𝐓𝐮𝐫𝐤 𝐓𝐫𝐢𝐛𝐞 𝐇𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐲

𝐓𝐮𝐫𝐤 𝐓𝐫𝐢𝐛𝐞 𝐇𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐲 Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from 𝐓𝐮𝐫𝐤 𝐓𝐫𝐢𝐛𝐞 𝐇𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐲, History Museum, Manshria, Peshawar.

This page is for all Turks who are interested in history A priceless gift for quality posting please{ like & follow }Special thanks to all our Turk brothers, like to extend our heartfelt. ⚔️
Hazara History Turk State Pakhli Government.{1399-1703}🇵🇰

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ😭   #راشدخان 🦅🐺🐎👑
28/04/2026

إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ😭


#راشدخان 🦅🐺🐎👑

💥 ریاست ستِ پکھلی سرکار: 554 سالہ عظمتِ ہزارہ اور قرلق ترکوں کا عہدِ زریں💥🌸ہزارہ کی تاریخ کا ذکر جب بھی آئے گا، قرلق تر...
27/04/2026

💥 ریاست ستِ پکھلی سرکار: 554 سالہ عظمتِ ہزارہ اور قرلق ترکوں کا عہدِ زریں💥

🌸ہزارہ کی تاریخ کا ذکر جب بھی آئے گا، قرلق ترکوں اور ان کی عظیم ریاست "پکھلی سرکار" کا نام ایک درخشاں ستارے کی مانند چمکے گا۔ یہ صرف ایک حکمرانی کا قصہ نہیں، بلکہ ساڑھے پانچ صدیوں پر محیط ایک ایسی تہذیب کی داستان ہے جس نے کوہساروں کے اس خطے کو علم، عدل اور شجاعت کا گہوارہ بنا دیا۔🌸

‼️ تاریخی یخی پس منظر اور بنیاد‼️
قرلق ترک، جو وسطی ایشیا کے جنگجو اور منتظم قبائل تھے، اس خطے میں اس وقت استحکام لائے جب ہر طرف افراتفری کا عالم تھا۔ 554 سال قبل جس ریاست کی بنیاد مضبوط ہوئی، اس نے نہ صرف اپنی سرحدوں کی حفاظت کی بلکہ وسطی ایشیا اور ہندوستان کے درمیان ایک ثقافتی پل کا کردار بھی ادا کیا۔

پکھلی سرکار کی وسعت موجودہ ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور کشمیر کے کچھ حصوں تک پھیلی ہوئی تھی، جس کا مرکز (دارالحکومت) اکثر "گلی باغ" اور "پکھل" کے علاقے رہے۔‼️

💥عہدِ بابری اور پکھلی سرکار💥
ظہیر الدین محمد بابر، جو خود ایک عظیم ترک فاتح اور مغل سلطنت کے بانی تھے، اپنی سوانح "تزکِ بابری" میں پکھلی سرکار اور یہاں کے ترک حکمرانوں کا ذکر احترام کے ساتھ کرتے ہیں۔ اس دور میں یہ ریاست مغلوں کی ایک مضبوط حلیف اور شمالی سرحدوں کی محافظ کے طور پر ابھری۔
اتحاد و دوستی: مغل شہنشاہوں اور پکھلی کے سلاطین کے درمیان گہرے مراسم رہے۔

دفاعی اہمیت: یہ ریاست درہ خیبر اور کشمیر کے راستوں پر نظر رکھنے کے لیے تزویراتی طور پر انتہائی اہم تھی۔
عدل، شجاعت اور تہذیب کے تین سو سال
پکھلی سرکار کے دورِ حکومت کو تین بنیادی ستونوں پر پرکھا جا سکتا ہے:

عدل و انصاف: قرلق حکمرانوں نے مقامی قبائل کے درمیان منصفانہ نظام قائم کیا، جس سے علاقے میں طویل امن و امان رہا۔

شجاعت: "ہزارہ" کا نام ہی ان ترک دستوں (ہزارہ جات) سے منسوب ہے جو اپنی بہادری میں بے مثال تھے۔
علم و فن: اس دور میں مساجد، سرائیں اور قلعے تعمیر کیے گئے جو فنِ تعمیر کا اعلیٰ نمونہ تھے۔

👑 سلطان طان محمود خورد: ایک عہد کا اختتام👑
ریاستِ پکھلی سرکار کے آخری طاقتور حکمران سلطان محمود خورد تھے۔ ان کا دورِ حکومت جہاں وقار کا حامل تھا، وہی بدلتے ہوئے سیاسی حالات اور اندرونی و بیرونی سازشوں کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوا۔ ان کی وفات اور ریاست کے زوال کے بعد بھی قرلق ترکوں کی علمی اور خاندانی وجاہت برقرار رہی، لیکن وہ سیاسی مرکزیت ختم ہو گئی جس نے ساڑھے پانچ سو سال تک اس خطے کو متحد رکھا تھا۔

🖊️حاصلِ مطالعہ: عروج و زوال کا سبق🖊️
پکھلی سرکار کے 554 سالہ سفر سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ:
نظم و ضبط (Discipline): کسی بھی قوم کی بقا اس کے مضبوط انتظامی ڈھانچے میں ہے۔
رواداری: مختلف قبائل کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنا قرلق ترکوں کا بڑا کارنامہ تھا۔
تعلیم و ثقافت: طاقت صرف تلوار سے نہیں بلکہ تہذیبی برتری سے دیرپا بنتی ہے۔

🌞خلاصہ🌞
آج جب ہم عظمتِ ہزارہ اور قرلق ترکوں کی اس عظیم ریاست کی یاد مناتے ہیں، تو یہ صرف ماضی کی یادوں کو تازہ کرنا نہیں ہے، بلکہ اپنے اسلاف کے چھوڑے ہوئے عدل اور اتحاد کے ورثے کو اپنانے کا عہد ہے۔ ریاستِ پکھلی سرکار تاریخ کے اوراق میں ہمیشہ ایک ایسی ریاست کے طور پر زندہ رہے گی جس نے سنگلاخ پہاڑوں میں انسانیت اور تہذیب کے دیپ جلائے۔‼️

🎊554سالہ عظمتِ ہزارہ تمام محبِ وطن اور تاریخ پسندوں کو مبارک ہو۔👏

#راشدخان 🦅🐺🐎👑

ترک برادری کی تاریخ صرف طاقت کی نہیں بلکہ انصاف، علم، تہذیب اور ترقی کی تاریخ ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ترک متحد ہوئے ت...
26/04/2026

ترک برادری کی تاریخ صرف طاقت کی نہیں بلکہ انصاف، علم، تہذیب اور ترقی کی تاریخ ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ترک متحد ہوئے تو برصغیر میں امن، ترقی اور خوشحالی آئی۔ قرلق ترک حکمرانوں نے صرف حکومت نہیں کی بلکہ علم، فن تعمیر، عدل اور بھائی چارے کو فروغ دیا۔ ، گلی باغ ، مانسہرہ جیسے شاہکار آج بھی ہماری عظیم تاریخ کے گواہ ہیں۔
لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ جب اتحاد کمزور ہوا، اختلافات بڑھے، تو طاقت بھی کمزور ہو گئی۔ یہی تاریخ ہمیں سبق دیتی ہے کہ اگر ہمیں اپنی برادری کو مضبوط بنانا ہے تو ہمیں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑنا ہوگا، نہ کہ ایک دوسرے سے فاصلے بڑھانے ہوں گے۔
آج وقت کی ضرورت ہے:
ہم اپنے نوجوانوں کو تعلیم دیں 📚
ایک دوسرے کے کاروبار کو سپورٹ کریں 🤝
غریب اور کمزور افراد کا سہارا بنیں ❤️
اپنے بزرگوں کا احترام کریں 🙏
اپنی نئی نسل کو اپنی تاریخ سے آگاہ کریں 🏛️
اگر ہم متحد ہوں گے تو ہماری برادری نہ صرف معاشی طور پر مضبوط ہوگی بلکہ سماجی اور سیاسی طور پر بھی ایک طاقت بنے گی۔
ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ترک برادری کی طاقت کسی ایک فرد سے نہیں بلکہ سب کے اتحاد سے بنتی ہے۔ جب ہم ایک پلیٹ فارم پر آئیں گے، ایک آواز بنیں گے، تو کوئی بھی ہمیں نظر انداز نہیں کر سکے گا۔
آئیں آج ہم عہد کریں:
ہم اختلاف نہیں کریں گے
ہم تقسیم نہیں ہوں گے
ہم ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے
ہم ترک برادری کو متحد اور مضبوط بنائیں گے
آخر میں، میں یہی کہنا چاہوں گا:
اتحاد میں طاقت ہے، یکجہتی میں کامیابی ہے، اور بھائی چارے میں ترقی ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں متحد رہنے، ایک دوسرے کا ساتھ دینے اور اپنی برادری کو ترقی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔
بہت شکریہ 🙏 تحریر-- راشد ترک

#راشدخان 🦅👑🐺🐎

آزاد جموں و کشمیر کی قانون دان برادری اور خاص طور پر ترک برادری کے لیے یہ ایک نہایت مسرت اور فخر کا مقام ہے کہ دو انتہائ...
24/04/2026

آزاد جموں و کشمیر کی قانون دان برادری اور خاص طور پر ترک برادری کے لیے یہ ایک نہایت مسرت اور فخر کا مقام ہے کہ دو انتہائی قابل اور محنتی وکلاء، جناب اقبال خان ترک ایڈووکیٹ اور جناب فیصل ترک ایڈووکیٹ کو سپریم کورٹ آف آزاد جموں و کشمیر کے ایڈووکیٹ کے طور پر منتخب کر لیا گیا ہے۔
یہ محض ایک عہدہ نہیں بلکہ ان کی برسوں کی محنت، دیانت داری اور قانون کی بالادستی کے لیے ان کی جدوجہد کا اعتراف ہے۔

💥ترکانِ آزاد کشمیر کا علمی و قانونی ورثہ💥
آزاد کشمیر میں ترک برادری اپنی بہادری، سیاسی شعور اور علمی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ سے نمایاں رہی ہے۔ اب قانونی محاذ پر اقبال خان ترک اور فیصل ترک کی سپریم کورٹ تک رسائی نے اس تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ کر دیا ہے۔ کسی بھی قوم یا برادری کے لیے اس کے سپوتوں کا اعلیٰ عدلیہ کے ایوانوں تک پہنچنا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ وہ برادری انصاف کی فراہمی اور آئین کی پاسداری میں اپنا بھرپور کردار ادا کر رہی ہے۔

‼️ تجربہ اور بصیرت‼️
اقبال خان ترک صاحب کا شمار ان وکلاء میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں ہمیشہ اخلاقی اقدار کو مقدم رکھا۔ سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ بننا ان کے لیے ایک فطری سنگ میل تھا کیونکہ:
قانونی گرفت: انہوں نے پیچیدہ قانونی معاملات کو سلجھانے اور عدالتوں میں مدلل گفتگو کرنے میں ہمیشہ مہارت دکھائی۔
سماجی وقار: وہ نہ صرف بار (Bar) میں بلکہ عوام میں بھی اپنی منصفانہ سوچ کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
رہنمائی: جونیئر وکلاء کے لیے ان کی شخصیت ہمیشہ ایک مینارِ نور رہی ہے۔

فیصل ترک ایڈووکیٹ: عزم اور ولولہ
فیصل ترک صاحب نے اپنی انتھک محنت باریک بینی سے مطالعہ کرنے کی عادت کے باعث بہت کم وقت میں اپنا لوہا منوایا۔ ان کی سپریم کورٹ تک رسائی درج ذیل صفات کا نتیجہ ہے:
وہ جدید دور کے قانونی تقاضوں اور چیلنجز سے بخوبی واقف ہیں۔
ثابت قدمی: عدالت عظمیٰ کا لائسنس حاصل کرنا ایک کٹھن مرحلہ ہوتا ہے، جسے انہوں نے اپنے عزم و استقلال سے عبور کیا۔
برادری کا فخر: ان کی اس کامیابی نے نوجوان نسل کے لیے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر لگن سچی ہو تو منزلیں خود قدم چومتی ہیں۔

💥مستقبل کے لیے توقعات💥
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ بننے کے بعد اب ان دونوں معزز شخصیات پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ:
وہ مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔
عدالت عظمیٰ کے وقار میں اضافے اور قانون کی تشریح میں اہم کردار ادا کریں گے۔
آزاد کشمیر کے عدالتی نظام کی بہتری کے لیے بار اور بینچ کے درمیان ایک مضبوط پل کا کام کریں گے۔

اقبال خان ترک ایڈووکیٹ اور فیصل ترک ایڈووکیٹ کو یہ اعزاز مبارک ہو۔ یہ کامیابی نہ صرف ان کے خاندانوں اور ترک برادری کی ہے، بلکہ یہ پوری ریاست کے قانونی نظام کے لیے ایک خوش آئند بات ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں حق اور سچ کے راستے پر ثابت قدم رکھے اور انہیں مزید کامیابیوں سے نوازے۔ آمین!

#راشدخان 🐺🐎👑🦅

24/04/2026

فخر ترک قوم
فخر اتلہ،گدون،صوابی
جناب ندیم احمد ترک صاحب

*فخر اتلہ، فخر گدون، فخر صوابی فاسٹ ٹریک پرموشن کے تحت سب انسپکٹر سے ترقی پاکر انسپکٹر عہدے پر ترقی*

ندیم خان ترک DSP ٹریننگ کو بہترین کارکردگی پر IGP خیبر پختونخواں نے سرٹیفکیٹ سے نوازا۔
مبارکباد جناب

پولیس ٹریننگ سکول صوابی کے چیف لاء انسٹرکٹر ندیم احمد ترک خیبر پختونخواہ پبلک سروس کمیشن کے زیر انتظام منعقدہ فاسٹ ٹریک پرموشن امتحان پاس کرنے پر سب انسپکٹر سے انسپکٹر کے عہدے پر ترقی پاگئے۔ انہوں نے پورے خیبرپختونخواہ میں تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔
ایماندار پولیس افسر ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھاتا ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں رشوت یا غیر قانونی فائدہ لینے سے گریز کرتا ہے اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اس کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ہوتا ہے، اور وہ ہمیشہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کی اخلاقی اقدار، بہادری، اور جذبہ خدمت دوسروں کے لئے مثال ہوتے ہیں، اور اس کا کردار عوام میں اعتماد اور احترام پیدا کرتا ہے۔ ایماندار پولیس افسر اپنی فرض شناسی سے معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کی محبت اور احترام کا برتاؤ لوگوں کو اس پر بھروسہ کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور ہماری خوش قسمتی ہے

امید کرتے ہیں کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے, جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اور جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے..

اللہ تعالی اپنے حفظ و امان میں رکھے اور نظر بد سے بچائے امین ثم امین

#راشدخان 🐎🐺🔥

24/04/2026

# ::ـــــ
پوسٹ (2)

▪️لفظ ترک کے معانی:_____

"ترکستان کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کی بڑی شاخ تاتار ہی اور ان کی زبان معین ہے ( انجمن آرا )."

"ترک ایک قوم کا نام ہے جو کہ ترک نامی شخص سے منسوب ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کی نسل سے میں سے تھا " (غیاث اللغات).
"کہتے ہیں کہ ترک قوم یافث بن نوح علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں " (برھان)

لفظ ترک کے نام پر تاریخ میں پہلی سلطنت چھٹی صدی عیسوی میں "گوک ترک حکومت" کے نام سے ملتی ہیں جس میں بدوی ترکوں نے ایک مضبوط و عظیم سلطنت قائم کی تھی، جو مغولستان اور شمالی چین کی سرحد سے بحر اسود تک مشتمل تھی " (تاریخ طبری جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 895-896 ).

لفظ ترک کے لغوی معنی ہیں خود کے ٹوپی کے ہے ( لوہے کی ٹوپی جو ھنگام جنگ میں پہنی جاتی تھی )(فرھنگ رشیدی) ( فرھنگ جہانگیری ).

ترکستان میں ایک دریا کا نام بھی ہیں جو کہ سیحون میں ہہتا ہے ( سر زمین ہائے خلافت شرقی)

ترک دنیا کی بڑی اور قدیم اقوام میں سے ایک ہے جن کا مرکز سنٹرل ایشیاء اور منگولیا تھا۔ موجودہ زمانے میں ترک اقوام ایشیاء ، یورپ ، امریکہ ، اور افریقہ کے محتلف حصوں پر آباد ہیں جن میں سے چند ممالک درج ذیل ہیں:_____
ترکمانستان، چین، روس، قرقیز نستان، قزاقستان، ازبکستان، تاجکستان، پاکستان، افعانستان، ایران، آذربائجان، عراق، ترکی، قبرس، یونان، بلغاریہ، رومانیہ، سوریہ، لیبیا، مصر، امریکہ، اور وسط ایشیاء، وغیرہ

ترکوں کے بارے میں احادیث:
اتركؤا الترك ما تركؤكم (الحديث ابؤداؤد)
"ترکوں کو نہ چھیڑو جب تک وہ تمھیں نہ چھیڑیں۔۔ "

حضرت محمود کاشغری رقم طراز ہیں کہ
"میں نے بخارا کے ایک ثقہ عالم اور نیشاپور کے امامان وقت سے سنا ہے جو کہ دونوں سلسلہ روایت سند کے ساتھ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں کہ جس میں اوغوز ترکوں کے خروج کا ذکر یوں بیان کرتے ہیں:۔

"ترکوں کی زبان سیکھو کیونکہ ان کی قسمت میں مدت دراز کی حکمرانی لکھ دی گئی ہے۔" (دیوان اللغات الترک).

امام شیخ زاھد حسین بن خلف کاشغری متعدد واسطوں سے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم سے روایت کرتے ہیں کہ !
"اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میرا ایک لشکر ہے جس کا نام ترک رکھا ہے ان کا مسکن مشرق کی زمین ہے اور جس قوم پر خشمگین ہوتا ہوں ان پر یہ لشکر مسلط کر دیتا ہوں۔"

خلافت عباسیہ کے وجود میں آنے کے بعد بھی خراسانی ترکوں کا ہی مرکزی کردار رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مامون الرشید نے دارالخلافہ خراسان کے مرو (mero) شہر منتقل کیا، بعد ازاں عباسیوں نے ترک سپاہیوں کیلئے سامرا کے نام سے بغداد کے قریب الگ شہر بسایا اور تخت سلطنت بھی وہیں منتقل کیا ۔۔۔۔

#راشدخان🐺👑🦅🐎

24/04/2026

💥کیا #ترک قوم کا تذکرہ کسی حدیث میں ہے؟
سوال
کیا ترک قوم کا ذکر احادیث میں ملتا ہے؟

جواب
‼️جی ہاں! حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حبشہ اور ترک قوم سے اس وقت تک تعرض نہ کرنا جب تک وہ تم سے تعرض نہ کریں، یعنی ان سے اقدامی جہاد کرنے کی رخصت دی گئی‼️

💥ترک قوم کے متعلق بعض نے لکھا ہے کہ حضرت ابراہیم علی نبینا و علیہ الصلاۃ والسلام کی ایک باندی کی اولاد سے ہیں اور بعض نے لکھا ہے کہ یہ قوم حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد ہے، بہرحال! محدثین نے لکھا ہے کہ ترک قوم سے تعرض نہ کرنے کی من جملہ وجوہات کے ایک وجہ یہ بھی تھی کہ عرب کا موسم گرم ہے اور ترک کا موسم ٹھنڈا ہے تو موسم کے اختلاف کی وجہ سے مشکلات ہو سکتی ہیں؛ لہذا یہ رخصت عنایت فرمائی گئی تھی۔💥

‼️رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ترک قوم سے تعرض نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی بیان فرمائی کہ یہ قوم بہت سخت قوم ہے۔

امام نووی فرماتے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معجزہ تھا کہ آپ کو ان کے بارے میں یہ معلومات حاصل ہو گئیں اور بعد کے ادوار میں جب مسلمانوں نے ان سے جنگ کی تو ان کو ایسا ہی پایا۔‼️
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/ 3420):

‼️وعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: " «دعوا الحبشة ما ودعوكم، واتركوا الترك ما تركوكم» ". رواه أبو داود، والنسائي.

وأما تخصيص الحبشة والترك بالترك والودع ; فلأن بلاد الحبشة وغيره بين المسلمين وبينهم مهامه وقفار، فلم يكلف المسلمين دخول ديارهم ; لكثرة التعب وعظمة المشقة، وأما الترك فبأسهم شديد وبلادهم باردة، والعرب وهم جند الإسلام كانوا من البلاد الحارة، فلم يكلفهم دخول البلاد، فلهذين السرين خصصهم، وأما إذا دخلوا بلاد المسلمين قهرا - والعياذ بالله - فلا يجوز لأحد ترك القتال ; لأن الجهاد في هذه الحالة فرض عين، وفي الحالة الأولى فرض كفاية. قلت: وقد أشار - صلى الله تعالى عليه وسلم - إلى هذا المعنى ; حيث قال: " ما تركوكم "، وحاصل الكلام أن الأمر في الحديث للرخصة والإباحة لا للوجوب ابتداء أيضا، فإن المسلمين قد حاربوا الترك والحبشة بادين، وإلى الآن لا يخلو زمان عن ذلك، وقد أعز الله الإسلام وأهله فيما هنالك. (رواه أبو داود، والنسائي) ، وروى الطبراني، عن ابن مسعود مرفوعا، ولفظه: " «اتركوا الترك ما تركوكم ; فإن أول من يسلب أمتي ملكهم وما خولهم الله بنو قنطوراء» "، ففي النهاية هي جارية إبراهيم الخليل، ولدت له أولادا منهم الترك والصين اهـ۔‼️

‼️مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (8/ 3422):
"وبنو قنطوراء اسم أبي الترك، وقيل: اسم جارية كانت للخليل عليه الصلاة والسلام ولدت له أولادًا جاء من نسلهم الترك، وفيه نظر؛ فإن الترك من أولاد يافث بن نوح، وهو قبل الخليل بكثير، كذا ذكره بعضهم، ويمكن دفعه بأن الجارية كانت من أولاد يافث، أو المراد بالجارية بنت منسوبة للخليل؛ لكونها من بنات أولاده، وقد تزوجها واحد من أولاد يافث فأتت بأبي هذا الجيل، فيرتفع الإشكال بهذا القال والقيل، ويصح انتسابهم إلى يافث والخليل۔‼️

الإشاعة لأشراط الساعة (ص: 83):

"وورد: "اتركوا التُّرك ما تركوكم؛ فإنَّ أوّل من يَسلُبُ أمتي مُلْكَهم بنو قنطوراء. . . ." الحديث.
زاد في رواية: "فإنهم أصحاب بأسٍ شديد، وغنائمهم قليلة". قال النووي: هذه الأحاديث كلها معجزة لرسول الله صلى الله عليه وسلم؛ فقد عُرِفَ هؤلاء الترك بجميع صفاتهم التي ذكرها النبي صلى الله عليه وسلم، وقاتلهم المسلمون مرات". فقط واللہ اعلم•

سوال
‼️کیا حدیث میں ترکی کے بارے میں ایسا کوئی ارشاد ہے کہ ایک وقت ایسا آئےگا کہ ترکوں کا بہت خون بہے گا، قتل و غارت ہوگی ؟

جواب
حدیث مبارک میں ترکوں کی علامات، اور ان سے آخر زمانے میں قتل وقتال کا ذکر ہے، چناں چہ" صحيح بخاري" میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے:

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تقوم الساعة حتى تقاتلوا الترك، صغار الأعين، حمر الوجوه، ذلف الأنوف، كأن وجوههم المجان المطرقة..."

ترجمہ:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو (ان کی علامت یہ ہوگی کہ ) ان کی آنکھیں چھوٹی چھوٹی، چہرے سرخ ، اور ناک چپکی ہوئی ہو گی،گویا ان کے چہرےتہ بہ تہ کوٹی ہوئی کما ن کی مانند ہوں ۔( یہ تشبیہ چہرے کے موٹے ،بھرے ہوئے، اور گولائی میں ہے‼️

(صحيح بخاري، كتاب الجهاد والسير، باب قتال الترك، الرقم: 2928، 4: 43، دار طوق النجاة، ط: الأولى 1422ھ)

💥یاد رہے کہ حدیث مبارک میں " ترک" سے مراد موجودہ" ترکی" ملک کے لوگ نہیں، بلکہ اس کی تعیین میں متعدد اقوال ہیں، بعض کے نزدیک یہ یاجوج ماجوج قوم کے چچازاد ہیں، اور بعض کا کہناہے کہ نوح علیہ السلام کے بیٹے یافث کی اولاد میں سے ہیں، جبکہ بعض کہتے ہیں :حضرت ابراہیم علیہ السلام کی باندی قنطوراء کی اولاد میں سے ہیں۔ 💥

( فتح الباري لابن حجر،باب قتال الترك، 6: 104، دار المعرفة، بيروت 1379ھ)

فقط واللہ اعلم

‼️سوال
ترکی کا ذکر احادیث میں ہے کہ نہیں؟

جواب
💥''ترک'' قوم کا ذکر احادیث میں ہے، اور ان کی کچھ ظاہری علامات بھی رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں، لیکن ان روایات میں ’’ترک‘‘سے مراد ’’ترکی‘‘ ملک نہیں ہے، البتہ ’’ترکی‘‘(ملک) میں واقع ’’قسطنطینیہ‘‘ (موجودہ استنبول) سے متعلق احادیث میں تذکرہ موجود ہے، جہاں تک ’’ترک‘‘ سے متعلق احادیث ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔ 💥

‼️حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَاتَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ: صِغَارَ الْعُيُونِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُلْفَ الْأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ". (مسند احمد)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو، ان کے چہرے سرخ، ناکیں چپٹی ہوئی، آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمان کی مانند ہوں گے۔

"وعنه (عن أبي هریرة) قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لاتقوم الساعة حتى تقاتلوا قوماً نعالهم الشعر، وحتى تقاتلوا الترك: صغار الأعين، حمر الوجوه، ذلف الأنوف، كأن وجوههم المجان المطرقة". (مشکاة)
ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس دن تک نہیں آئے گی جب تک تم اس قوم سے جنگ نہ کر لو گے جن کی پاپوشیں بال دار چمڑے کی ہوں گی، اور جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو گے جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناکیں بیٹھی ہوئی ہوں گی ، گویا ان کے منہ چمڑے کی تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)‼️

💥ترکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا سلسلہ نسب ’’یافث بن نوح‘‘ سے چلا تھا، ان لوگوں کے مورثِ اعلیٰ کا نام ’’ترک‘‘ تھا، اس سے پوری قوم کو ’’ترک‘‘ کہا جانے لگا۔

"وعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: دعوا الحبشة ما ودعوكم، واتركوا الترك ما تركوكم . رواه أبو داود والنسائي".
ترجمہ: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: تم حبشیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھیں، اور ترکوں کو بھی ان کے حال پر چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھیں ۔ (ابو داؤد ، نسائی)

تشریح:

’’ یہاں ایک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے تو یہ حکم دیا ہے کہ آیت {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَا فَّةً} [9- التوبة: 36] (یعنی مشکرین سے قتال کرو وہ جہاں کہیں بھی ہوں) پس جب اس حکم میں عموم ہے تو حبشیوں اور ترکوں کے بارے میں حضور ﷺ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ تم ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، یعنی ان پر حملہ نہ کرو اور ان کے ملکوں اور شہروں پر چڑھائی سے گریز کرو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حبشہ اور ترک کا معاملہ اس آیت کے عمومی حکم سے خارج اور مخصوص استثنائی نوعیت رکھتا تھا؛ کیوں کہ جغرافیائی پوزیشن کے اعتبار سے یہ دونوں ملک اس زمانے کی اسلامی طاقت کے مرکز سے بہت دور دراز فاصلے پر واقع تھے اور اسلامی چھاؤ نیوں اور ان ملکوں کے درمیان دشت وبیاباں کا ایک ایسا دشوار گزار سلسلہ حائل تھا، جس کو عام حالات میں عبور کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا حضور ﷺ نے اس بنا پر مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان دونوں ملکوں کے خلاف کوئی اقدامی کاروائی نہ کی جائے اور ان لوگوں سے اس وقت تک کوئی تعرض نہ کیا جائے جب تک کہ وہ خود تم سے چھیڑ نہ نکا لیں، پس اگر وہ تمہارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کریں اور اپنی فوج وطاقت جمع کر کے مسلمانوں کے شہروں اور اسلامی مراکز پر چڑھ آئیں تو اس صورت میں ان کے خلاف نبرد آزما ہو جانا اور ان کے ساتھ جنگ وقتال کرنا فرض ہوگا۔ یا ایک بات یہ کہی جا سکتی ہے کہ حضور ﷺ نے جو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت اور اس قدر ذرائع نہیں تھے کہ وہ اتنے دور دراز علاقوں تک اسلام کی پیش رفت کو بڑھاتے ، چنانچہ بعد میں جب مذکورہ آیت نازل ہوئی اور اسلام کو طاقت میسر ہوگئی تو حضور ﷺ کا یہ حکم منسوخ قرار پا گیا۔💥

رہی بات کی’ترکی‘‘ کے شہر ’’قسطنطینہ ‘‘ کی، تو اس سے متعلق حدیث میں درج ذیل ذکر موجود ہے :

"عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عمران بيت المقدس خراب يثرب، وخراب يثرب خروج الملحمة، وخروج الملحمة فتح قسطنطينية، وفتح قسطنطينية خروج الدجال. رواه أبو داود".
ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: بیت المقدس کا پوری طرح آباد ہو جانا مدینہ منورہ کی خرابی کا باعث ہوگا، اور مدینہ منورہ کی خرابی، فتنے اور سب سے بڑی جنگ کے وقوع پذیر ہونے کا سبب ہوگا اور اس سب سے بڑی جنگ کا وقوع پذیر ہونا قسطنطنیہ کے فتح ہونے کا باعث ہوگا اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا دجال کے ظاہر ہونے کا سبب اور اس کی علامت ہوگا۔‼️ (ابو داؤد) فقط واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ٔ

#راشدخان 🐺🐴🦅✍️

24/04/2026

#ترک قوم کا ذکر احادیث میں ہے، اور ان کی کچھ ظاہری علامات بھی رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں، لیکن ان روایات میں ’’ترک‘‘سے مراد ترکی ملک نہیں ہے، البتہ ’ترکی'(ملک) میں واقع قسطنطینیہ (موجودہ استنبول) سے متعلق احادیث میں تذکرہ موجود ہے، جہاں تک ترک سے متعلق احادیث ہیں، ان میں سے چند درج ذیل ہیں:ـ

"حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَخْبَرَنَا وَرْقَاءُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَاتَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا التُّرْكَ: صِغَارَ الْعُيُونِ، حُمْرَ الْوُجُوهِ، ذُلْفَ الْأُنُوفِ، كَأَنَّ وُجُوهَهُمْ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ". (مسند احمد)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کرلو، ان کے چہرے سرخ، ناکیں چپٹی ہوئی، آنکھیں چھوٹی چھوٹی ہوں گی اور ان کے چہرے چپٹی ہوئی کمان کی مانند ہوں گے۔

"وعنه (عن أبي هریرة) قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لاتقوم الساعة حتى تقاتلوا قوماً نعالهم الشعر، وحتى تقاتلوا الترك: صغار الأعين، حمر الوجوه، ذلف الأنوف، كأن وجوههم المجان المطرقة". (مشکاة)

ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت اس دن تک نہیں آئے گی جب تک تم اس قوم سے جنگ نہ کر لو گے جن کی پاپوشیں بال دار چمڑے کی ہوں گی، اور جب تک تم ترکوں سے جنگ نہ کر لو گے جن کی آنکھیں چھوٹی، چہرے سرخ اور ناکیں بیٹھی ہوئی ہوں گی ، گویا ان کے منہ چمڑے کی تہ بہ تہ ڈھال کی طرح ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)

ترکوں سے مراد وہ لوگ ہیں جن کا سلسلہ نسب ’’یافث بن نوح‘‘ سے چلا تھا، ان لوگوں کے مورثِ اعلیٰ کا نام ’’ترک‘‘ تھا، اس سے پوری قوم کو ’’ترک‘‘ کہا جانے لگا۔
"وعن رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم قال: دعوا الحبشة ما ودعوكم، واتركوا الترك ما تركوكم . رواه أبو داود والنسائي".
ترجمہ: نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: تم حبشیوں کو ان کے حال پر چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھیں، اور ترکوں کو بھی ان کے حال پر چھوڑ دو جب تک کہ وہ تمہیں تمہارے حال پر چھوڑے رکھیں ۔ (ابو داؤد ، نسائی)

تشریح:

’’ یہاں ایک یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قرآن نے تو یہ حکم دیا ہے کہ آیت {وَقَاتِلُوا الْمُشْرِكِيْنَ كَا فَّةً} [9- التوبة: 36] (یعنی مشکرین سے قتال کرو وہ جہاں کہیں بھی ہوں) پس جب اس حکم میں عموم ہے تو حبشیوں اور ترکوں کے بارے میں حضور ﷺ نے یہ کیوں فرمایا ہے کہ تم ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ، یعنی ان پر حملہ نہ کرو اور ان کے ملکوں اور شہروں پر چڑھائی سے گریز کرو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حبشہ اور ترک کا معاملہ اس آیت کے عمومی حکم سے خارج اور مخصوص استثنائی نوعیت رکھتا تھا؛ کیوں کہ جغرافیائی پوزیشن کے اعتبار سے یہ دونوں ملک اس زمانے کی اسلامی طاقت کے مرکز سے بہت دور دراز فاصلے پر واقع تھے اور اسلامی چھاؤ نیوں اور ان ملکوں کے درمیان دشت وبیاباں کا ایک ایسا دشوار گزار سلسلہ حائل تھا، جس کو عام حالات میں عبور کرنا ہر ایک کے لیے ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا حضور ﷺ نے اس بنا پر مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان دونوں ملکوں کے خلاف کوئی اقدامی کاروائی نہ کی جائے اور ان لوگوں سے اس وقت تک کوئی تعرض نہ کیا جائے جب تک کہ وہ خود تم سے چھیڑ نہ نکا لیں، پس اگر وہ تمہارے خلاف جارحیت کا ارتکاب کریں اور اپنی فوج وطاقت جمع کر کے مسلمانوں کے شہروں اور اسلامی مراکز پر چڑھ آئیں تو اس صورت میں ان کے خلاف نبرد آزما ہو جانا اور ان کے ساتھ جنگ وقتال کرنا فرض ہوگا۔ یا ایک بات یہ کہی جا سکتی ہے کہ حضور ﷺ نے جو یہ حکم دیا تھا کہ وہ اسلام کے ابتدائی زمانہ کا واقعہ ہے جب کہ اسلام اور مسلمانوں کے پاس اتنی طاقت اور اس قدر ذرائع نہیں تھے کہ وہ اتنے دور دراز علاقوں تک اسلام کی پیش رفت کو بڑھاتے ، چنانچہ بعد میں جب مذکورہ آیت نازل ہوئی اور اسلام کو طاقت میسر ہوگئی تو حضور ﷺ کا یہ حکم منسوخ قرار پا گیا‘‘۔
رہی بات ’’ترکی‘‘ کے شہر ’’قسطنطینہ ‘‘ کی، تو اس سے متعلق حدیث میں درج ذیل ذکر موجود ہے :

"عن معاذ بن جبل قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: عمران بيت المقدس خراب يثرب، وخراب يثرب خروج الملحمة، وخروج الملحمة فتح قسطنطينية، وفتح قسطنطينية خروج الدجال. رواه أبو داود".

ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا: بیت المقدس کا پوری طرح آباد ہو جانا مدینہ منورہ کی خرابی کا باعث ہوگا، اور مدینہ منورہ کی خرابی، فتنے اور سب سے بڑی جنگ کے وقوع پذیر ہونے کا سبب ہوگا اور اس سب سے بڑی جنگ کا وقوع پذیر ہونا قسطنطنیہ کے فتح ہونے کا باعث ہوگا اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا دجال کے ظاہر ہونے کا سبب اور اس کی علامت ہوگا۔ (ابو داؤد) فقط واللہ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

#راشدخان 🐺🐴🐎🖋️

24/04/2026

ترک کون ہیں اور ترک لفظ کے کیا معانی ہیں!
پوسٹ 1

لفظ ترک کے معانی:
"ترکستان کے ایک قبیلے کا نام ہے جس کی بڑی شاخ تاتار ہی اور ان کی زبان معین ہے (انجمن آرا)"

"ترک ایک قوم کا نام ہے جو کہ ترک نامی شخص سے منسوب ہے جو حضرت نوح کی نسل میں سے تھا" (غیاث اللغات)
"کہتے ہیں کہ ترک قوم یافث بن نوح کی اولاد سے ہیں" (برھان)

لفظ ترک کے نام پر تاریخ میں پہلی سلطنت چھٹی صدی عیسوی میں "گوک ترک حکومت" کے نام سے ملتی ہے جس میں بدوی ترکوں نے ایک مضبوط و عظیم سلطنت قائم کی جو مغلستان اور شمالی چین کی سرحد سے بحر اسود تک مشتمل تھی" (تاریخ طبری جلد 1 صفحہ 895-896)

لفظ ترک کے لغوی معنی خود ٹوپی کے ہیں (لوہے کی ٹوپی جو ھنگام جنگ میں پہنی جاتی ہے) (فرھنگ رشیدی) (فرھنگ جھانگیری)

ترکستان میں ایک دریا کا نام بھی ہے جو کہ سیحون میں بہتا ہے (سرزمین ہائے خلافت شرقی)

ترک دنیا کی بڑی اور قدیم اقوام میں سے ایک ہیں جن کا مرکز سنٹرل ایشیا اور منگولیا تھا. موجودہ زمانے میں ترک اقوام ایشیا, یورپ, امریکا اور افریقا کے مختلف حصوں میں آباد ہیں جن میں سے چند ممالک درج زیل ہیں
ترکمنستان, چین، روس ,قرقیزستان، قزاقستان، ازبکستان، تاجیکستان،پاکستان, افغانستان، ایران، جمهوری آذربایجان، عراق، ترکی، قبرس، یونان، بلغاریہ, رومانیہ, سوریہ, لیبیا, مصر, امریکا وغیرہ..

ترکوں کے بارے میں احادیث:

اتْرُکُوا التُّرْکَ مَا تَرَکُوکُمْ (حدیث ابوداود )
ترکوں کو نہ چھیڑو جب تک وہ تمہیں نہ چھیڑیں.."

حضرت محمود قاشغری رقم طراز ہیں کہ
"میں نے بخارا کے ایک ثقہ عالم اور نیشاپور کے امامان وقت سے سنا ہے جو کہ دونوں سلسلہ روایت سند کے ساتھ رسول اللہ ص سے ایک حدیث روایت کرتے ہیں جس میں اوغوز ترکوں کے خروج کا زکر ہے .. یوں بیان کرتے ہیں

" ترکوں کی زبان سیکھو کیونکہ ان کی قسمت میں مدت دراز کی حکمرانی لکھ دی گئی ہے" (دیوان اللغت الترک)

امام شیخ زاھد حسین بن خلف کاشغری متعدد واسطوں سے رسول اللہ ص سے روایت کرتے ہیں کہ
"اللہ عزوجل فرماتے ہیں کہ میرا ایک لشکر ہے جس کا نام ترک رکھا ہے ان کا مسکن مشرق کی زمین ہے اور جس قوم پر خشمگین ہوتا ہوں ان پر یہ لشکر مسلط کر دیتا ہوں"

خلافت عباسیہ کے وجود میں آنے میں بھی خراسانی ترکوں کا ہی مرکزی کردار تھا, یہی وجہ تھی کہ مامون الرشید نے دارالخلافہ خراسان کے مرو ( merv) شہر منتقل کیا, بعد ازاں عباسیوں نے ترک سپاہیوں کے لیے سامرا کے نام سے بغداد کے قریب الگ شہر بسایا اور تخت سلطنت بھی وہیں منتقل کیا..

ایک روز خلیفہ معتصم باللہ نے از رہ مزاح درباری نجومیوں سے سوال کیا کہ "میری موت کب اور کس وقت ہوگی, پیشنگویی کرو!!"
درباریوں نے کہا "جس وقت ترک سپاہی چاہیں"

یہ وہی ترک قوم ہے جس نے دائرہ اسلام میں آنے کے ساتھ ہیں عظیم ترین اسلامی سلطنتوں کی بنیاد ڈالی جو کہ ہزاروں سال اسلام کا جھنڈا عالم میں لہراتی رہیں, چند ترک سلطنتیں
سلطنت غزنویہ
سلجوقی.
سلطنت و خلافت عثمانیہ
تیموری
خوازرم شاھی
سلطنت بابری ھندوستان
دہلی سلطنت
اور ایس ہی سینکڑوں ۔

#راشدخان 🐺🦅👑🐎

24/04/2026

“لیاقت خان ترک – خدمت خلق کے حقیقی ہیرو

“ہر شہر، ہر گلی، ہر محلے میں ایسے لوگ ہوتے ہیں جن کی خدمات خاموش لیکن بے مثال ہوتی ہیں۔ وہ لوگ جو اپنی زندگی کا مقصد دوسروں کی خوشیوں میں ڈھونڈتے ہیں، اور معاشرتی خدمت کو سب سے بڑا سرمایہ سمجھتے ہیں۔ آج ہم آپ کو ایسے ہی ایک انسان سے ملواتے ہیں… لیاقت خان ترک۔”

“2007 میں، لیاقت خان ترک نے ایک چھوٹے سے قدم سے اپنا سفر شروع کیا۔ صرف ایک سو مستحق افراد کو رمضان کے مہینے میں راشن پیکج دینے کا وعدہ۔ لیکن یہی چھوٹا سا اقدام، آج ایک بڑی روشنی کی صورت اختیار کر چکا ہے—سات سے آٹھ ہزار افراد ہر سال ان کے رمضان پیکجز سے مستفید ہوتے ہیں۔”

“ہر پیکج میں صرف راشن نہیں ہوتا، بلکہ امید، خوشی اور یقین ہوتا ہے کہ کوئی ہمارے بارے میں سوچتا ہے۔ یہ وہ چھوٹی خوشیاں ہیں جو کبھی بھولائی نہیں جا سکتیں۔”

لیاقت خان ترک کے چھوٹے بھائی، فیصل خان ترک، بھی اس سفر میں ان کے ساتھ ہیں۔ یہ بھائی صرف رمضان تک محدود نہیں ہیں، بلکہ مستحق خاندانوں کی مدد، جہیز فنڈ، مساجد اور مدرسوں کی تعمیر میں بھی پیش پیش ہیں۔ ان کا ہر قدم ایک مثال ہے کہ خدمت خلق کس طرح زندگی بدل سکتی ہے۔
۔
“جب دنیا کرونا کے خوف میں ڈوبی ہوئی تھی، لیاقت خان ترک اور فیصل خان ترک نے ہمت نہیں ہاری۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کرونا وارڈ قائم کیا، ایمرجنسی وارڈ کی مرمت اور تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کیا۔ ان کی یہ قربانی ہزاروں زندگیوں کی امید بن گئی۔⸻
“ایسے افراد ہی معاشرے کے حقیقی ہیروز کہلاتے ہیں۔ وہ اپنے مال، وقت اور توانائی کو دوسروں کی خدمت میں لگاتے ہیں، اور اللہ کی رضا کو سب سے بڑی کامیابی سمجھتے ہیں۔ جہاں بھی ایسے لوگ موجود ہوں، ہمیں انہیں حوصلہ دینا چاہیے، اور ان کی صحت و سلامتی کے لیے دعا کرنی چاہیے۔”

#راشدخان 🐺👑🦅

24/04/2026

راجہ ریحان ترک
کراٹے چیمپئن شپ بین الاقوامی سطح پر
شاندار فتح پر بہت بہت مبارکباد! یہ کامیابی آپ کی انتھک محنت، بہترین حکمت عملی اور عزمِ صمیم کا نتیجہ ہے। آپ نے ثابت کر دیا کہ حوصلہ بلند ہو تو کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں۔
اس تاریخی کامیابی پر:
آپ کی محنت اور قربانیوں کو سلام۔
یہ فتح روشن مستقبل کی نوید ہے۔
امید ہے کہ یہ سلسلہ کامیابیوں کے ساتھ جاری رہے گا۔
مستقبل کے لیے مزید کامیابیاں مقدر ہوں۔ آپ نے ترک قوم نام روشن کیا۔ آج بین الاقوامی طور پر لفظ ترک اجاگر ہو رہاہے ۔
‏شاندار فتح اور بہترین کارکردگی پر مبارکباد! آپ کی محنت اور لگن نے رنگ دکھایا اور آپ واقعی داد کے مستحق ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو مستقبل کے تمام میدانوں میں کامیاب کرے اور مزید بلندیاں عطا فرمائے، آمین۔

#راشدخان 🐺👑🦅🐎

الحمدللّٰہ ضلع  ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ہردلعزیز مرحوم راجہ عبدالرزاق ترک کہ فرزند راجہ ممتاز ترک کو انسپکٹر کے عہد...
24/04/2026

الحمدللّٰہ ضلع ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے ہردلعزیز مرحوم راجہ عبدالرزاق ترک کہ فرزند راجہ ممتاز ترک کو انسپکٹر کے عہدے پر پروموٹ کر دیا گیا.

خیبر پختونخواہ پولیس کے فخرے نملی میرا انسپکٹر کے عہدے پر مایہ ناز پولیس آفیسر جناب راجہ ممتاز ترک صاحب کے ترک قوم سپوت اور بڑے شخصیت کے مالک ہے اور محترم جناب ممتاز ترک صاحب ایک نہایت خوش اخلاق، نرم مزاج اور ملنسار شخصیت کے مالک ہیں۔ ان کا رویہ ہمیشہ محبت، خلوص اور احترام سے لبریز ہوتا ہے، جو ہر دل کو موہ لیتا ہے۔ وہ اپنے حلقہ احباب اور اہلِ محلہ میں عزت و وقار کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ دکھ ہو یا سکھ، وہ ہمیشہ دوسروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے عمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ انسانیت ہی سب سے بڑی خدمت ہے۔ ان کی طبیعت میں موجود عاجزی اور خندہ پیشانی نے انہیں ایک مثالی شخصیت بنا دیا ہے۔ واقعی، محترم جیسے لوگ معاشرے کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہوتے ہیں۔
امید کرتے ہیں کہ ماضی کی طرح مستقبل میں بھی اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے, جرائم پیشہ عناصر کے خلاف اور جرائم کی روک تھام اور امن و امان کے قیام کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے.

ایماندار پولیس افسر ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنی ذمہ داریوں کو پوری ایمانداری، دیانتداری اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ نبھاتا ہے۔ وہ کسی بھی صورت میں رشوت یا غیر قانونی فائدہ لینے سے گریز کرتا ہے اور قانون کے مطابق فیصلے کرتا ہے۔ اس کا مقصد عوام کی خدمت اور ان کے مسائل کا حل ہوتا ہے، اور وہ ہمیشہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس کی اخلاقی اقدار، بہادری، اور جذبہ خدمت دوسروں کے لئے مثال ہوتے ہیں، اور اس کا کردار عوام میں اعتماد اور احترام پیدا کرتا ہے۔ ایماندار پولیس افسر اپنی فرض شناسی سے معاشرے میں امن و امان قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کی محبت اور احترام کا برتاؤ لوگوں کو اس پر بھروسہ کرنے پر مجبور کرتا ہے، اور ہماری خوش قسمتی ہےاللہ رب العزت سے دعا ہے کہ
محترم راجہ ممتاز ترک صاحب کو ہمیشہ سلامت رکھے،
صحت کاملہ، عزت و وقار، اور بے شمار کامیابیاں عطا فرمائے۔ آمین

#راشدخان 🐺🦅🐎

Address

Manshria
Peshawar

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝐓𝐮𝐫𝐤 𝐓𝐫𝐢𝐛𝐞 𝐇𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐲 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Museum

Send a message to 𝐓𝐮𝐫𝐤 𝐓𝐫𝐢𝐛𝐞 𝐇𝐢𝐬𝐭𝐨𝐫𝐲:

Share

Category