سلطان خیل نیازی پشتون

سلطان خیل نیازی پشتون يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَر?

27/12/2024

میانوالی کا شیردل، شیر خان نیازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔ماہرین تعمیرات کے نزدیک دبئی میں دنیا کی بلند ترین عمارت برج خلیفہ بلا شبہ اس صدی کے عجائبات میں سے ایک ہے
162منزلوں 2722فٹ بلند اس منفرد عمارت کی تعمیر پر8 ارب امریکی ڈالر کے برابر لاگت آئی تھی۔اس کی تعمیر کا اہتمام مشہور کورین کمپنی سام سنگ سی اینڈ ٹی نے بلجیم کی معروف کمپنی ''بیسکس ‘‘ اور متحدہ عرب امارات کی کمپنی '' عرب ٹیک‘‘ کے ساتھ ملکر کیا تھاجبکہ بنیادی کنسٹرکشن کا انتظام'' ٹرنر ‘‘ نامی کمپنی کے سپرد تھا۔
برج خلیفہ اس لحاظ سے ایک منفرد عمارت ہے کہ اس میں30 ہزار رہائشی اپارٹمنٹ، ہوٹل ، ایک جھیل، 19 رہائشی ٹاور ، 48کنال پر محیط باغات، ریسٹورنٹس، دفاتر ، شاپنگ سنٹرز، فٹنس سنٹرز اور 158 ویں منزل پر دنیا کی بلند ترین خوبصورت مسجد اپنی پوری شان کے ساتھ جلوہ افروز ہے۔
اس بلند ترین عمارت پر پوسٹ دینے کی وجہ یہ ہے کہ دنیا کے اس آٹھویں عجوبے کے ساتھ میانوالی کا نام بھی جڑا ہے ۔
اس بلند ترین عمارت کی تعمیر کے دوران
بڑے بڑے چینلجز اور مشکلات کا سامنا رہا جن میں ایک چیلنج یہ بھی تھا کہ سامان اٹھانے والے کرینوں میں 120 منزل کے بعد سامان لے جانے کی صلاحیت نہیں تھی جس کا حل سیلف جیک مینکانزم کے ذریعے نکالا ۔
جب اس عمارت کی تعمیر 140ویں منزل پر پہنچی تو کرین آپریٹرز نے مزید بلندی پر کام کرنے سے انکار کردیا
اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے ایچ آر فرم نے دنیا سے بہترین کرین آپریٹر ہائر( Hire)کئے جو بلندی پر کام کرنے میں مہارت رکھتے تھے اور جنہیں بلندی پر آپریٹنگ سے ڈر نہیں لگتا تھا ۔
ان ہی بہادر کرین آپریٹرز میں ایک میانوالی کا شیر دل شیر خان بھی تھا۔
بلاشبہ 700میٹر کی اونچائی پر کرین اپریٹریٹنگ جان جوکھوں کا کام تھا جسے کوئی دل گردے والا ہی کرسکتا تھا اور یہ اعزاز میانوالی کے ایک شیردل محنت کش شیر خان کو حاصل ہوا
داؤد خیل کے علاقے کچہ کے رہائشی شیر خان کا تعلق سالار قبیلے سے ہے ۔
برج خلیفہ پر بننے والی زیر نظر ڈاکومنٹری ویڈیو میں میانوالی کے اس بہادر سپوت کو دکھایا گیااور اس کی تعریف کی گئی ہے
برج خلیفہ کی طرح میانوالی کا نام آسمان کی بلندی تک پہنچانے پرہم اپنے محنت کش کرین آپریٹر شیر خان سالار کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔

"سلطان خیل نیازی پشتون"

08/12/2024

مکڑوال میں ملن رت کے حسین لمحات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گذشتہ دنوں مکڑوال میں حاجی ارسلا خان پہاڑخیل کی کوٹھی پر اپنی نوعیت کی ایک منفرد ، دل گداز اور طویل نشست (Gathering) دیکھنے کو ملی
یہ گیدرنگ عام گیدرنگ نہیں تھی کوئی سرکاری تقریب ، سیاسی مظاہرہ یا مذہبی اجتماع نہیں تھا۔
یہ نشست معاشرتی اقدار کے آمین ،خلوص و وفا کے پیکر کئی بچھڑے یار بیلیوں اور ہم جولیوں کا جھرمٹ اور جمگھٹا تھا۔
وہ یار بیلی جن کا بچپن اور لڑکپن سانجھا رہا
غم روزگار ، شکم کی آگ یا سہانے خواب ان کے بیچ دوریوں اور فاصلوں کا سبب بنے ۔
سو بچپن کے یہ بیلی ایسے بچھڑے کہ انہیں لوٹ آنے کی فرصت نہ ملی ۔
لیکن مکڑوال کی مٹی سے وفا ان کے لہو میں شامل کہ وہ اسے بھولے نہیں
بچپن کے بیلی ، عہد رفتہ کے مسکن ، گلیاں چوبارے ، کتابیں اور مکتب ، فلک بوس پہاڑی اور کوئلے کی ڈھیریاں ان کے دل و دماغ پر آج بھی نقش ہیں۔
سجاد شاہ کو شاباش کہ یہاں سے کوچ کرنے والے پنکھ پکھیرؤں سے اب تک سلسلۂ ربط جوڑے ہوئے ہیں
شاہ جی کی مسلسل محنت ، لگن اور جستجو رنگ لے آئی ان کی کوششوں سے ان بچھڑے اور بکھرے دوستوں کا اکٹھ ہوا، مکڑوال میں بزمِ یاراں سجی اور ایسی سجی
کہ دیکھنے والے دیکھتے رہ گئے ۔
مسرت ، محبت ، طمانت ، عنایت
وہ ورافتہ بھی تھے دل گرفتہ بھی تھے
کہیں کھلکھلاہٹ اور قہقہے
کہیں سسکیوں کے زمزمے
یہ دور ابتلا
جہاں باپ بیٹے سے نالاں۔۔۔۔
بیٹا باپ سے بیزار ۔۔۔۔۔۔۔
بھائی بھائی کا عدو ۔۔۔۔۔۔
احترام آدمیت نہ رشتوں کا پاس ۔۔۔۔۔۔
ایسے میں خلوص و وفا کے یہ روح پرور مناظر اور دلنوازی کے رنگ ۔۔۔۔۔۔ ناقابل یقیں، صد لائقِ تحسیں ۔۔۔۔۔۔
اس نشست میں پاکستان کے کونے کونے سے وہ صاحب علم و ہنر تشریف لائے جن کے بڑے
پی ایم ڈی سی کے دور عروج میں مختلف پوسٹوں پر براجمان رہے ۔
یہ اہل وفا وہ ہیں جنہوں نے مکڑوال میں آنکھ کھولی ، جن کا بچپن مکڑوال کی گلیوں میں بیتا ، یہیں پلے بڑے "الف سے انار " کی شروعات کی یہاں کے مادر علمی سے فارغ التحصیل ہوئے اور پھر وقت اور حالات نے انہیں اپنا جنم بھومی چھوڑنے پر مجبورکیا مگر وہ عہد رفتہ کو بھولے نہ اس مٹی کی خوشبو کو ۔۔۔
میرے لئے یہ سب اجنبی مگر دل کے قریب کہ یہ مہمان میرے فکر و خیال کے ترجماں۔۔۔۔۔
ان کی طرف سے کچھ ایسے رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے جس نے پوسٹ لگانے پر مہمیز کیا ۔
میں نے ایک ایسی آڈیو سنی جس میں ایک بزرگ اس چوکھٹ سے لپٹ کر بچوں کی طرح بلک بلک کر رو رہا ہے جہاں اس کی پرورش ہوئی، بچپن بیتا
مادر علمی کے در ودیوار کو چومتے ان کی آہیں اور سسکیاں دیکھنے والوں کو آبدیدہ کرگئیں۔
سجاد شاہ نے ایک بہترین منتظم اور
میزبان کے طور پر خود کو منوایا اور مہمانوازی کی اعلٰی مثال قائم کی
ان کی طرف سے مہمانوں پر التفات کی بارش ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔
دو دن جاری رہنے والی یہ محفلِ یاراں جس میں 30/40 مہمان اور بے شمار مقامی صاحب علم و دانش کی آمد و رفت جاری رہی مہمانوں کا فرداً فرداً والہانہ استقبال ، پرتکلف ضیافت کا اہتمام ، قیام و طعام کابندوبست ، ان کے سیر و تفریح اور آرام و ضروریات کا خیال کوئی آسان کام نہ تھا جو سجاد شاہ نے کر دکھایا ۔ بہت خوب ، قابل ستائش ، صد آفرین
" ژوندون ژمی مازدیگر" کیا خبر کون کب بچھڑ جائے ۔
یاد رہے کہ جانے والے کی یادیں ہی رہ جاتی ہیں
جب سب کا جانا ٹھہرگیا تو پھر کیوں نہ اچھی یادیں چھوڑ کر جائیں ۔
سب کا بھلا سب کی خیر
ویڈیو کے لئے محترم سجاد شاہ کا ممنوں ہوں ۔

"سلطان خیل نیازی پشتون"

27/11/2023

ہماری ثقافت ہماری شناخت
پاوندہ / کوچی..
۔۔۔۔۔۔۔۔
گل بادشاہ خان سے میں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ
استاد مجھے ریورس میں بھی چلانا سکھا دو
وہ کہنے لگا کہ یہ میرے اُستاد نے مجھے نہیں سکھایا
میرا استاد چنار گل خان بولتا تھا کہ!
شیر، ہوائی جہاز، گولی، ٹرک اور پٹھان ریورس گئیر میں چل ہی نہیں سکتے!!!
(مشتاق احمد یوسفی/آب گم)
لیکن میں آپ کو گاہے بگاہے ریورس چلاتاہوں تاکہ آپ کو اپنی تاریخ ، ثقافت اور عہدرفتہ کی جانکاری ہو ۔
آج کوچی یعنی پاوندوں کے بارے میں کچھ عرض کرنے کی جسارت کر رہا ہوں جسے اردو میں خانہ بدوش کہتے ہیں ۔
کوچی فارسی کے لفظ کوچ سے نکلا ہے جن کے معنی ہیں نقل مکانی کرنا، سفرپرروانہ ہونا جبکہ پاوندہ لفظ میرے مطابق پووُل سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں چَرانا ، چرنے والا چرانا ۔
خانہ بدوش بھی فارسی کا لفظ ہے جس میں خانہ کے معنی "گھر" اور بدوش کے معنی ہیں "کندھے پر" ۔
خانہ بدوش کا مطلب کندھے پر گھر رکھ کر گھومنے والے ۔
پاوندہ ،کوچی یا خانہ بدوش ایسے لوگوں کو کہا جاتا ہے جن کا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں ہوتا وہ ایک جگہ قیام نہیں کرتے موسمی تبدیلی کے ساتھ ہمیشہ چراگاہوں کی تلاش میں محو سفر رہتے ہیں گرمیوں میں سرد علاقوں کا رخ کرتے ہیں تو سردیوں میں گرم علاقوں کا ۔
کیپٹن رابنسن اپنی کتاب (1932ء)میں ماضی قریب کے کوچیوں کے متعلق لکھتے ہیں
" خراسان کے مشرقی پہاڑوں میں رہنے والے مختلف افغان قبائل جو موسم خزاں کے وقت دریائے سندھ کی وادی کے علاقے یعنی خیبرپښتونخوا، بلوچستان اور پنجاب میں سردیاں گزرانے آیا کرتے تھے اور موسم بہار میں واپس چلے جایا کرتے تھے ان خانہ بدوش لوگوں کو شمالی اور شمال مشرقی افغانستان یعنی پشاور، کوہاٹ اور بنوں کے اضلاع میں کوچی جبکہ افغانستان کے جنوبی علاقے قندھار، ڈیرہ اسماعیل خان، جنوبی پنجاب اور بلوچستان میں پاوندہ کہتے تھے "
کہتے ہیں ابتداء میں تمام پشتون قبائل " پاوندہ ژوند " یعنی خانہ بدوشی کی زندگی گذارتے تھے جو وقت کے ساتھ ساتھ مہذب دنیا میں شامل ہوتے گئے اور ان کی زبان اور کلچر میں بھی تبدیلی آتی گئی ۔
آج بھی پشتونوں کا خالص کلچر اور زبان آپ کو صرف کوچی قبائل میں ملے گی۔
عہد رفتہ میں ہمارے اباؤاجداد نے بھی سخت کوش "پاوندہ ژوند " گذاری ہے
تاریخ کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ نیازی و دیگر لودھی قبائل نے لودھی سلطنت کے بانی بہلول لودھی (1490 ء) کے دور میں پاوندہ ژوند ترک کی اور مہذب دنیا سے آشنا ہوئے ۔
کوچیوں کا انحصار چونکہ کاشتکاری یا ملازمت کے بجائے مال مویشیوں اور زمین پر قدرتی چراگاہوں اور بہنے والے چشموں پر ہوتا ہے سو وہ اپنے بھیڑ بکریوں کے بڑے بڑے ریوڑ ، بار برداری کے اونٹ ، گدھے اور مرغیاں جنہیں وہ "مالداری" کہتے ہیں کے ساتھ موسم سرما میں KPKP ، بلوچستان اور پنجاب کا رخ کرتے ہیں اور موسم بہار میں واپسی کی راہ لیتے ہیں ۔
مالداری ( مال مویشی) کی رکھوالے کے لئے ان کے قافلوں میں خونخوار کتے بھی ہوتے ہیں جو" پاوندی اسپی" کہلاتے ہیں ۔
سنا ہے یہ خطرناک کتے بھیڑئے تک کو پڑ جاتے ہیں ۔
پاوندے آبادی سے کافی فاصلے پر پڑاؤ ڈالتے ہیں اور شہری لوگوں سے کم کم میل ملاپ رکھتے ہیں ملکی حالات اور سیاسی معاملات سے بے خبر ہوتے ہیں ان کے لئے ملک سے زیادہ اہم ان کا سفری روٹ ہوتا ہے ۔
کوچی انتہائی سخت کوش مگر سادہ طرز زندگی رکھتے ہیں جانوروں کا دودھ، دہی اور گوشت پر گذارہ کرتے ہیں ۔
یہ اس دور میں بھی اپنی گھریلو ضروریات پورا کرنے کے لیے فطرت کا سہارا لیتے ہیں اور اپنے خاندان میں خواتین کو خاص اہمیت دیتے ہیں مردوں کی طرح کوچی خواتین بھی انتہائی جفاکش ہوتی ہیں اور مردوں کے شانہ بشانہ کاموں میں حصہ لیتی ہیں
مردوں کے پاس ہمہ وقت ایک ڈانگ (لاٹھی)ہوتا ہے جس سے مال مویشیوں کو ہاکتے ہیں ۔
پشتون قوم کی خالص ثقافت اور زبان دیکھنی ہو تو وہ کوچیوں میں ملے گی ۔
پشتون کوچی (خانہ بدوش) دنیا کے دیگر خانہ بدوشوں کے مقابلے میں اس اعتبار سے ممتاز اور منفرد ہیں کہ وہ گلہ بانی کے ساتھ ساتھ تجارت بھی کرتے ہیں
ماضی میں وسط ایشیاء کے ممالک سے ہندوستان تک سفر کرنے والے خانہ بدوش جن میں نیازی بھی شامل تھے وسط ایشیاء اور افغانستان سے خشک میوہ جات ،تیار قالین،اون ، ،سیاہ زیرہ،ریشم اور جڑی بوٹیاں ہندوستان لے جاتے تھے اور وہاں سے مصالحہ جات ،گڑ،چینی،الائچی اور سپاری وغیرہ لے آتے تھے۔
کیپٹن رابنسن جن کوچیوں کا ذکر اپنی کتاب میں کرتا ہے یہ ماضی قریب یعنی برطانوی دور کے کوچی ہیں جن میں غیلزئیوں کے سلمان خیل ، علی خیل ، اکا خیل ناصر اور خروٹی جبکہ دیگر قبائل میں بیٹنی ، دوتانی ، شینواری ، منگل ، مہمند ، میاں خیل اور نیازی شامل ہیں ۔
نیازیوں میں کونڈی، مٹہی اور مچن خیل کا ذکر ہے ۔
2004 کے مردم شماری کے مطابق افغانستان میں کوچیوں کی آبادی تقریباً 2.4 ملین تھی ۔
2005ء کی افغان قومی اسمبلی میں کوچیوں کو اپنا حلقہ انتخاب حاصل ہوا اور 249 نشستوں میں سے 10نشستیں ان کے لیے مختص کی گئیں۔ مردوں کے لیے سات اور تین خواتین کے لیے۔ کوچیوں کی زندگی کا ایک عکس زیر نظر ویڈیو میں لوک گیت "بیا کڈے باریگی کے ساتھ پیش خدمت ہے ۔

" سلطان خیل نیازی پشتون "

11/10/2023

شاعر فطرت ، شاعر طلسمات منیر نیازی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیازی قبیلے میں عمران خان کے بعد اگر کسی اور نیازی سپوت نے شہرت کی بلندیوں کو چھوا ہے تو وہ ہیں "شاعر فطرت" اور "شاعر طلسمات" کہلانے والے منیر نیازی ۔
منیر نیازی پر شعر و ادب کے حوالے سے تو بہت کچھ لکھا گیا ہے انٹرویو بھی ہوئے مگر اس ماہ منیر کے حالات زندگی اور خاندانی پس منظر پر کم ہی کسی کی نظر جاسکی اگر کچھ لکھا بھی گیا تو وہ بھی غلط ۔
منیر نیازی نے خود بھی اپنے بارے میں کچھ لکھنے اور کہنے سے اجتناب برتا ہے ۔
ان کی تاریخ پیدائش تک میں اختلاف ہے اور ان کی ساہیوال آمد کو تقسیم ہند کی ہجرت سے جوڑا گیا ہے جو کہ غلط ہے ۔
منیر نیازی کی شخصیت و فن پر کتابیں لکھی گئیں ، PHD مقالے تحریر ہوئے سینکڑوں مضامین مختلف رسائل اور اخبارات میں شائع ہوئے شاید ہی کوئی بڑا ادیب یا شاعر ایسا ہو جس نے منیر نیازی کے فن پر اظہار خیال نہ کیا ہو ۔
مگر میں نے آج کے آرٹیکل کو ان کی حالات زندگی ، خاندانی پس منظر اور ادبی خدمات تک محدود رکھا ہے اس سلسلے میں مجھے جتنی معلومات مل سکی وہ آپ کے ساتھ Share کر رہا ہوں

خاندانی پس منظر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پٹھانوں کے نیازی قبیلے سے تعلق رکھنے والے منیر نیازی 19 اپریل 1928ء کو مشرقی پنجاب کے شہر ہوشیار پور کے ایک قصبہ خان پور میں پپدا ہوئے بعض مصنفین نے تاریخ پیدائش 14، اکتوبر 1922ء بھی لکھا ہے ۔
ہوشیار پور میں کوہ شوالک کے دامن میں نیازیوں کی کافی بستیاں ہیں جن میں تین چار تو باہی قوم کی ہیں ۔
1761ء میں احمد شاہ درانی نے پانی پت کی جنگ میں مرہٹوں کو شکست فاش دی اس جنگ میں نیازی قبیلے نے بھرپور حصہ لیا جس کے عوض بہت سے نیازی خاندانوں کو ہوشیار پور میں جاگیریں ملیں ۔
لیکن تحقیق سے یہ بات بھی پتاچلی ہے کہ ان نیازیوں میں کچھ نیازی احمد شاہ درانی کے ساتھ افغانستان سے آکر یہاں آباد ہوئے اور کچھ نیازی مغل حکمراں شہنشاہ اکبر کے مشہورکمانڈر محمد خان نیازی کے خلف سے بھی ہیں ۔
منیر نیازی کا تعلق بھی مغلیہ دور کے اسی مشہور کمانڈر محمد خان نیازی کی نسل سے ہے
منیر نیازی کے جد امجد سلیمان خان نیازی بن کمانڈر احمد خان نیازی بن کمانڈر محمد خان نیازی تھے
انکا مکمل شجرہ افاغنہ ہوشیار پور میں درج ہے
منیر نیازی کے علاوہ سابق نیول چیف کرامت الرحمٰن نیازی اور حال ہی میں سبکدوش ہونے والے نیول چیف امجد خان نیازی کا تعلق بھی ہوشیار پور کے ان ہی نیازی خاندانوں سے ہے
ہوشیارپور کے کوہساروں میں نیازیوں کے علاوہ دیگر پٹھان قبائل کی بستیاں بھی ہیں ۔
منیر نیازی کے والد کا نام فتح محمد خان اور والدہ کا نام رشیدہ بی بی تھا ۔
منیر نیازی کے والد فتح محمد خان 7 بھائی اور تین بہنوں میں تیسرےنمبر پر تھے
فتح محمد خان محکمہ انہار میں ملازم تھے ان کی شادی ہوشیار پور میں پٹھانوں کے مہمند قبیلے کی ایک خاتون رشیدہ بی بی سے ہوئی جو ایک تعلیم یافتہ اور شعر و ادب سے لگاؤ رکھنے والی خاتون تھیں اور ان ہی سے ادبی ذوق منیر نیازی میں منتقل ہوا
محمد منیر خان ابھی صرف دو ماہ کے تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ بعد میں اہل خانہ نے منیر کی والدہ کی شادی منیر نیازی کے ایک چچاسے کر دی والدہ کی دوسری شادی کے بعد خانگی مسائل کی وجہ سے ان کا بچپن نہایت نامساعد حالات میں گزرا۔
محمد منیر خان کی کفالت کا ذمہ تمام چچاؤں نے مل کر سنبھالا ۔

ہجرت
۔۔۔۔۔۔۔
عام رواج تھا کہ خان پور سے لوگ نوکری کرنے کے لیے برصغیر پاک و ہند کے دوسرے علاقوں اور بیرون ملک بھی جاتے تھے۔ تلاش رزق میں پٹھانوں کا یہ خاندان ساہیوال (اس زمانے میں منٹگمری تھا) میں آباد ہوا اس وقت منیر نیازی 7 سال کے تھے۔ ساہیوال میں ان کے چچاؤں نے ٹرانسپورٹ کا کاروبار شروع کیا۔ شب و روز کی محنت سے کاروبار ترقی کرنے لگا اور خاندان میں خوشحالی آئی ۔

حالات زندگی
۔۔۔۔۔۔۔۔
منیر نیازی نے میٹرک ساہیوال سے کیا ۔
میٹرک کے بعد وہ مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے اس لیے انہوں نے امرتسر کا رخت سفر باندھا ور ان کی والدہ کی مرضی بھی یہی تھی لیکن ان کے چچا منظور احمد جو فوج میں کرنل تھے انہوں نے محمد منیر خاں کو رائل انڈین نیوی میں سیلر بھرتی کرا دیا۔ فوجی ڈسپلن منیر نیازی کے مزاج کے خلاف تھا اس لیے وہاں سے بھاگ نکلے پکڑے گئے سزا ہوئی مگر سزا نے منیر نیازی کے اندر بغاوت کے جذبے کو مزید مضبوط کر دیا۔

بعد ازاں انہوں نے بہاولپور سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ پھر دیال سنگھ کالج لاہور میں بی اے کے لیے داخل ہوئے۔ یہاں سے سری نگر اور سری نگر سے جالندھر پہنچے اسی دوران برصغیر میں سیاسی حالات کشیدہ ہوگئے قیام پاکستان کے وقت منیر نیازی بی اے کے آخری سال میں تھے ۔
قیام پاکستان کے بعد وہ ساہیوال آئے اور یہاں سے صحافت اور شاعری کا آغاز کیااور منیرؔنیازی کے قلمی نام سےاپناایک نام پیدا کیا ۔منیرؔنیازی بہترین شاعر،نثرنگار،صحافی اورکالم نگارتھے مگرانھوں نے زیادہ شہرت اورنام شاعری میں پیدا کیا۔
شاعری کے خان اعظم منیر نیازی نے شاعری کا باقاعدہ آغاز 1949ء میں نظم برسات سے کیا.
جب انہیں شہرت ملی تو1950ء میں لاہور کا رخ کیا اور مستقل لاہور شفٹ ہوئے ۔
اس عظیم مگر بد نصیب شاعر نے دو شادیاں کیں مگر اولاد کی نعمت سے محروم رہے ۔
پہلی شادی 17 سال کی کچی عمر میں ایک خوبصورت بیوہ خاتون صغریٰ خانم سے کی جو 1958ء میں کینسر میں مبتلا ہو کر انتقال کر گئیں۔ پہلی اہلیہ کے انتقال کے بعد منیر نیازی کی تنہائی کو دیکھتے ہوئے بانو قدسیہ اور اشفاق احمد نے ان کی دوسری شادی 1958ء میں رامپور، یو پی سے مہاجرت کر کے کراچی آ کر بس جانے والے خاندان کی ناہید بیگم سے کروا دی۔ دوسری شادی کے بعد بے چین منیر نیازی کی زندگی میں بڑی حد تک ٹھہراؤ آ گیا۔
منیرنیازی کثرت سے شراب نوشی کے عادی تھے آخری عمر میں ان کو سانس کی بیماری ہو گئی تھی ۔

ادبی خدمات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیرؔنیازی کوقدرت نے شعری ذوق ودیعت کررکھا تھا اوراُن کے مزاج اورشخصیت میں شعری صلاحیتیں کوٹ کوٹ کربھری ہوئیں تھیں ۔
بیسویں صدی کی آخری نصف دہائی کو منیر نیازی کا عہد کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی اردو اور پنجابی کی شاعری کے ذریعہ کم از کم تین نسلوں کو متاثر کیا
انہوں نے شاعری میں اپنے وجود کے ایسے گہرے نقوش چھوڑے کہ اپنے عہد کے لیجنڈ بن گئے اور ان کی شاعری کلاسیک کا درجہ پا گئی
تصانیف ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
منیرؔنیازی کے اُردوشعری مجموعوں کی تعداد 13 ہے جن میں
1۔ بے وفا کا شہر
2۔ تیز ہوا اور تنہا پھول
3۔ جنگل میں دھنک
4۔ دشمنوں کے درمیان میں شام
5۔ سفید دن کی ہوا
6۔ سیاہ شب کا سمندر
7۔ ماہ منیر
8۔ چھ رنگین دروازے
9۔ شفر دی رات
10۔ چار چپ چیزاں
11۔ رستہ دسن والے تارے
12۔ آغاز زمستان
13۔ ساعت سیار
ماں بولی پنجابی شعری تخلیقات کے مجموعوں کی تعداد تین ہے جن میں "سفردی رات” ، ” چارچپ چیزاں ” اور” رستہ دسن والے تارے” شامل ہیں ۔
جب کہ دو انگریزی شاعری کے مجموعے بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔
صحافت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قیام پاکستان کے بعد ساہیوال میں ایک اشاعتی ادارے ارژنگ کی بنیاد رکھی گئ۔ اس ادارے کے تحت انہوں نے ایک ہفت روزہ رسالہ" سات رنگ" کے نام سے نکالا۔ 1950ء میں منیر نیازی نے لاہور کا رخ کیا اور لاہورمیں وہ حلقہ ارباب ذوق کے رکن بنے۔ حلقہ ارباب ذوق لاہور کے سیکرٹری بھی رہے ۔ لاہور میں بھی منیر نیازی نے ایک اشاعتی ادارہ المثال کے نام سے قائم کیا یہ ادارہ زیادہ دیر نہ چل سکا۔ منیر نیازی نے دوسری کوشش مکتبہ منیر کے نام سے کی لیکن یہ ادارہ بھی نہ چل سکا۔ لاہور میں اپنے قیام کے دوران منیرنیازی نے اپنے مالی معامالت کو بہتر بنانے کے لیے مختلف نوعیت کے تالیفی اور تصنیفی کام کئے حنیف رامے کے زیر ادارت رسالے ’نصرت‘ میں فروری 1961 سے اپریل 1964 تک وقفے وقفے سے منوچہر کے قلمی نام سے ادبی کالم لکھے جو دو کتابی شکل میں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ تراجم بھی کیے سفر نامہ بھی تصنیف کیا ایک غیر مطبوعہ ناول بھی لکھا
فلموں کے لئے سدا بہار گیت بھی لکھے اور ریڈیو اور ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔

اعزازات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منیر نیازی کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر حکومتِ پاکستان نے انہیں 1992ء میں پرائیڈ آف پرفارمنس، 2005 ءمیں ستارۂ امتیاز اور اکادمی ادبیات پاکستان نے کمال فن ایوارڈ سے نوازا ۔

سفر آخرت
۔۔۔۔۔
زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا اس سدا بہار گیت کے خالق کثرت شراب نوشی کی وجہ سے سانس کی بیماری میں مبتلا ہوئے اور 26 دسمبر 2006ء کو اپنے کروڑوں مداحوں کو سوگوار چھوڑ کر اس جہان فانی کو خیرباد کہا اور ماڈل ٹاؤن لاہور قبرستان میں آسودہ خاک ہیں ۔

اولاد
۔۔۔۔۔۔
منیر نیازی دو شادیاں کرنے کے باوجود اولاد کی نعمت سے محروم رہے ۔
وہ اولاد کی نعمت سے محروم تھے مگر ان کی ہمیشہ زندہ رہنے والی شاعری ان کی اولاد کا درجہ رکھتی ہے
منیر نیازی نے اردو کے تیرہ، پنجابی کے تین اور انگریزی کے دو مجموعے، کئی گیت، تنقیدی کالم،پسماندگان میں چھوڑے ہیں ۔

نمونۂ کلام اردو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
▪️ہمیشہ دیر کردیتا ہوں میں
▪️عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیرؔ اپنی
جس شہر میں بھی رہنا اکتائے ہوئے رہنا

▪️جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں

▪️آواز دے کے دیکھ لو شاید وہ مل ہی جائے
ورنہ یہ عمر بھر کا سفر رائگاں تو ہے

▪️اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

▪️یہ سفر معلوم کا معلوم تک ہے اے منیر
میں کہاں تک حدوں کے قید خانوں میں رہوں

ایک مشہور پنجابی قطعہ

کج اونج وی راھواں اوکھیاں سن
کج گَل وچ غم دا طوق وی سی
کج شہر دے لوک وی ظالم سن
کج مينوں مَرن دا شوق وی سی

گیت ۔
▪️اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو(فلم شہید، نسیم بیگم)
▪️جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کے سو جا، (فلم سسرال، نور جہان )
▪️جس نے میرے دل کو درد دیا، اس شکل کو میں نے بھلایا نہیں(سسرال ،مہدی حسن) اور
▪️زندہ رہیں تو کیا ہے جو مر جائیں ہم تو کیا(خریدار، ناہید اختر)

"سلطان خیل نیازی پشتون "

27/06/2022

بلیک ہول
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فلم بلیک ھول Black Hole برطانوی فلم ھے ۔
جس کا موضوع انسانی طمع اور لالچ ھے ۔ یہ محض 2 منٹ 19 سیکنڈ کی فلم ھے جو اپنے المناک اختتام کی وجہ سے ناظرین کو حیرت زدہ کر دیتی ھے ۔ یہ فلم اس وقت تک چار بین الاقوامی اعزازات اپنے نام کر چکی ھے ۔
بلیک ھول۔ انسانی دماغ یا انسانی طمع اور لالچ کا وہ ھول ھے جو کبھی نہیں بھرتا ۔ یہ مختصر سا وڈیو کلپ بار بار دیکھنا چاہئیے۔

03/05/2022

Address

Karachi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سلطان خیل نیازی پشتون posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Museum

Send a message to سلطان خیل نیازی پشتون:

Share