10/08/2026
**ایک بنجر وادی۔۔۔ بےمثال خوشحالی!**
**محفوظ قافلے۔۔۔ بےخوف سفر!**
نہ کھیت تھے۔۔۔
نہ باغ۔۔۔
نہ کوئی بڑا دریا۔۔۔
پھر بھی قریش کے پاس تجارت تھی، دولت تھی، امن تھا، اور پورے عرب میں عزت تھی۔
آخر یہ سب کیسے ممکن ہوا؟
قریش سردیوں میں **یمن** کی طرف سفر کرتے،
اور گرمیوں میں **شام** کی طرف۔
پھر ایک دن ابرہہ ہاتھیوں کا لشکر لے کر **کعبہ** پر حملہ کرنے آیا۔۔۔
قریش بےبس تھے، مگر **کعبہ کا رب بےبس نہیں تھا۔**
کعبہ محفوظ رہا۔
قریش کی ہیبت بڑھی۔
تجارت مزید مضبوط ہوئی۔
لیکن پھر...
**نعمتیں بڑھیں۔۔۔ اور قریش اپنے رب کو بھولنے لگے۔**
تب قرآن نے انہیں ان کی پوری تاریخ یاد دلائی۔
**لِإِيلَافِ قُرَيْشٍ**
صرف 4 آیات...
مگر ان میں قریش کی **تجارت، امن، رزق، عزت اور اللہ کی نعمت** کی پوری حقیقت موجود ہے۔
اور آج بھی سوال وہی ہے:
**ہم اپنی نعمتیں تو گنتے ہیں۔۔۔
کیا کبھی نعمت دینے والے کو بھی پہچانا ہے؟**
📖 **سورۃ قریش — قرآن بولتا ہے**
**ہر آیت کے پیچھے ایک حقیقت۔
ہر حقیقت میں ایک سبق۔**