The Great Rajputs

The Great Rajputs Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from The Great Rajputs, History Museum, Rawalpindi West Ridge.

The Rajput code of honour calls for a very high standard of character, and that this high standard has been uninterruptedly maintained is shown by their present ready response to the call to arms.

،جناب  راجہ شفقت نواز بڑھنگ صاحب کو پاک فوج کے میجر جنرل کے باوقار عہدے پر ترقی پانے پر دلی مبارکباد پیش کرتی ہے۔یہ اعزا...
09/07/2026

،جناب راجہ شفقت نواز بڑھنگ صاحب کو پاک فوج کے میجر جنرل کے باوقار عہدے پر ترقی پانے پر دلی مبارکباد پیش کرتی ہے۔
یہ اعزاز نہ صرف ان کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، غیر معمولی خدمات، قیادت اور انتھک محنت کا اعتراف ہے بلکہ پورے بڑھنگ خاندان، چِب قبیلے اور وطنِ عزیز پاکستان کے لیے بھی باعثِ فخر ہے۔
اس موقع پر ہم راجہ طاہر عاشق بڑھنگ، راجہ ندیم عاشق بڑھنگ، ان کے اہلِ خانہ اور تمام اہلیانِ بڑھنگ کو بھی دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ میجر جنرل راجہ شفقت نواز بڑھنگ اپنی قائدانہ صلاحیتوں، پیشہ ورانہ مہارت اور حب الوطنی کے جذبے کے ساتھ مستقبل میں بھی پاک فوج اور ملک و قوم کی خدمت کے روشن سفر کو مزید کامیابیوں سے ہمکنار کریں گے۔
اللہ تعالیٰ انہیں صحت، عزت، مزید کامیابیاں اور اپنے فرائض منصبی کی بہترین ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے، اور وطنِ عزیز کی حفاظت و سربلندی کے لیے ان کی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے۔
آمین ثمہ آمین

میجر جنرل راجہ وسیم عارف کو ترقی پر دلی مبارکباد!!چِب راجپوت کونسل پاکستان، بریگیڈیئر راجہ وسیم عارف صاحب کو پاک فوج کے ...
09/07/2026

میجر جنرل راجہ وسیم عارف کو ترقی پر دلی مبارکباد!!
چِب راجپوت کونسل پاکستان، بریگیڈیئر راجہ وسیم عارف صاحب کو پاک فوج کے میجر جنرل کے باوقار عہدے پر ترقی پانے پر دلی مبارکباد اور نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہے۔
میجر جنرل راجہ وسیم عارف صاحب، کرنل (ر) راجہ خلیل عارف صاحب (خانکہ کوٹیڑہ، تحصیل چڑھوئی، ضلع کوٹلی) کے صاحبزادے ہیں، جبکہ ڈی آئی جی آزاد کشمیر پولیس راجہ شہریار سکندر اور ایس پی نیلم ویلی راجہ ندیم عارف کے کزن ہیں۔ ان کی یہ شاندار ترقی ان کی غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، مثالی قیادت، فرض شناسی، دیانت داری اور وطنِ عزیز پاکستان سے بے لوث وابستگی کا عملی اعتراف ہے۔
یہ اعزاز نہ صرف ان کے معزز خاندان بلکہ پوری چِب راجپوت قبیلے اور قوم کے لیے باعثِ فخر و مسرت ہے۔ پاک فوج میں اعلیٰ عسکری منصب پر فائز ہونا برسوں کی محنت، نظم و ضبط، پیشہ ورانہ مہارت اور قومی خدمت کے جذبے کا ثمر ہوتا ہے، اور میجر جنرل راجہ وسیم عارف صاحب نے اپنی خدمات کے ذریعے اس اعتماد کو بخوبی حاصل کیا ہے۔
چِب راجپوت کونسل پاکستان اس پرمسرت موقع پر کرنل (ر) راجہ خلیل عارف صاحب، اہلِ خانہ، عزیز و اقارب اور تمام اہلیانِ خانکہ کوٹیڑہ کو بھی دلی مبارکباد پیش کرتی ہے اور اس کامیابی کو پوری برادری کے لیے باعثِ افتخار قرار دیتی ہے۔
ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ میجر جنرل راجہ وسیم عارف صاحب کو مزید عزت، کامیابیاں، صحت، استقامت اور پیشہ ورانہ سربلندی عطا فرمائے، انہیں وطنِ عزیز کی خدمت اور دفاع کی مزید توفیق دے، اور ان کے لیے ہر میدان میں آسانیاں اور کامیابیاں مقدر فرمائے۔
آمین ثمہ آمین
دعاگو۔

22/05/2026

تواریخ راجپوتاں کا قسط وار سلسلہ بہت جلد دوبارہ شروع کیا جائے گا

22/05/2026

راجپوتوں !
اپنی گوت اور گاؤں کا نام کمنٹ کریں اور آپکے ضلع میں کون سے راجپوت قبائل آباد ہیں ؟

26 مارچ یوم شہادت دلا بھٹی دلا بھٹی جو کہ پنجاب کی تاریخ کے مایہ ناز کردار ہوئے اپنی دلیری اور مؤقف پہ ڈٹے رہنے کی وجہ س...
26/03/2026

26 مارچ یوم شہادت دلا بھٹی

دلا بھٹی جو کہ پنجاب کی تاریخ کے مایہ ناز کردار ہوئے اپنی دلیری اور مؤقف پہ ڈٹے رہنے کی وجہ سے تقریباً چار سو سال قبل آج کے روز سولی پہ چڑھا دیے گئے

28/01/2026

راجپوت بھائی اپنی اپنی گوت اور گاؤں کا نام کمنٹ کریں

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 56عنوان : راجہ راوک یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی راجہ راوک ...
24/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 56
عنوان : راجہ راوک یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ راوک یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

راوک سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی محبت کے ہیں

راجہ راوک کا اصل نام راوھک تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام راوک ، راوھک ، راوک وغیرہ درج ہے

راجہ راوک اپنے والد بھوج شورسینی یادو بنسی کے بعد شورپورہ کے تخت پہ حاکم مقرر ہوئے - راجہ مذکور نے اس شہر کو خوب رونق بخشی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شورپورہ کو ایک خوبصورت شہر مانا جاتا تھا

راجہ راوک کے بیٹوں میں راجہ دیومیدھ زیادہ معروف ہوئے جو کہ بعد ازاں والئی ریاست بنے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ راوک کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ راوک کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت اور راجپوت گوتیں از اعجاز سمبڑیالوی صفحہ نمبر 33

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ راوک درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ راوک کا نام درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ راوک کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ راوک کا نام راوک ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از مولانا نور محمد و فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ راوک کا نام درج ہے

راجہ راوک یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ راوک کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ بھوج یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ راوک کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
راوک بن بھوج بن سینی بن سور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 55عنوان : راجہ بھوج یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی راجہ بھوج ...
23/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 55
عنوان : راجہ بھوج یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ بھوج یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

بھوج سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی عظیم بزرگ کے ہیں

راجہ بھوجہ کا اصل نام بھوج تھا جبکہ تواریخ کی مختلف کتب میں آپ کا نام بھوج ، بھج ، بھوجہ وغیرہ درج ہے

راجہ بھوج اپنے والد سینی یادو بنسی کے بعد شورپورہ کے تخت پہ حاکم مقرر ہوئے - راجہ مذکور نے اس شہر کو خوب رونق بخشی یہی وجہ ہے کہ اس دور میں شورپورہ کو ایک خوبصورت شہر مانا جاتا تھا

راجہ سینی کے بیٹوں میں صرف بھوج کا تذکرہ تاریخ کے اوراق میں ملتا ہے

تاریخ میں راجہ بھوج ایک گمنام یا معمولی حیثیت و اقتدار کے حکمران ثابت ہوئے

قدیم راجپوت کھشتریوں کے متعلق مختلف مصنفین و محققین کی تحقیق درج ذیل ہیں :

مولوی نجم الغنی رامپوری کی کتاب "تاریخِ راجگانِ ہند" کے صفحہ نمبر 85 پہ درج ہے :
"چندر بنسی لوگ ہندوستان میں بڑے زبردست تھے"

کتاب "تاریخِ پاکستان قدیم دور" از یحییٰ امجد صفحہ نمبر 427 پہ درج ہے :
"پانچ بڑے (آریہ) قبائل کے نام یہ تھے یادو ، پورو ، انو ، تروسو اور دروھو"

کتاب "مکمل تاریخِ سُودان" از سلامت رائے دوساج صفحہ نمبر 20 پہ درج ہے :
"قدیم الایام سے کھشتری راج کے مالک چلے آئے - سورج بنس اور چندر بنس دو بنس چلے"

راجہ بھوج کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کتب میں مختلف ناموں سے کیا گیا ہے :
راجگان میوات از خانزادہ امان نوشہروی صفحہ نمبر 26 پہ راجہ بھجن کا تذکرہ ملتا ہے

تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10 پہ بھی راجہ مذکور کے نام کے تلفظ بھوج درج ہیں

کتاب تاریخِ میو چھتری از حکیم عبدالشکور صفحات نمبر 192 اور 207 پہ راجہ بھوج کا نام درج ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحہ نمبر 464 پہ راجہ بھوج کا ذکر ملتا ہے

تاریخِ راجپوت بھٹی از راجہ محمد انور جنجوعہ صفحہ نمبر 5 پہ راجہ بھوج کا نام بھوج ہی درج ہے

امین التواریخ دھیرکے بھٹیاں از مولوی نور محمد و فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 کے مطابق راجہ بھوج کا نام درج ہے

راجہ بھوج یادو بنسی کا تذکرہ کئی کتابوں میں درج ہے اور راجپوت گوتوں کے شجرہ نسب میں بھی راجہ بھوج کا نام بھی کئی قبائل کے مورثِ اعلیٰ کے طور پہ درج ہے - کئی راجپوت قبائل راجہ بھوج یادو بنسی کے جانشین اور وارث ہیں ، ان قبائل میں بھٹی ، سمہ ، جاڑیجہ ، جادون ، چوڑاسمہ ، پال اور چھوکر قابلِ ذکر ہیں

قوم قبیلہ ہمیشہ پہچان کے لیے ہوتا ہے لہٰذا اپنے خاندان کے متعلق اور اپنے اجداد کے متعلق علم جاننا ضروری ہے لیکن اپنے نسب پہ اترانا مناسب نہیں اور اپنا نسب بدلنا بھی گناہ ہے

راجہ بھوج کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
بھوج بن سینی بن سور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 54عنوان : راجہ سینی عرف شینی یادو ونشی چندرا ونشی راجپوتتحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی ر...
19/01/2026

تواریخِ راجپوتاں قسط نمبر 54
عنوان : راجہ سینی عرف شینی یادو ونشی چندرا ونشی راجپوت
تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

راجہ سینی یادو ونشی چندر ونشی راجپوت کھشتریا آریہ

سینی سنسکرت زبان کا لفظ ہے جس کے معنی لشکر والا یا شیر کے ہیں

راجہ شور نے اپنی حیات میں ہی شورپورہ کا والئی اپنے بڑے بیٹے شینی کو مقرر کیا -

راجہ شینی کے والد شُور نے اپنے نام سے ایک نیا شہر شُورپورہ بسایا جو متھرا کے نواح میں واقع تھا - اس شہر کو مرکزی مقام دے کر یادو بنس نے خوب رونق بخشی

راجہ شینی کا تذکرہ تواریخ کی مختلف کُتب میں شینی یا سینی کے نام سے ہوا ہے

راجہ شور کے بیٹے سینی نے اپنے نام اور اپنے والد (شُور) نے نام سے شور سینی ونش چلایا اور اسی نام سے سموت اور ادبی خدمات بھی انجام دیں

یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں شورسین ریاست میں بولی جانے والی زبان کو شورسینی سنسکرت کہا جاتا تھا اور اسی شورسینی زبان کی شاخوں میں پنجابی ، سندھی ، مارواڑی ، راجستھانی ، گجراتی ، مہاراشٹری ، اتر پردیش ، ہریانوی اور پہاڑی کشمیری وغیرہ قابلِ ذکر ہیں - کتاب "تین ہندوستانی زبانیں از ڈاکٹر کے ایس بیدی" صفحات نمبر 64 تا 66 پہ شورسینی زبان کے متعلق مفصل معلومات درج ہے

راجہ شینی کا تذکرہ تواریخ کی جن کتب میں آیا ہے وہ درج ذیل ہیں :
تاریخِ بھٹی راجپوت از ولی محمد صفحہ نمبر 10

تاریخِ میو چھتری از حکیم عبد الشکور صفحہ نمبر 192-207 جبکہ 204 نمبر صفحہ پہ یادو ونش کی راجدھانیوں میں شُورپورہ کا تذکرہ ملتا ہے

نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق صفحات نمبر 257 تا 265 تک شورسینی راجپوتوں کا مفصل تذکرہ موجود ہے
نجم التواریخ از منشی عاشق علی ناطق کے صفحہ نمبر 457 پہ راجہ شُور سے متعلق کچھ یوں درج ہے :
شری برہما جی کے فرزند کا نام اترے اور ان کے پوتے کا نام سمدر اور سمدر کے لڑکے کا نام سوم یعنی چندر تھا
اور یہی بانئِ خاندان چند بنسی ہوا ۔ لیکن سوم کے بعد سات پشتیں گزر گئیں تو ججات کا جنم ہوا -
جو اپنے زمانہ میں نہ میں چکرورتی اور بڑا نامور مہاراجہ ہو گزرا ہے ۔ اس کے سب سے بڑے بیٹے کا نام یادو تھا ۔ اس کے نام سے قوم یادو بنسی مشہور ہوئی مہاراجہ یادو کے بیالیس (42) پشت تک یادو کی اولاد یادو بنسی کہلاتی رہی لیکن اس کے بعد یادو بنسی قوم میں مہاراجہ دُورتہ کا بیٹا شُور نامی پیدا ہوا اور شُور کا بیٹا سینی کے نام سے موسوم ہوا - انہی باپ بیٹوں کے نام سے شورسینی قوم مشہور ہوئی - جو راجہ پرتابی ، تپستوی اور رعایا کو امن و امان سے رکھتا تھا وہ ایشور بھگت ہوتا تھا - اس کے نام سے قوموں کے نام مشہور ہو جاتے تھے - مہاراجہ شُور بڑا ایشور بھگت اور پرادپکاری تھا - شورسینی قوم کا بڑا مشہور شہر شُورپورہ اس کے نام پہ بسایا گیا - اور اس کے بیٹے سینی کے بھی اسی طرح ایشور پرست اور نہایت نیک تھا ۔ یہ دونوں باپ بیٹا بڑے مدبر ، عالی حوصلہ ، قول کے دھنی اور نیکی اور بہادری کی زنده منور مورتی ہونے کی وجہ سے ان کے اوصاف کے ترانے اب تک متھرا اور دیگر شور سینی علاقہ کے لوگ گاتے ہیں۔ ان کے رعایا کے ہر دلعزیز ہونے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ قوم کا نام جو 42 پشتوں سے یادو بنسی چلا آتا تھا ، شور سینی پڑ گیا
سینی کے بعد پانچ پشت تک کے فرمانروا شور سینی کہلاتے رہے یعنی شور اور سینی کے بعد اور شری کرشن جی سے قبل شورسینی بنس مشہور رہا ۔ مگر شری کرشن جی کے عہد میں شور سینی بنس کی بجائے یادو بنس زیادہ مروج رہا

مرقع میوات از خانزادہ شرف الدین احمد شرف صفحہ نمبر 23 پہ درج ہے :
راجہ دُورتھ کا بیٹا شور اور اس کا بیٹا سینی پیدا ہوا - تو انہی باپ بیٹوں کے نام پر قوم کا نام جادو بنسی سے بدل کر شورسینی مشہور ہوگیا - جو راجہ زیادہ زبردست اور دھرماتما ہوا ہے اس کے نام پر قوموں کا نام بھی مشہور ہوتے رہے ہیں لیکن راجہ سینی کے بعد صرف پانچ پشت تک ہی یہ نام مشہور رہا اسکے بعد سری کرشن کے زمانے میں وہی سابقہ یادو نام مشہور ہوا -
امین التواریخ از مولانا نور محمد معاون فقیر محمد امین ولی صفحہ نمبر 12 پہ راجہ شور کا نام درج ہے
راجہ انور جنجوعہ کی کتاب "تاریخ بھٹی راجپوت" کے صفحہ نمبر 5 پہ دیے گئے شجرہ نسب میں راجہ شور بن دیورت کا نام درج ہے

راجہ شینی کا شجرہ نسب کچھ یوں ہے :
شینی بن شُور بن دیورَتھ بن بھجمن بن اندھک بن ستوتی بن جنتو بن پدروپ بن گنتی بن پروہت بن دروسو بن مادھو بن دیوچھیتر بن دیورتھ بن کُرو بن کرنتک بن شکونی بن دُورتھ بن بھیم رتھ بن رشبہہ بن جمنتہ بن دھرشٹی بن لومپاد بن کیسک بن دروب بن سہپال بن جموگ بن بھوسمان بن پرتھوکم بن رکمیس بن رکمو بن درسو بن کومل بن مورت بن تیگی بن اوسن بن سجاکوکیہ بن سروپ رتھ بن ششی بندھو بن چترتھ بن اردبھنگ بن شواہی بن ورج نوان بن کروشٹہ بن یادو بن ییاتی بن نہوش بن آیوش بن پوروروا بن بدھ بن چندر مان بن اتری بن براہمہ

تحقیق و تحریر : راجہ معراج عباس بھٹی

کھوکھر راجپوتکچھ کم علم یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کو اپنے چشمے سے پڑھنے والے یا تاریخ میں بغض و حسد رکھنے والے افر...
18/01/2026

کھوکھر راجپوت

کچھ کم علم یا یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کو اپنے چشمے سے پڑھنے والے یا تاریخ میں بغض و حسد رکھنے والے افراد کھوکھر راجپوتوں کی تاریخ سے ناواقف ہیں

کھوکھر راجپوتوں کی نسبی عظمت ہر محقق جانتا ہے - جنہیں اس خاندان کی تاریخ کا علم نہیں وہ تحقیق کرے -

مہابھارت سے بھی پرانی تاریخ رکھنے والے کھوکھر دراصل چندر ونشی راجپوتوں کا ایک مشہور اور مقبول قبیلہ ہے

Address

Rawalpindi West Ridge
RAWALPINDI

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when The Great Rajputs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category