی ریڈیو اٹھایا اور ڈائل گھمانے لڑکی۔ بہت زیادہ سٹیٹک کے بعد ایک کانپتی ہوئی، اکھڑی سانسوں والی آواز سنائی دی:
> "۔۔۔اگر کوئی مجھے سن سکتا ہے، تو فوراً اپنے گھر کے کھڑکی دروازے بند کر لے! کسی طرح کی آگ مت جلائیں۔ سمندر کے اوپر سے شروع ہونے والے ایک عجیب کیمیکل ری ایکشن نے ہماری ہوا کی آکسیجن کو ایک بھاری، بینگنی رنگ کے پاؤڈر میں بدلنا شروع کر دیا ہے۔ دنیا کے تمام پودے اور درخت مر چکے ہیں۔ ہمارے پاس اس زمین پر سانس لینے کے لیے صرف 48 گھنٹے کی آکسیجن بچی ہے۔۔۔ خدا ہم پر رحم کرے—"
>
ریڈیو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔
کھڑکی کے باہر، بینگنی رنگ کے پاؤڈر کے چھوٹے چھوٹے ذرے برف کی طرح گرنے لگے تھے، جو دھیرے سے سارہ کی کھڑکی کے شیشے پر آکر جم گئے۔

Address

Rawalpindi

Telephone

+923352578772

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Creative mind posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category