08/04/2023
۔
جسکا بھی پشتو ادب یا پشتون تاریخ سے تعلق رہا ہو وہ ضرور میجر راورٹی کے نام سے واقف ہوگا۔ آپ اگرچہ ایک فوجی افسر رہے تھے لیکن ایک ذہین،محنتی اور بڑے محقق بھی تھے۔ ہندوستان، پنجاب، پختونخوا، بلوچستان اور افغانستان کے جغرافیائی و تاریخی حالات تفصیل کے ساتھ لکھے ہیں۔ مشرقی علم و ادب اور تاریخ کے حوالے سے کئی نادر قلمی نسخے جمع کیے تھے جو آج بھی برٹش میوزیم اور انڈیا آفس لائبریری لندن کی زینت بنے ہوئے ہیں۔ آپ نے مشرقی علوم کی کئی کتابوں کو انگریزی اور مغربی علوم کے کتابوں کو مشرقی زبانوں میں ترجمہ کیا تھا۔ اپکو عربی، فارسی، اردو، پشتو پنجابی، ملتانی، سندھی،مرہٹی اور گجراتی زبانوں میں کافی عبور حاصل تھا۔ ابکے علمی اور تحقیقی کارناموں کو بیان کرنے کے لیے اگر کتاب بھی لکھا جائے تو وہ آپکے کام کی وسعت کے بنسبت کم اور ناکافی ہوگا۔
مختصر حالات زندگی۔
آپ 1825 کو فالموت، انگلستان میں پیدا ہوئے۔ آپکے والد رائل نیوی میں سرجن تھے۔ آپ 18 سال کی عمر میں 1843 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے بمبئی انفنٹری ڈویژن میں بھرتی ہوئے اور 1864 میں میجر کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے۔ اپنے فوجی سروس کے دوران آپ نے انگریز، سکھ لڑائیوں میں اور سوات کے حدود میں قبائل کے خلاف فوجی مہمات میں حصہ لیا۔ ان لڑائیوں میں بہادری پر اپکو کئی میذل ملے۔
آپ 1852..1859 تک سول سروس پنجاب میں اسسٹنٹ کمشنر کے عہدے پر بھی تعینات رہے تھے۔ اپنے 21 سالہ فوجی سروس میں آپ نے ہندوستان اور افغانستان کے لوگوں کی زبانوں، انساب، تاریخ اور رسم و رواج کے بارے میں کافی معلومات جمع کر لیے تھے اور پھر ان معلومات کو مضامین اور کتابوں میں لکھ کر ہمیشہ کے لئے محفوظ کر لیا تھا۔اگرچہ ان معلومات کو جمع اور لکھنے کا بنیادی مقصد اپنی انگریزی حکومت کو سہولت اور فاہدہ دینا تھا، لیکن یہ آثار مقامی لوگوں کے لیے ایک بیش قیمت سرمایہ کی شکل میں بطور میراث میں باقی رہ گئے تھے، جن سے آج تک ان علاقوں کے لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔
آپ نے 1865 میں فالموت، انگلستان میں شادی کر لی تھی لیکن اولاد نہیں ہوئی تھی۔اپ اپنے تصانیف کی وجہ سے انگلستان، افغانستان اور بر صغیر پاک و ہند میں آج بھی اپنے نام کے ساتھ زندہ ہیں۔ 1906 میں آپ انگلستان میں فوت ہو گئے تھے۔
علمی ، تحقیقی اور تاریخی خدمات۔
آپ نے بنگال ایشیا ٹیک سوسائٹی کلکتہ کے جرنل میں درج ذیل مضامین شائع کئے تھے۔
1 پشتونوں کے اصلیت کے بارے میں تحقیق۔
کافرستان، موجودہ نورستان کے سیاہ پوش لوگوں کے حالات۔
3۔ سیاہ کافر قبیلہ کے زبان کے بارے میں تحقیق۔
4. بر کاشغر اور چترال کے حالات۔
5. طبقات ناصری، کے مولف منھاج السراج جوزجانی کے حالات۔
6. مہران یعنی دریائے سندھ اور انکے معاون دریا۔
7. 365 سال پہلے کا تبت۔
شائع شدہ کتب۔ Published Books
A Grammar Of Pukhto,Pushto,Or Language Of The Afghans.
اس کتاب کے تعارف میں آپ نے پشتون قوم کی تاریخ اور خصوصاً پشتو زبان کی اصلیت،تاریخ اور ساخت پر تفصیل سے لکھا ہے۔ پشتو سیکھنے کے لئے قواعد و ضوابط، پشتو زبان کے مشہور اور معیاری نثر اور اشعار سے مواد لے کر مثالوں کے ذریعے سمجھانے کی بہت خوبصورت انداز اختیار کیا ہوا ہے۔ یہ کتاب آج کے زمانہ میں بھی پشتو زبان سیکھنے کے لئے ایک بہترین گائیڈ ہے۔
Selections From The Poetry Of The Afghans.
اس کتاب میں سولویں صدی عیسوی سے لے کر اٹھارویں صدی عیسوی تک کے پشتو کے مشہور شعراء کے مختصر حالات زندگی اور انکے کچھ منتخب اشعار کو انگریزی زبان میں لکھا گیا ہے۔ اس طرح آپ نے کئی سو سال پہلے کی پشتو Poetry کو محفوظ کرکے آج کے پشتون قوم اور دوسرے لوگوں جو پشتو نظم میں دلچسپی رکھتے ہوں،کو اس قیمتی تاریخی ورثہ سے روشناس کرایا ہے۔
A Dictionary Of Pushto Or Pukhto, Language Of The Afghans.
اس ڈکشنری میں پشتو کے 25 ہزار الفاظ کو انگریزی زبان میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ اس ڈکشنری کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ بعد میں پشتو زبان کی جتنی ڈکشنریاں دوسرے مصنفین نے لکھی ہیں، انہوں نے اس ڈکشنری سے فایدہ اٹھانے کو تسلیم کیا ہے۔ یہ تصنیف میجر راورٹی کی پشتون قوم اور دوسرے لوگوں جو پشتو زبان میں دلچسپی رکھتے ہیں، کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔
The Fables Of Aesop In Pukhto.
اس کتاب کو راورٹی نے انگریزی سے پشتو میں ترجمہ کیا ہے۔ ایسپ یونان میں زمانہ قبل مسیح میں ایک افسانوی کردار
تھا۔ پشتونوں میں یہ لقمان حکیم کے نام سے مشہور ہے۔ بعض مورخین کے مطابق ایسپ اور لقمان حکیم دو مختلف شخصیات کے نام ہیں۔ ایسپ کے حکایات اخلاقی سبق پر مبنی ہیں اور یورپ میں لوگ بڑے ذوق و شوق سے یہ افسانے پڑھتے اور پسند کرتے ہیں۔ راورٹی نے پشتو میں ترجمہ کر کے پشتونوں کو اس قیمتی تاریخی ذخیرہ سے گیروشناس کرایا۔
The Gulshan.. E..Roh, Being Selections, Prose And Poetical In The Pushto Or Afghan Language.
گلشن روہ ،
یہ کتاب پشتو میں لکھی گئی ہے۔اس میں آج سے کئی سو سال پہلے پشتو زبان کے مشہور نثر و نظم کے خوبصورت نمونے جمع کرانے گئے ہیں۔ اسکو گلدستہ پشتو نثر و شعر بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کتاب کے ذریعے پشتو زبان کے ایک قیمتی تاریخی ورثہ کو محفوظ کر دیا گیا ہے۔
اس کتاب کو وزارت اطلاعات و ثقافت افغانستان نے پروفیسر عبد الشکور رشاد کے مقدمہ کے ساتھ دوبارہ شایع کیا ہے۔
Tabqat..e..Nasri, English Translation
افغانستان اور ہندوستان کی تاریخ کی مشہور کتاب طبقات ناصری از منہاج السراج جوزجانی کو انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔ راورٹی نے ترجمہ کے ساتھ ایک تفصیلی مقدمہ اور کئی تشریحات بھی لکھے ہیں۔ انگریزی کتاب کو تاریخی حوالہ سے زیادہ معیاری اور مفید بنا دیا گیا ہے۔
Notes On Afghanistan And Baluchistan.
یہ راورٹی کی مشہور، شاہکار اور یادگار تصنیف ہے۔ یہ 1888 میں شائع ہوئی تھی۔ اس کتاب میں افغانستان، پنجاب، پختونخوا اور بلوچستان کے جغرافیائی، ثقافتی، تاریخی، مقامات، واقعات، مشہور شخصیات اور مختلف سفر کے راستوں کی تفصیلات موجود ہیں۔ افغان، مغل اور ہندوستانی مورخین اور کچھ ایسے مورخین کے قلمی نسخوں سے، جو کم مشہور ہوئے تھے، معلومات لی گئی ہیں۔
راورٹی کے اس کتاب میں لکھے گئے بعض خیالات،معلومات اور بیان کردہ واقعات سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، لیکن بحیثیت مجموعی پشتون قبائل کی حسب و نسب، تقسیم اور تاریخی حقائق کے لحاظ سے اس کتاب کو مستند تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس کتاب کو پاکستان میں کئی پبلشرز نے دو بارہ شائع کیا ہوا ہے۔
Hindustani Technical Terms.
اس کتاب میں ہندوستان میں فن تعمیر اور دوسرے مشرقی فنون کے متعلق اصطلاحات کو جمع کیا گیا ہے۔
Bible, New testament,
عہد جدید انجیل۔
یہ کتاب راورٹی کے زیر نگرانی ایک ٹیم نے عہد جدید انجیل کو انگریزی سے پشتو میں ترجمہ کر کے شائع کی تھی۔
Unpublished Books. غیر شائع شدہ کتب
ہرات اور خراسان کی تاریخ۔
اس کتاب میں ہرات اور خراسان کی پانچ سو سال کی تاریخ بیان ہوئی ہے۔ اس کتاب کے لکھنے کے لئے راورٹی نے 6 قلمی نسخوں سے استفادہ کیا تھا۔
افغانوں کی تاریخ اور انکا ملک۔
منگ اور ہزارہ کی تاریخ۔
اس کتاب میں ہزارہ قوم جو افغانستان اور وسط ایشیا کے دوسرے خطوں میں آباد تھے، کے بارے میں تحقیقات کرکے تفصیلات لکھی گئی ہیں۔
افریقہ میں فرقہ اسماعیلیہ کی ترقی و عروج۔
تاریخ الفی کا انگریزی ترجمہ۔
حوالاجات۔
Notes On Afghanistan And Baluchistan By H.G.Raverty.
گلشنِ روہ، از میجر ہنری جارج راورٹی۔
شائع کردہ، وزارت اطلاعات و ثقافت افغانستان،
پروفیسر عبد الشکور رشاد کے مقدمہ اور تشریحات کے ساتھ۔
تحقیق و پیشکش۔
امان اللہ خان بلچ ڈیرہ اسماعیل خان، پختونخوا، پاکستان۔