Zubaria aesthetic

Zubaria aesthetic I love the quality of pencil. It helps me to get to the core of the thing

01/02/2024

فَاُ ولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّعْفُوَ عَنْهُمْ ۗ وَكَا نَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا
"بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کر دے، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے"
(An-Nisa' 4: Verse 99)

28/06/2023
کہاں آکے رکنے تھے راستے ، کہاں موڑ تھا ، اسے بھول جاوہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جاوہ ترے نصیب کی با...
24/03/2023

کہاں آکے رکنے تھے راستے ، کہاں موڑ تھا ، اسے بھول جا
وہ جو مل گیا اسے یاد رکھ ، جو نہیں ملا اسے بھول جا

وہ ترے نصیب کی بارشیں کسی اور چھت پہ برس گئیں
دلِ بے خبر مری بات سن اسے بھول جا ، اسے بھول جا

میں تو گم تھا تیرے ہی دھیان میں ، ترِی آس ، تیرے گمان میں
صبا کہ گئی مرے کان میں ، میرے ساتھ آ ، اسے بھول جا

کسی آنکھ میں نہیں اشکِ غم ، ترے بعد کچھ بھی نہیں ہے کم
تجھے زندگی نے بھلا دیا ، تو بھی مسکرا ، اسے بھول جا

کہیں چاکِ جاں کا رفو نہیں ، کسی آستیں پہ لہو نہیں
کہ شہیدِ راہِ ملال کا نہیں خوں بہا ، اسے بھول جا

کیوں اَٹا ہوا ہے غبار میں ، غمِ زندگی کے فشار میں
وہ جو درد تھا ترے بخت میں ، سو وہ ہو گیا ، اسے بھول جا

نہ وہ آنکھ ہی تری آنکھ تھی ، نہ وہ خواب ہی ترا خواب تھا
دلِ منتظر تو یہ کس لئے ترا جاگنا ، اسے بھول جا

یہ جو رات دن کا ہے کھیل سا ، اسے دیکھ ، اس پہ یقیں نہ کر
نہیں عکس کوئی بھی مستقل سرِ آئنہ ، اسے بھول جا

جو بساطِ جاں ہی الٹ گیا ، وہ جو راستے سے پلٹ گیا
اسے روکنے سے حصول کیا ، اسے مت بلا ، اسے بھول جا

تو یہ کس لئے شبِ ہجر کے اسے ہر ستارے میں دیکھنا
وہ فلک کہ جس پہ ملے تھے ہم ، کوئی اور تھا ، اسے بھول جا

تجھے چاند بن کے ملا تھا جو ، ترے ساحلوں پہ کھلا تھا جو
وہ تھا اک دریا وصال کا ، سو اتر گیا اسے بھول جا

ہم اپنی سانسیں تیرے نام کرتے ہیںاے وطن ہم تیری عظمت کو سلام کرتے ہیںیا اللّٰہ ہمارے ملک پاکستان کی حفاظت فرما۔ اسے اندرو...
23/03/2023

ہم اپنی سانسیں تیرے نام کرتے ہیں
اے وطن ہم تیری عظمت کو سلام کرتے ہیں
یا اللّٰہ ہمارے ملک پاکستان کی حفاظت فرما۔ اسے اندرونی اور بیرونی سازشوں سے محفوظ فرما اور ہماری دعاؤں کو قبول فرما۔آمین۔

We are born of love; Love is our mother,"
01/02/2023

We are born of love;
Love is our mother,"

No one in the world needs on elephant tusk but  an elephant.
26/01/2023

No one in the world needs on elephant tusk but an elephant.

Address

Rawalpindi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zubaria aesthetic posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Museum

Send a message to Zubaria aesthetic:

Share

Category