20/06/2026
راولپنڈی کے گزیٹیئر، رائے بہادر دونی چند کی گکھڑوں کی تاریخ پر مبنی کتاب ’کائی گوہر نامہ،‘ سر لیپل ایچ گریفن کی کتاب ’پنجاب چیفس‘ میں اس حوالے سے ملتی جلتی روایتیں بیان کی گئی ہیں۔
جن میں قدر مشترک یہ ہے کہ سلطان سارنگ خان جیسا بہادر اور جری گکھڑ سردار تاریخ نے کم ہی دیکھا جس نے سندھ دو آب جیسے وسیع علاقے پر قائم اپنی ریاست کی پروا نہ کرتے کرتے ہوئے سوریوں حکمرانوں سے محض اس لیے ٹکر لے لی کہ وہ مغل خاندان کا احسان مند تھا اور بابر نے اس کی مدد کی تھی۔
سلطان سارنگ کی زندگی پر حال ہی میں ایک کتاب Sarang, Reflective Essays on the History of Gakkhars سامنے آئی ہے جسے ڈاکٹر صہیب احمد کیانی نے لکھا ہے۔ ڈاکٹر صہیب احمد کیانی بنیادی طور پر انجینیئر ہیں اور نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی میں پڑھاتے ہیں۔ کتاب میں سلطان سارنگ خان کے حالات پر مفصل روشنی ڈالی گئی ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ کائی گوہر نامہ کے بعد گکھڑوں کی تاریخ پر کسی نے مستند کام کیا ہے تو وہ ڈاکٹر صہیب احمد کیانی ہی ہیں۔
سلطان سارنگ خان کو پوٹھوہار کی حکمرانی کا تاج بابر نے اس وقت پہنایا جب بابر ہندوستان پر حملے کی غرض سے بھیرہ میں مقیم تھا۔ آج صدیاں گزرنے کے باوجود سلطان سارنگ خان پوٹھوہار کے لوک ہیرو کے طور پر موجود ہے گکھڑوں کی جنگی روایات میں جو مقام سلطان سارنگ خان کو حاصل ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں آیا۔