مخزن

مخزن “One of the deepest impulses in man is the impulse to record" [email protected]
(1)

راولپنڈی کے گزیٹیئر، رائے بہادر دونی چند کی گکھڑوں کی تاریخ پر مبنی کتاب ’کائی گوہر نامہ،‘ سر لیپل ایچ گریفن کی کتاب ’پن...
20/06/2026

راولپنڈی کے گزیٹیئر، رائے بہادر دونی چند کی گکھڑوں کی تاریخ پر مبنی کتاب ’کائی گوہر نامہ،‘ سر لیپل ایچ گریفن کی کتاب ’پنجاب چیفس‘ میں اس حوالے سے ملتی جلتی روایتیں بیان کی گئی ہیں۔

جن میں قدر مشترک یہ ہے کہ سلطان سارنگ خان جیسا بہادر اور جری گکھڑ سردار تاریخ نے کم ہی دیکھا جس نے سندھ دو آب جیسے وسیع علاقے پر قائم اپنی ریاست کی پروا نہ کرتے کرتے ہوئے سوریوں حکمرانوں سے محض اس لیے ٹکر لے لی کہ وہ مغل خاندان کا احسان مند تھا اور بابر نے اس کی مدد کی تھی۔

سلطان سارنگ کی زندگی پر حال ہی میں ایک کتاب Sarang, Reflective Essays on the History of Gakkhars سامنے آئی ہے جسے ڈاکٹر صہیب احمد کیانی نے لکھا ہے۔ ڈاکٹر صہیب احمد کیانی بنیادی طور پر انجینیئر ہیں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھاتے ہیں۔ کتاب میں سلطان سارنگ خان کے حالات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کائی گوہر نامہ کے بعد گکھڑوں کی تاریخ پر کسی نے مستند کام کیا ہے تو وہ ڈاکٹر صہیب احمد کیانی ہی ہیں۔

سلطان سارنگ خان کو پوٹھوہار کی حکمرانی کا تاج بابر نے اس وقت پہنایا جب بابر ہندوستان پر حملے کی غرض سے بھیرہ میں مقیم تھا۔ آج صدیاں گزرنے کے باوجود سلطان سارنگ خان پوٹھوہار کے لوک ہیرو کے طور پر موجود ہے گکھڑوں کی جنگی روایات میں جو مقام سلطان سارنگ خان کو حاصل ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔

The young officer seated in the second seat of the front row is Syed Asim Munir . At the time this photograph was taken,...
19/06/2026

The young officer seated in the second seat of the front row is Syed Asim Munir . At the time this photograph was taken, he was sitting in the row reserved for BSUO (Battalion Senior Under Officers). He currently serves as Pakistan's Chief of Army Staff , CDF and holds the rank of Field Marshal.

He is also Pakistan's first Chief of Defence Forces and the first Army Chief in the country's history to have previously served as both DGMI and DG ISI .

Case study  of Abdur rahim popalzai at qila bala hisaar .عبدالرحیم۔پوپلزئبرطانوی راج کیخلاف جدوجہد: انہوں نے تحریکِ خلاف...
17/06/2026

Case study of Abdur rahim popalzai at qila bala hisaar .
عبدالرحیم۔پوپلزئ
برطانوی راج کیخلاف جدوجہد: انہوں نے تحریکِ خلافت، نوجوان بھارت سورت (Naujawan Bharat Sabha) اور سوشلسٹ پارٹی کے پلیٹ فارم سے انگریز حکومت کے خلاف تحریکیں چلائیں۔قصہ خوانی بازار واقعہ: 1930ء میں قصہ خوانی بازار کے واقعے میں کلیدی کردار ادا کرنے پر انہیں 9 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ 1939ء میں وزیرستان پر برطانوی بمباری کے خلاف احتجاج کرنے پر انہیں مزید 5 سال قید دی گئی۔

عظیم اللہ خان کا شما ر پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857 کے ان منصوبہ سازوں میں ہوتا ہے۔جنہوں نے نوابین،حکمرانوں اور سربراہان ...
16/06/2026

عظیم اللہ خان کا شما ر پہلی ملک گیر جنگ آزادی 1857 کے ان منصوبہ سازوں میں ہوتا ہے۔جنہوں نے نوابین،حکمرانوں اور سربراہان ریاست کے ساتھ مل کر فرنگیوں کے خلاف جامع حکمت عملی کو قطعیت دی۔ عظیم اللہ نے ایک لائحہ عمل کے پیش نظر پیشوا نانا راؤ کے سا تھ مل کرشمالی ہندوستان کادورہ کیا۔خصوصاً چھاؤنیوں میں خیمہ زن ہوکر دیسی سپاہیوں کوکمپنی بہادر کے خلاف برانگیختہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔علاوہ ازیں رائے عامہ ہموار کرنے کے لیے سنہ 1856 میں ہندی اور اردو میں ’پیام آزادی‘ کے نام سے بھی ایک اخبار شروع کیا۔

۔اشفاق اللہ خان کی پیدائش اترپردیش کے شاہجہاں پور میں 22 اکتوبر سنہ 1900 کو ہوئی تھی۔ انہیں بچپن سے ہی پڑھائی کا شوق کم ...
16/06/2026

۔

اشفاق اللہ خان کی پیدائش اترپردیش کے شاہجہاں پور میں 22 اکتوبر سنہ 1900 کو ہوئی تھی۔ انہیں بچپن سے ہی پڑھائی کا شوق کم تھا لیکن گھڑ سواری، نشانے بازی اور شکار کرنے میں دلچسپی تھی

کاکوری معاملے میں اہم کردار ادا کرنے والے اشفاق اللہ خان اور ان کے دونوں ساتھیوں کو انگریزوں نے پھانسی کی سزا سنائی اور 19 دسمبر سنہ 1927 کو اشفاق اللہ خان، رام پرساد بسمل اور روشن سنگھ نے ملک کی خاطر پھانسی کے پھندے کو چوم لیا۔ اشفاق اللہ خان نے اپنی نظموں کے ذریعہ مجاہدین آزادی کو تحریک دی

برطانوی نوآبادیاتی دور میں فوجی بھرتی کے ریکارڈ کے مطابق بعض مواقع پر گگیانیوں کو ترجیح نہیں دی جاتی تھی۔ گگیانی زیادہ ت...
16/06/2026

برطانوی نوآبادیاتی دور میں فوجی بھرتی کے ریکارڈ کے مطابق بعض مواقع پر گگیانیوں کو ترجیح نہیں دی جاتی تھی۔ گگیانی زیادہ تر زرخیز زمینوں سے وابستہ تھے اور گزشتہ کئی صدیوں سے زراعت اور نقد آور فصلوں پر انحصار کرتے تھے، اور وہ عام طور پر فوجی خدمات میں شامل نہیں ہوتے تھے۔ تاریخی طور پر تپہ گگیانی دوآبہ میں تعلیم کا رجحان نسبتاً کم تھا، اسی وجہ سے یہ علاقہ بعض دیگر پشتون قبائل کے مقابلے میں وہ شہرت حاصل نہ کر سکا، جو نسبتاً سخت اور پہاڑی علاقوں وہ لوگ انیسویں صدی کے آغاز میں اپنے رزقِ حلال کی تلاش میں دنیا بھر میں پھیل گئے۔ اسی طرح ابتدائی افغان قبائل بھی ہندوستان میں روہیل کھنڈ میں آباد ہوئے، جبکہ کچھ دیگر قبائل سترہویں صدی کے آس پاس ہجرت کر گئے۔
زمینوں کی تقسیم کے بعد آپ دیکھیں گے کہ تپہ گگیانی کے لوگوں میں 1970 کی دہائی کے آخر میں تعلیم کا رجحان بڑھنا شروع ہوا۔ بعد میں تپہ گگیانی دوآبہ کے لوگ روزگار کے سلسلے میں مشرقِ وسطیٰ کی طرف ہجرت کرنے لگے۔
1910 سے پہلے ابازئی نہر (شاخ نمبر 6) تعمیر ہوئی، اور اس کے بعد ہشتنگر کے لوگوں کی زندگی پہلے کے مقابلے میں بہتر ہو گئی، جب ان کی زمینیں سیراب ہوئیں۔
دوسری طرف، 1960 کی دہائی کے آخر میں مہمند کسانوں کی محنت سے جنوبی ہشتنگر کی زمین زرخیز ہوئی اور اچھی فصلیں پیدا ہونے لگیں۔
ابازئی نہر کی تعمیر سے پہلے، ہشتنگر کے تپہ محمد زئی کے لوگ شلگره کی زمینوں پر انحصار کرتے تھے، اور جب بھی کوئی بچہ پیدا ہوتا تو کہا جاتا تھا کہ بچے کا رخ گگیانی دوآبہ کی طرف کیا جائے تاکہ اسے بابرکت قسمت نصیب ہو۔

میجر آر۔ ٹی۔ کِڈگ وے، 40ویں پٹھان رجمنٹ کے اس مؤقف سے اتفاق نہیں کيا جاُسکتا، جو 1910 میں پٹھانوں کے لیے بھرتی کے اسٹاف افسر کے طور پر تعینات تھے۔ میرا ماننا ہے کہ گیگیانی ہمیشہ سے بلند قد اور باوقار شخصیات کے حامل رہے ہیں۔ تاہم، ہمارے بزرگوں کے مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر ہماری معلومات مختلف ہیں۔ انہوں نے اپنی فوجی کمان کے تحت ایسے لوگ نہیں پائے جو ان کے احکامات پر عمل کریں، اور یہی ایک وجہ ہے کہ تحریکِ باچاخان کو اس دوآبہ علاقے میں، جو گیگیانی اور دادوزئی قبائل پر مشتمل ہے، بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔

تاریخی طور پر، گیگیانیوں نے رنجیت سنگھ کی حمایت درانیوں کے خلاف کی، کیونکہ موجودہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے میں تاريخی افغانوں کے بارے میں ان کا رویہ غیر مقبول تھا۔ ان کی حکومت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ انہوں نے اس خطے کو مختصر عرصے کے لیے دبانے کی کوشش کی اور اسے زرخیز سرزمین کے طور پر لوٹا۔ تاہم، اس علاقے میں ان کا کوئی مستقل تاریخی حق نہیں تھا، سوائے اس مختصر دورِ حکومت کے، جسے رنجیت سنگھ نے مقامی افغانوں کی حمایت سے ختم کر دیا، کیونکہ اس مختصر عرصے میں زمینوں پر غیر قانونی قبضے کی مخالفت کی گئی تھی۔
تاریخی طور پر، تپہ گیگیانی دوآبہ ہندوستان کی ترکزئی مہمند افغانستان کے ساتھ سرحد تھا، ترکزئی مہمند علاقے پر مورچاخیل خاندان کی حکمرانی لال پورہ افغانستان سے تھی۔ تپہ گیگیانی کا مغل دہلی دربار سے تاریخی تعلق تھا، اور اس کی آمدن اور انتظامی امور ارباب کے عہدے کے ذریعے چلائے جاتے تھے، جو تاریخی طور پر مغل خیل چیف گیگیانی خاندان، شبقدر گاؤں کے بہلول خیل گیگیانی خاندان، اور امباڈيد کے سلیمانزئی گیگیانی خاندان میں پائے جاتے تھے۔
ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ سکھوں نے سب سے پہلے تپہ گیگیانی دوآبہ میں انتظامی نظام قائم کیا تاکہ افغانستان کی سرحدی امور کو منظم کیا جا سکے۔
Credit: Tareekh shabqadar duaba

14 صدیاں پرانی ایک گواہی...'میں عمرو بن ربیعہ الثقیفی ہوں۔ میں نے یہ افریقہ کے سال میں لکھا۔واقعہ یہ ہے  کہ آج سے تقریبا...
14/06/2026

14 صدیاں پرانی ایک گواہی...'میں عمرو بن ربیعہ الثقیفی ہوں۔ میں نے یہ افریقہ کے سال میں لکھا۔واقعہ یہ ہے کہ
آج سے تقریباً 1,420 سال قبل، جب تاریخ محفوظ کرنے کے جدید ذرائع نہ تھے، ایک مسلمان مجاہد چلچلاتی دھوپ میں ایک پتھر پر اپنے دل کی آواز کندہ کرتا ہے۔ یہ محض ایک تحریر نہیں، بلکہ ہمارے شاندار ماضی، تہذیب اور اسلاف کے تقویٰ کا ایک انمول شاہکار ہے۔
اس تاریخی اور قدیم ترین نقش پر یہ خوبصورت الفاظ درج ہیں:
میں عمرو بن ربیعہ الثقفی ہوں۔ میں نے یہ افریقہ کے سال میں تحریر کیا۔ اور میں اپنے رب، اللہ سے بخشش کا طلب گار ہوں۔
افریقہ کا سال کیا ہے؟
ابتدائی اسلامی دور میں مسلمانوں کا یہ شاندار رواج تھا کہ وہ سالوں کو محض ہندسوں کے بجائے عظیم الشان اسلامی فتوحات اور تاریخی واقعات کے نام سے یاد رکھتے تھے۔
تحریر میں موجود افریقہ سے مراد موجودہ دور کا ملک تیونس (Tunisia) ہے۔ افریقہ کا سال دراصل 27 ہجری کا وہ عظیم سال ہے جب امیر المومنین خلیفہ سوم سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مبارک دورِ خلافت میں اسلامی لشکر نے افریقہ (تیونس) کو فتح کر کے وہاں توحید کا پرچم بلند کیا تھا۔
عمرو بن ربیعہ الثقفی کون تھے؟
عمرو بن ربیعہ کا تعلق طائف کے مشہور، جنگجو اور بہادر قبیلے بنو ثقیف سے تھا۔ آپ اسلام کے ابتدائی دور کے ان عظیم اور گمنام مجاہدین میں سے تھے، جنہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور میں ہونے والی عظیم فتوحات میں اپنا خون پسینہ ایک کیا۔
اس چھوٹی سی تحریر کا سب سے خوبصورت اور دل کو چھو لینے والا پہلو اس کا اختتام ہے۔ ایک مجاہد، جو ایک عظیم الشان عالمی فتح کا حصہ ہے، وہ پتھر پر اپنا نام اور فتح کا سال تو لکھتا ہے، لیکن کسی تکبر، غرور یا اپنی بہادری کے قصے سنانے کے بجائے، اپنی تحریر کو اللہ کی بارگاہ میں استغفار پر ختم کرتا ہے۔
سبحان اللہ! یہ تھے ہمارے وہ اسلاف جنہوں نے دنیا کے تخت الٹ دیے اور براعظموں کو فتح کیا، لیکن ان کے دلوں کی سب سے بڑی فکر صرف اور صرف اپنے رب کی رضا اور اس کی بخشش تھی۔ اور یہی وہ سچا جذبہ تھا جس نے انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں امر کر دیا۔ حافظ میاں عتیق الرحمٰن اظہری (ریسرچ اسکالر)

13/06/2026
ایچی سن کالج اور پاکستانی برہمن طبقہمحمد بشارتبرطانیہ نے برعظیم پر اپنی فتوحات کا خاتمہ 1849ءمیں پنجاب پر قبضہ کرنے کے ب...
06/06/2026

ایچی سن کالج اور پاکستانی برہمن طبقہ

محمد بشارت

برطانیہ نے برعظیم پر اپنی فتوحات کا خاتمہ 1849ءمیں پنجاب پر قبضہ کرنے کے بعد مکمل کیا اور شاہی قلعہ لاہور پر برطانیہ نے اپنا جھنڈا لہرایا۔ اس پورے خطے کے انسانوں کو سیاسی طور پر غلام بنانے کی مہم کایہ آخری معرکہ تھا۔

لاہور جو پہلے ہی تہذیب کا مرکز تھا اور مغلیہ سلطنت کا مضبوط سیاسی قلعہ، اس شہر میں برطانیہ نے نوآبادیاتی مقاصد کے پیش نظر یہاں پر تعلیمی نظام کی بنیاد رکھنی شروع کی۔ 1864ءمیں گورنمنٹ کالج لاہور کے بعد1886ءمیں دو سو ایکٹر رقبے پر ایچی سن کالج کی بنیاد رکھی گئی۔ دو جنوری 1886ء کو اس لاہور میں چیفس کالج کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نام 13 نومبر 1886ء کو تبدیل کر کے ایچی سن کالج رکھ دیا گیا۔

اس کالج کی عمارت کا نقشہ بھائی رام سنگھ نے بنایا جبکہ اس کی تعمیر میں سر گنگا رام نے بطور چیف انجینئر کام کیا، گنگا رام نے لاہور میں متعدد عمارات کی تعمیر میں بطور چیف انجینئر کام کیا اس کالج کا نام اُس وقت کے لیفٹیننٹ گورنر پنجاب چارلیس ایچی سن سے منسوب کیا گیا۔

اس بورڈنگ کالج میں ابتدائی طور پر پنجاب بھر کے جاگیردار، وڈیرے اور پھر برطانیہ کے لیے بطور سیاسی ایجنڈ کام کرنے والے خاندانوں کے بچوں کے لیے تعلیم کا بندوبست ہوا۔ ایچی سن کالج میں پہلے دن سے ہی بھاری فیسوں کی وجہ سے یہاں پر صرف انہی خاندانوں کے بچوں کی ذہنی آبیاری کی جانے لگی جس کا مقصد مستقبل کے لیے برطانیہ کو اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطروفاداروں کی نئی پود تیار کرنا تھی۔

اس کالج کی خاص بات یہ تھی کہ یہاں پر نافذ ہونے والے تعلیمی نظام اور نصاب تعلیم کو نوآبادیاتی سانچے میں ڈھالا گیا اس کے بعد یہ کالج پھلنے پھولنے لگا۔ برطانیہ کے وفادار پنجاب کے خاندان ہی نہیں بلکہ سندھ کے جاگیرداروں کے بچوں کو بھی اسی کالج میں داخلے دیے گئے۔

جاگیردارخاندانوں کا یہ وہ ٹولہ تھا جو 1857ءکی جنگ آزادی میں قومی غداری کا مظاہرہ کیا اور انگریزوں کی وفاداری کے مرتکب ہوکر برطانیہ کی فتوحات کے جھنڈے پنجاب میں بھی بلند کرائے۔ ایچی سن کالج میں اس نئی وفادارنسل کی تیاری میں بیوروکریسی کا وہ طبقہ بھی تیار ہوا جو برطانوی سامراج کے ساتھ ملکر اس قوم پر غلامی مسلط کرنے میں انگریزوں کی وفاداری کرتا رہا۔

ایچی سن کالج کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ130سالوں سے یہاں پر صرف اشرافیہ کے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اور آزادی کے بعد بھی خود کو برہمن تصور کرنے والی پاکستانی اشرافیہ کے بچوں کو ہی ایچی سن کالج میں داخلہ ملتا ہے۔عوامی ٹیکسوں پر پلنے والے یہ انسان دشمن پاکستانی برہمن باقی ساری عوام کو شودر سمجھتے ہیں۔ 1947ءسے لیکر آج تک سیاسی اشرافیہ نے بیوروکریسی کے توسط سے ایچی سن کالج پر قبضہ کیا ہوا ہے۔

اس کالج میں اشرافیہ کے بچوں کی جدید نوآبادیاتی دور کے تقاضوں کے مطابق ذہنی آبیاری کی جارہی ہے اور پھر یہاں کے فارغ التحصیل طلباءبیرون ممالک اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد پاکستان پر سیاسی اور بیوروکریسی کی شکل میں مسلط کر دیے جاتے ہیں۔

سابق وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی، اکبر بگٹی،چوہدری نثار علی خان،عمران خان،پرویز خٹک، فاروق لغاری،سردار ایاز صادق،غلام مصطفی کھر سمیت کتنے ایسے نام اوربھی موجود ہیں جو ملکی سیاست پر چار دہائیوں سے قابض ہیں ۔

پاکستانی عوام کی جدید غلامی کی اس نئی شکل میں ایچی سن کالج کا محض یہی کردار ہے۔نہ تو یہاں کا نصاب تعلیم کا ملک کے ساتھ کوئی سروکار ہے اور نہ ہی ایچی سن کالج سے وابستہ خاندانوں کو قومی ترقی سے غرض ہے۔ گورنر پنجاب جو سیاسی اشرافیہ کے وفاقی نمائندے ہیں ان کی ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز میں صرف یہی حیثیت ہے کہ کالج کو اشرافیہ کے مفادات کے تحت چلانا ہے۔

دو سال قبل جب اُس وقت کے پرنسپل ڈاکٹر آغا غضنفر نے جب اشرافیہ کے نکمے بچوں کے لیے ایچی سن کالج کے دروازے بند کیے تواُس وقت کے گورنر پنجاب بااثر سیاسی اشرافیہ کے زیر اثر ہوکر پرنسپل پر اس کالج کے دروازے بند کر دیے۔

ایچی سن کالج کے پرنسپل کو تو سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی، بااثر کاروباری شخصیت میاں منشاء، سابق گورنر مخدوم احمد محمود اور دیگر خاندانوں کے لیے زرخرید غلام سمجھتے ہیں اور جب اس غلام نے بغاوت کی اور ان کے بچوں کو داخلے دینے سے انکار کیا تو اس جُرم کے پاداش میں انہیں عہدے سے ہی فارغ کر دیا گیا۔

یہ کالج بنیادی طور پر اشرافیہ کی تیاری کا مرکز ہے جس کالج میں ایک مہینے کے اخراجات فی طالبعلم ایک لاکھ سے زائد ہوں تو وہاں پر ذہانت کی بنیاد پر نہیں بلکہ ملک کی دولت لوٹنے والوں کے نااہل بچوں کو سرمائے کی بنیاد پر ہی داخلہ مل سکتا ہے جو یہ اخراجات برداشت کرتے ہیں۔

ذرا غور کریں کہ ایچی سن کالج میں پڑھنے والے بچوں نے آج تک ملکی تاریخ میں کون سی توپ چلائی ہے جس پر انہیں فخر ہوسکے؟ پاکستان کی اشرافیہ تو سٹیٹس کو کی دن رات پوجا کرتی ہے ان کی خواہش ہے کہ ایچی سن کالج جیسے مزید کالج بنائے جائیں تاکہ وہ اپنی پوری کی پوری نسلوں کی یورپین طرز پر پرورش کریں کیونکہ ایچی سن کالج کی روایات اور کھیل اس بات کی گواہی ہیں کہ اس ادارے سے وابستہ خاندانوں کو ملکی ثقافت اور روایات سے نفرت ہے وگرنہ یہ اپنے بچوں کی پرورش اسی ملک میں کریں۔

معاملہ یہیں نہیں ختم ہوتا، ایچی سن کالج کا پھرملکی ترقی میں کیا کردار ہے؟ اس کالج کا نصاب تعلیم یورپین، امتحانی نظام یورپین اور رہن سہن یورپین تو پھر یہ پاکستان کے وفادار کیسے بن سکتے ہیں؟حکومت پنجاب اور وفاقی حکومت میں موجود بڑے بڑے برجوں کے خاندانوں کی بقاءاسی میں ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے ہی خاندانوں جیسے بچوں کے ساتھ پڑھائیں تاکہ اس ملک کو عالمی سامراجیت اور غلامی کے جدید دور کے مطابق ملکر یرغمال بنایا جاسکے۔

حکومت اپنی مکروہ نیت اور دوغلی پالیسی کے تحت ملک کے اٹھارہ کروڑ عوام پر معیاری تعلیم کے دروازے بند کر کے اپنے استحصالی منصوبوں کو تقویت دینا چاہتی ہے اور ایچی سن کالج اس بچھائی ہوئی شطرنج کا اہم مہرہ ہے، باقی بھولی عوام، سیاستدانوں کے دلفریب نعروں کی زد سے اس وقت تک آزاد نہیں ہوسکتی جب تک ان میں حقیقی آزادی کا شعور پیدا نہیں ہوتا۔

پنجاب حکومت نے صوبے میں دانش سکولز کھول کر یہ واضع پیغام دے دیا ہے کہ غریبوں کے بچوں کے لیے ایچی سن کالج میں کوئی جگہ نہیں ہے وگرنہ ایچی سن کالج کو ہی غریبوں کے ذہین بچوں کے لیے کھولا جاتا۔ تعلیمی شعبے میں حکومت کی یہ منافقت واضع دلیل ہے کہ قوم کو ذہنی طور پر تقسیم رکھنے کے لیے انہیں مختلف تعلیمی نظاموں میں ہی پڑھایا جائے۔

Address

Canal Road Mardan
Mardan
23200

Telephone

+923321923189

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when مخزن posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Museum

Send a message to مخزن:

Share

Category