Alquds History Point

Alquds History Point من می دانم کہ نمی دانم

10/06/2025
*عرب و ہِند عہدِ رسالت میں*رسولﷺ کی بعثت کے وقت ملکِ عرب کے اطراف و جوانب میں غیرملکیوں کی بہت زیادہ آبادی تھی، اور جب ا...
22/02/2023

*عرب و ہِند عہدِ رسالت میں*

رسولﷺ کی بعثت کے وقت ملکِ عرب کے اطراف و جوانب میں غیرملکیوں کی بہت زیادہ آبادی تھی، اور جب اسلام کی دعوت جزیرۃ العرب میں پھیلی تو عربوں کی طرح وہاں پر آباد دوسری قوموں کو بھی اس سے واسطہ پڑا، اور عربوں کی طرح عام طور سے وہ بھی مسلمان ہو گئیں یا ان میں سے کچھ لوگوں نے جزیہ دے کر اپنے دین پر قائم رہنا پسند کیا۔

شمال مغرب میں شام سے متصل عربی علاقہ رومیوں کے قبضہ میں تھا اور وہاں رومیوں کی طرف سے عرب حکمران انتدابی قسم کی حکومت کرتے تھے، جیسے شام کے غساسنہ اور جہرہ کے منازرہ، شمال مشرق میں عراق پر شاہانِ ایران کا قبضہ تھا جن کا مرکز *ابلہ* تھا، اور خلیج عربی کے پورے سواحل، بٙحرٙین اور عمان پر ان کے اساورہ یا ان کے ماتحت عرب حکمران حکومت کرتے تھے۔ یہ سلسلہ یمن تک قائم تھا اور مشرقی جنوبی عرب کا پورا ساحلی علاقہ ایرانیوں کے قبضہ میں تھا۔ پھر یمن سے مغرب کے علاقوں میں حبشہ اور زنج کثیر تعداد میں موجود تھے۔

رسولﷺ کے عہدِ طفولیت میں یمن کے عرب حکمران *سیف بن ذی یزن* کو حبشہ کے بادشاہ نے مغلوب کر کے پورے یمن پر قبضہ کر لیا تھا۔ مگر اس کے فوراً بعد ہی وہاں پر ایرانیوں کا قبضہ ہوگیا جو بعثتِ نبوی کے وقت تک قائم رہا۔

عرب کی اِن حدود پر غیر ملکی قابض و دخیل تھے اور ان کے آدمی یا نمائندے حکمرانی کرتے تھے، اس بعثتِ نبوی کے وقت عرب میں رومی، ایرانی، حبشی اور ہندی اپنے اپنے اثر و اقتدار کے ساتھ موجود تھے۔

ہندوستان کی قومیں اگرچہ عرب میں براہ راست اپنا اثر و اقتدار نہیں رکھتی تھی مگر مختلف وجوہ سے ان کی حیثیت بلند تھی، جس میں بڑا دخل ایرانیوں کے عرب پر قبضہ کو تھا۔

ایرانی ایک طرف ہندوستان اور سندھ و بلوچستان کے راجوں، مہاراجوں اور یہاں کے لوگوں کو اپنے اثر و اقتدار میں رکھتے تھے اور دوسری طرف عرب کے ساحلی علاقوں میں عراق سے لے کر یمن تک حاکمانہ طاقت رکھتے تھے۔ اس لیے ہندوستانیوں کو عرب کے ان حدود میں ایرانیوں کے توسُّط سے اقتدار نصیب ہوا، اور ایران کی فوج اساورہ میں ہندوستان کے بہت سے آدمی شامل ہوکر عرب میں رہنے لگے۔ ہندوستان اور عرب کے قدیم ترین تجارتی تعلقات کے بعد ایران کے توسط سے اس حاکمانہ تعلق نے ان میں عرب سے مزید دلچسپی پیدا کی اور یہاں کے لوگ ہندوستانی اشیاء کی تجارت، عرب کے جہازوں اور کشتیوں پر ملازمت اور عرب میں آباد ہو کر وہاں کے اقامت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگے، جس کے نتیجہ میں عہدِ رسالت مآب صلی اللّٰہ علیہ وسلم میں عرب کے اندر ہندوستانیوں کی مختلف قومیں اور جماعتیں رہنے لگیں اور ان کو عرب کے باشندے اپنی زبان میں مختلف ناموں سے یاد کرتے تھے۔ چنانچہ عربوں نے اپنے ملک میں آباد ہندوستانیوں کو زط، سیابجہ، احامرہ، مید، بیاسرہ وغیرہ کے ناموں سے موسوم کیا۔ کسی ملک کے آدمیوں کو اتنے زیادہ نام و لقب سے یاد کرنا اس کی صریح دلیل ہے کہ وہاں ان کی تعداد بہت زیادہ تھی اور وہ ہر طرف مشہور تھے، چونکہ عربوں اور ہندوستانیوں میں بڑی حد تک مذہبی یکجہتی تھی اس لیے وہ بڑی آسانی سے عربوں کی زندگی میں مل جل گئے۔

انہی حالات میں مکہ مکرمہ میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی، کیوں کہ تیرہ سال تک مکی زندگی مقامی کفار و مشرکین کی وجہ سے مظلومیت میں گزری، اس لئے عرب کے انتہائی کی حدود کے لوگوں کو اسلام سے کم واقفیت ہوئی اور وہاں کے عربوں کی طرح ہندوستانی بھی اسلام سے تفصیلی طور سے واقف نہیں ہو سکے۔ البتہ مکی زندگی میں حبشہ کی طرف صحابہ کرام کی ہجرت ہوئی۔ اس لئے حبشہ اور اس کے اطراف کے لوگوں کو اسلام کی عام واقفیت ہوئی۔

اغلب یہ ہے کہ اس سلسلے میں حبشہ کے سامنے سواحل کے عربی اور عجمی باشندوں کو بھی اسلام کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل ہوئی ہوں گی۔ چنانچہ حضرت باذان رضی اللّٰہ عنہ حاکمِ یمن ابتدائے بعثت ہی میں اسلام لائے اور ان کے ساتھ یمن میں مقیم بہت سے اساورہ اور ایرانی نسل کے ابناء بھی مسلمان ہوئے۔ اس کے باوجود دعوت و تبلیغ کے طور پر ان اطراف میں اسلام کی تفصیلی معلومات نہیں ہوئیں اور اس کا موقع اس وقت آیا ہم جب رسولﷺ نے بعثت کے تیرھویں سال مکہ مکرمہ چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی۔ ہجرت کے واقعہ نے اسلام اور پیغمبرِ اسلام کے متعلق نہ صرف عرب کے انتہائی حدود میں تفصیلی واقفیت کے لئے راہ پیدا کی بلکہ اطراف و جوانب کے ان ممالک میں بھی اس کی خبر پہنچی جو عرب سے متصل تھے، اور ان ممالک سے عرب کے قدیم تعلقات تھے اور جس طرح دوسرے ممالک میں یہ خبریں پہنچیں، ہندوستان میں بھی ان کو سُنا گیا اور دلچسپی ظاہر کی گئی۔

پھر جب رسولﷺ نے 7 ہجری اور 8 ہجری کے درمیان حدودِ عرب میں دعوتِ اسلام بھیجی اور صحابہ کرام کی ایک جماعت کو اسلام کا مبلغ و داعی اور قاصد بنا کر عرب اور بیرونِ عرب کے رئیسوں، حاکموں اور با حیثیت لوگوں کو خطوط بھیجے تو اس وقت عراق سے لے کر مشرقی سواحل اور یمن تک میں اسلام کی دعوت عام ہوئی اور اطراف کے علاقوں کی طرح عجم، فرس اور مجوس وغیرہ بھی اس کی دعوت سے تفصیلی طور پر واقف ہوئے۔ انہی کے ساتھ یہاں کے ہندوستانی باشندے بھی عام طور پر اسلام سے باخبر ہو کر یا تو مسلمان ہوئے اور اسلامی زندگی کا جزو بن گئے یا عام مجوسیوں کی طرح یہ لوگ بھی اپنے آبائی مذہب پر قائم رہ کر جزیہ ادا کرنے پر راضی ہو گئے اور ان کو مجوس میں شمار کیا گیا۔

نیز عہدِ رسالت میں جس طرح اسلام کا چرچا دیگر ممالک میں ہوا، ہندوستان میں بھی ہوا اور یہاں کے مذہبی لوگوں اور راجوں مہاراجوں نے اسلام اور پیغمبر اسلام سے براہِ راست تعلق پیدا کرنے کی کوشش کی اور دعوتِ اسلام کو سمجھنا چاہا، خود رسولﷺ نے ہندوستان اور یہاں کے لوگوں کے متعلق باتیں کیں۔ قرآنِ حکیم میں ہندوستانی اشیاء کے نام آئے اور اُن کا تذکرہ فرمایا گیا۔ احادیث میں ہندوستان کے باشندوں اور یہاں کی چیزوں کا تذکرہ آیا۔ یہاں کی بہت سی اچھی چیزوں کو رسولﷺ نے استعمال کا حکم دیا، بہت سی بری باتوں سے منع فرمایا، اور دورِ رسالت صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی اسلامی ادبیات میں ہندوستان کی قوموں کے، یہاں کی چیزوں کے اور اِس ملک کی باتوں کے تذکرے آئے، قرآن و حدیث کے علاوہ صحابہ کرام کے اشعار میں ان کا تذکرہ آیا ہے۔

جاری ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔

* *
*صوفی زادہ 💓*

*بدنصیب بوڑھا*حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کی شکایات لے کر امیر ا...
22/02/2023

*بدنصیب بوڑھا*

حضرت جابر رضی اللّٰہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ لوگ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کی شکایات لے کر امیر المومنین حضرت فاروقِ اعظم کے دربارِ خلافت مدینہ منورہ میں پہنچے۔ حضرت امیرالمومنین نے ان شکایات کی تحقیقات کے لیے چند معتمد صحابیوں کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کے پاس کُوفہ بھیجا اور یہ حکم فرمایا کہ کوفہ شہر کی ہر ہر مسجد کے نمازیوں سے نماز کے بعد یہ پوچھا جائے کہ حضرت سعد بن ابی وقاص کیسے آدمی ہیں ؟
چنانچہ تحقیقات کرنے والوں کی اس جماعت نے جن جن مسجدوں میں نمازیوں کو قسم دے کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کے بارے میں دریافت کیا۔ تو تمام مسجدوں کے نمازیوں نے ان کے بارے میں کلمہِ خیر کہا اور مدح و ثناء کی۔ مگر ایک مسجد میں فقط ایک آدمی جس کا نام *ابو سعدہ* تھا اس نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کی تین شکایات پیش کیں اور کہا ؛

١ : یہ مالِ غنیمت برابری کے ساتھ تقسیم نہیں کرتے۔

٢ : اورخود لشکروں کے ساتھ جہاد میں نہیں جاتے۔

٣ : اور مقدمات کے فیصلوں میں عدل نہیں کرتے۔

یہ سُن کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ نے فوراً ہی یہ دعا مانگی!

*اے اللّٰہ ! اگر یہ شخص جھوٹا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر دے، اور اس کے محتاجی کو دراز کردے، اس کو فتنوں میں مبتلا کر دے۔

عبدالملک بن عمیر تابعی کا بیان ہے کہ اس دعا کا میں نے یہ اثر دیکھا کہ ابو سعدہ اس قدر بوڑھا ہوچکا تھا کہ بڑھاپے کی وجہ سے اس کے دونوں بھنویں اس کی دونوں آنکھوں پر لٹک پڑی تھی۔ اور وہ دربدر بھیک مانگ مانگ کر انتہائی فقیری اور محتاجی کی زندگی بسر کر رہا تھا۔ اور اس بڑھاپے میں بھی وہ راہ جاتی ہوئی جوان جوان لڑکیوں کو چھیڑتا تھا۔ اور انکے بدن میں چٹکیاں بھرتا رہتا تھا۔ اور جب کوئی اس سے اس کا حال پوچھتا تو وہ کہا کرتا تھا کہ میں کیا بتاؤں ؟
میں ایک بڈھا ہوں جو فتنہ میں مبتلا ہوں کیونکہ مجھ کو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کی بددعا لگ گئی ہے۔
(بخاری و مسلم، بیہقی)

*دشمنِ صحابہ کا انجام*
ایک شخص حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کے سامنے صحابہ کرام کی شان میں گستاخی و بے ادبی کے الفاظ بکنے لگا۔ آپ نے فرمایا کہ تم اپنی اس خبیث حرکت سے باز رہو ورنہ میں تمہارے لئے بددعا کر دوں گا۔ اس گستاخ و بے باک نے کہہ دیا کہ مجھے آپ کی بد دعا کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ کی بد دعا سے میرا کچھ بھی نہیں بگڑ سکتا۔ یہ سن کر آپ کو جلال آ گیا اور آپ نے اسی وقت یہ دعا مانگی کہ :
یا اللّٰہ!
*اگر اس شخص نے تیرے پیارے نبی کے پیارے صحابیوں کی توہین کی ہے، تُو آج ہی اِسے اپنے قہر و عذاب کی نشانی دکھا دے تاکہ دوسروں کو اِس سے عبرت حاصل ہو*

اس دعا کے بعد جیسے ہی وہ شخص مسجد سے باہر نکلا تو بالکل ہی اچانک ایک پاگل اونٹ دوڑتا ہوا آیا اور اس کو دانتوں سے پچھاڑ دیا اور اس کے اوپر بیٹھ کر اس کو اس قدر زور سے دبایا کہ اس کی پسلیوں کی ہڈیاں چُور چُور ہو گئیں اور وہ فوراً ہی مر گیا۔ یہ منظر دیکھ کر لوگ دوڑ دوڑ کر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللّٰہ عنہ کو مبارکباد دینے لگے کہ آپ کی دعا قبول ہوگئی اور صحابہ کرام کا دشمن ہلاک ہو گیا۔

(دلائل النبوة، ج٣، ص٢٠٧)


صوفی زادہ💓

*شیعہ امامیہ کا تعارف*اس موضوع کو بہر صورت مطالعہ فرمایا کیجیے گا، اسمیں میرا اور آپکا بہت بہت دینی اور دنیاوی فائدہ ہو ...
22/02/2023

*شیعہ امامیہ کا تعارف*

اس موضوع کو بہر صورت مطالعہ فرمایا کیجیے گا، اسمیں میرا اور آپکا بہت بہت دینی اور دنیاوی فائدہ ہو گا شکریہ۔

قسط : 1

یہ فرقہ درج ذیل مختلف ناموں کے ساتھ مشہور و معروف ہے۔

1 : *رافضیہ*
انہیں رافضی اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ یہ حضراتِ شٙیخٙین، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللّٰہ عنہما کی امامت کا انکار کرتے اور یارانِ رسولِ کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کو سبّ و شٙتم(گالیوں) کا مستحق گردانتے اور ان کے متعلق بدگوئی کرتے ہیں۔

2 : *شیعہ*
یہ لوگ شیعہ اس لیے کہلاتے ہیں کہ یہ خاص طور پر حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کی طرف داری کرتے ہیں اور صرف انہی کی امامت کو برحق تسلیم کرتے ہیں۔

3 : *اثنا عشریہ*
انہیں اثناعشریہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ لوگ بارہ اماموں کی امامت کے قائل اور معتقد ہیں ان کا آخری امام محمد بن الحسن العسکری ہے۔ جو اِن کے عقیدہ کے مطابق تاحال غار میں چُھپا ہوا ہے۔🤔

4 : *امامیہ*
انہیں امامیہ کا نام دیا جاتا ہے اس لیے کہ ان کے عقیدے کی رُو سے امامت کو اسلام کے پانچویں رکن ہونے کا درجہ حاصل ہے😊۔

5 : *جعفریہ*
انہیں جعفریہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ اپنے آپ کو امام جعفر صادق رضی اللّٰہ عنہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، یہ ان کے چھٹے امام ہیں۔ اور ان کا شمار اپنے دور کے فقہاء میں ہوتا ہے۔ اس فرقے کی فقہ کو کِذب و اِفترا(جھوٹ اور بہتان بازی) کے ذریعے ان کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔😥

جاری ہے۔۔۔۔۔


صوفی زادہ💓

*لاسکی مواصلات کی ایجادات*ساری دنیا میں مواصلات کا ایک جال بچھا ہوا ہے، کرّہِ ارض کے کسی ایک کونے میں ایک بٹن دبائیے یا ...
22/02/2023

*لاسکی مواصلات کی ایجادات*

ساری دنیا میں مواصلات کا ایک جال بچھا ہوا ہے، کرّہِ ارض کے کسی ایک کونے میں ایک بٹن دبائیے یا کسی مائیکروفون کے سامنے کھڑے ہوکر بولیے تو آپ کی آواز دوسرے کونے تک بِلا روک ٹوک پہنچ جاتی ہے۔ دنیا کی طنابیں اس طرح کھینچ کر دور دراز مقامات کو ایک دوسرے سے قریب لانے کا سہرا *گلگلیمو مارکونی* کے سٙر ہے۔

اب سے قریباً 122 برس پہلے مارکونی نے یہ دریافت کیا تھا کہ ایتھر میں بجلی کی لہریں دوڑائی جائیں تو دُور دراز مقامات سے پیغامات وصول ہو سکتے ہیں۔ لیکن اُسے اتنی بات معلوم کرنے میں جو دِقّتیں پیش آئی تھیں اور جن ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اس کی داستان بھی طویل ہے۔

گزشتہ سے پیوستہ صدی کے آخر کا زمانہ تھ۔ سائنس دان یہ معلوم کر چکے تھے کہ ایتھر میں یہ خصوصیت موجود ہے کہ اگر بجلی کی لہریں دوڑائی جائیں تو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچ سکتی ہیں۔ لیکن اُنہیں کبھی یہ گمان بھی نہیں گزرا تھا کہ یہی خصوصیت پیغام رسانی میں بھی کام آ سکتی ہے۔ مارکونی ان دنوں اٹلی میں اپنے والدین کے پاس رہتا تھا۔ 1895ء کی بات ہے کہ اسے یہ معلوم ہوا کہ اگر ایئریل بلند کر دیا جائے تو زیادہ فاصلے سے پیغامات وصول ہو سکتے ہیں۔ اس دریافت کی بِنا پر یہ ممکن ہوا کہ وائرلیس ٹیلی گراف میں ایتھر سے کام لیا جا سکے۔

دوسرے سال کے آغاز میں مارکونی انگلستان چلا گیا اور یہاں وائرلیس ٹیلیگراف کے نظام کو سپٹنٹ کرایا۔
اس نے اس مقصد کے لیے انگلستان کو اس لیے منتخب کیا تھا کہ اس زمانے میں برطانیہ میں دنیا کا سب سے بڑا بحری بیڑا موجود تھا اور اسے خیال تھا کہ وائرلیس ٹیلیگراف جہازوں کے لئے بہت مفید ثابت ہوگا۔ اس کے علاوہ چونکہ اس کی ماں آئرلینڈ کی رہنے والی تھی اس لیے اس کے دل میں وطن کی محبت نے بھی جوش مارا۔

مارکونی 1897ء میں *وائرلیس ٹیلی گراف اینڈ سگنل* کے نام سے ایک کمپنی قائم کی جس کا نام بعد میں مارکونی *وائرلیس ٹیلیگراف کمپنی لمیٹڈ* ہوگیا۔ اسی کمپنی کے ذریعے اسے اپنا کام بڑھانے کے لئے سرمایہ اور فنی وسائل مہیا ہوئے، مارکونی نے اگلے چار سال مسلسل محنت اور تجربات میں صرف کئے اور برابر اپنے بنائے ہوئے سامان میں اضافہ اور ترقی کے لیے کوشاں رہا۔ اس دوران میں اس کے سامنے صرف ایک مقصد تھا کہ پیغام موصول کرنے اور بھیجنے کا ایک ایسا آلہ تیار کر لے جو دُور دراز سے پیغامات وُصول کرسکے۔ شروع میں اُسے ایک مِیل تک پیغام رسانی میں کامیابی ہوئی کچھ دنوں بعد اس نے *جزیرہِ وٹ* سے *بورن ماؤتھ* اور وہاں سے *سینڈ بینک* تک اٹھارہ میل تک وائرلیس سے پیغام پہنچایا پھر 1900 میں وہ جزیرہِ وٹ سے لزارڈ کے مقام تک پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔ اس دوران میں جہاز ران کمپنیوں نے اپنے جہازوں میں وائرلیس سیٹ لگانے کی طرف بہت کم توجہ دی تھی اور ان کی جانب سے مارکونی کی زیادہ ہمت افزائی نہیں ہوئی۔ اس لیے یہ صاف ظاہر تھا کہ جہازوں کے لئے اس کی اہمیت اسی صورت میں ثابت ہوگی جب وائرلیس سے دُور دراز مقامات تک پیغامات بھیجے جا سکیں۔ اس زمانے میں تمام سائنسدانوں کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ وائرلیس کی لہریں روشنی کی لہروں کی طرح کرّہِ زمینی کی گولائی کے ساتھ ساتھ حرکت نہیں کریں گی اس لئے ان کا خیال تھا کہ وائرلیس کے ذریعے زیادہ فاصلے تک پیغام بھیجنا ناممکنات میں سے ہے۔

مارکونی کا نظریہ اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کے تجربات نے اس پر واضح کردیا تھا کہ اگر زیادہ لمبے ائیریل اور زیادہ طاقتور ٹرانسمیٹر استعمال کیے جائیں تو زیادہ فاصلے تک بھی پیغام بھیجے اور وصول کیے جاسکتے ہیں۔ اس لیے اس نے فیصلہ کیا کہ بحرِ اوقیانوس کے دونوں کناروں پر دو بہت طاقتور ٹرانسمیٹر سٹیشن قائم کرے اور اس طرح دونوں طرف سے پیغامات بھیجنے اور وصول کرنے کا سلسلہ شروع کرے، چنانچہ اس نے کارنوال میں پولڈھو اور امریکا میں کیپ کارڈ کے مقام اسٹیشنوں کے لیے منتخب کیے۔

یہ دونوں اسٹیشن قریب قریب پایہِ تکمیل کو پہنچ چکے تھے کہ ایک بہت بڑا سانحہ پیش آیا۔ ان دونوں اسٹیشنوں پر بیک وقت زبردست طوفان بادوباراں نے ایئریل کے تار اس کے کھمبے اور اسٹیشن کا سامان تباہ و برباد کر دیا۔ مارکونی نے اس پر پچاس ہزار پاؤنڈ صرف کیے تھے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس کی تمام کوششوں پر پانی پھر گیا ہے۔ لیکن اس باہمت شخص نے ان سٹیشنوں کی مرمت کا انتظار بھی نہیں کیا۔ اس نے پولڈھو(برطانیہ) میں ایک نیا لیکن نسبتاً سادہ ایئریل نصب کیا اور اپنے دو معاونوں کے ساتھ امریکہ کے مشرقی کنارے پر نیو فاؤنڈ لینڈ کے جزیرے کی جانب روانہ ہوگیا۔ اس نے اپنے ساتھ کینوس کی بنی ہوئی بڑی بڑی پتنگیں اور کچھ چھوٹے غبارے لیے تھے جن کے ذریعے سینٹ جان کی بندرگاہ پر ایئریل ہوا میں بلند کر دیا۔

نیو فاؤنڈ لینڈ میں تیز ہوائیں برابر چل رہی تھیں اور اس میں ایک غبارہ اور ایک پتنگ غائب ہوگئے۔ لیکن 12 دسمبر 1901ء کو ٹھیک ساڑھے بارہ بجے مارکونی کو پیغام رسانی کی مشین کا بٹن دبانے سے پیدا ہونے والی مدھم آوازیں بالکل صاف سنائی دیں۔ جو 2200 میل دُور پولڈھو کے سوا کہیں اور سے نہیں آ سکتی تھیں۔ مارکونی نے اپنے کان میں لگا ہوا آلہ اپنے ایک نائب کو دیا جس نے اس کی تصدیق کر دی۔

یہ کارنامہ اس لحاظ سے اور بھی شاندار تھا کہ آواز بھیجنے کا تمام تر انحصار ٹرانسمیٹر پر ہوتا تھا کیونکہ ریسیور میں آواز کو بڑھانے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ اس طرح انتہائی مشکلات اور سائنسدانوں کی مخالفت کے باوجود مارکونی نے بٙحرِاوقیانوس کے دونوں کناروں پر واقع ممالک کو ایک دوسرے سے ملا دیا اور ریڈیو سٹیشنوں کے موجودہ نظام کی بنیاد ڈالی۔

اس تاریخی واقعہ کی یادگار کے طور پر کچھ عرصہ پہلے لندن میں ایک نمائش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس نمائش میں بہت سی نادر چیزوں کے علاوہ مارکونی کی آواز کا ایک ریکارڈ بھی سنایا گیا۔ جس میں اس نے بتایا کہ اُسے یہ کامیابی کیسے حاصل ہوئی۔


صوفی زادہ💓

*ملکہ وکٹوریہ کی موت*22 جنوری 1901ء کو انگلستان پر سب سے طویل عرصہ تک حکمرانی کرنے والی ملکہ "ملکہ وکٹوریہ"81 برس کی عمر...
22/02/2023

*ملکہ وکٹوریہ کی موت*

22 جنوری 1901ء کو انگلستان پر سب سے طویل عرصہ تک حکمرانی کرنے والی ملکہ "ملکہ وکٹوریہ"81 برس کی عمر میں مری۔ اس نے تختِ برطانیہ اور اس کی نو آبادیوں پر 63 برس حکومت کی۔ اس کے عہد میں سلطنتِ برطانیہ اس قدر وسیع ہوئی کہ اس میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔
ملکہ وکٹوریہ 24 مئی 1819ء کو پیدا ہوئی۔ وہ *ڈیوک آف کینٹ* کی بیٹی تھی۔ اور 1837ء میں تخت نشین ہوئی تھی۔
1840ء میں اس کی شادی جرمنی کے پرنس البرٹ سے ہوئی تھی۔ ملکہ وکٹوریہ کے عہد میں برطانیہ میں 10 وزراء اعظم برسراقتدار آئے ان میں سے چار مرتبہ منتخب ہونے والا گلیڈسٹون سب سے ناپسندیدہ وزیراعظم تھا۔

ملکہ وکٹوریہ کے عہد کے واقعات میں سے ایک واقعہ 1857ء کی ہندوستان کی جنگِ آزادی تھا۔ جسے انگریز مورخین بغاوت یا غدر کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس جنگ کے بعد ہندوستان باضابطہ طور پر حکومتِ برطانیہ کے زیرِ تسلط آگیا۔

ملکہ وکٹوریہ 1861ء میں اپنے شوہر کے مرنے کے بعد بڑی حد تک گوشہ نشین ہوگئی تھی بلکہ 1887ء میں جب اس کی تخت نشینی کی گولڈن جوبلی منائی گئی تو وہ ایک مرتبہ پھر خبروں کا موضوع بن گئی۔ ملکہ وکٹوریہ کی تخت نشینی کی یہ گولڈن جوبلی تقریبات دنیا بھر میں منائی گئیں اور اس کی متعدد یادگاریں بھی تعمیر ہوئیں۔ کراچی کی ایمپریس مارکیٹ بھی اسی موقع پر تعمیر ہوئی تھی۔

الیگزینڈرینا وکٹوریہ جب پیدا ہوئی اس وقت جارج سوئم ابھی تخت نشین تھا اور اس کا باپ ڈیوک آف کینٹ بادشاہ کا چوتھا بیٹا تھا لیکن یہ حسنِ اتفاق تھا کہ وکٹوریہ کے چچاوں کے تمام بیٹے مر چکے تھے۔ لہذا جارج چہارم کے مرنے کے بعد اس کا بھائی ڈیوک آف کلیئرنس ولیم چہارم تخت نشین ہوا۔ اس طرح اس کے مرنے کے بعد وکٹوریہ تخت نشین ہوئی۔

جارج چہارم اور اس کے بھائی انگلینڈ میں انتہائی غیر مقبول تھے، بدکردار اور بے وقوف امراء سے لے کر چھوٹے طبقہ تک سبھی افراد اسے اتنا پسند کرتے تھے، محنت کش طبقہ، کارخانوں کے مزدور، کھیتوں میں کام کرنے والے کسان سبھی اُن سے نالاں تھے۔ عوام کی بے چینی خونی انقلاب کا پیشِ خیمہ بن رہی تھی لیکن جب یہ نوجوان اور خوبصورت لڑکی تخت پر بیٹھی تو لوگ مطمئن تھے کہ اب انگلینڈ میں نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔ کیونکہ وکٹوریہ اُس ماں کی بیٹی تھی جو شاہی خاندان کے انداز و اطوار سے شدید نفرت کرتی تھی۔

وہ نہایت متحمل مزاج ملکہ تھی جس کا عملی مظاہرہ اس نے اس وقت کیا جب رسمِ تاج پوشی کے دوران باتھ اور ویلز کے بشپ نے غلطی سے دعاؤں کی کتاب کے دو صفحے ایک ساتھ پلٹ دیے اور دعا بہت جلد ختم ہوگئی، ملکہ کو سب ڈی ویسٹ منسٹر نے اس بارے میں اطلاع دی تو اس نے بشپ کو حکم دیا کہ وہاں سے دعا دوبارہ شروع کرائی جائے جہاں سے اس سے غلطی ہوئی ہے۔ تاج پوشی سے پہلے اور بعد میں جشن منایا گیا وہ لندن کی تاریخ کا اعلٰی ترین جشن تھا۔ ملکہ کی شان و شوکت کو ہزاروں غیرملکیوں نے بھی دیکھا۔

ملکہ وکٹوریا ایک بھر پور عورت تھی اس کے چند وزیروں کے ساتھ گہرے مراسم تھے ان میں سے ایک شخص لارڈ ملبورن تھا ملکہ نے اس سے سیاسی اسرارورموز کے بارے میں بہت کچھ سیکھا۔ ایک موقع پر اس نے ملبورن سی تعلقات ختم کرنے سے انکار کر دیا۔ ہاؤس آف کامنز میں ٹوریز پارٹی کی تعداد زیادہ تھی۔ اور رابرٹ پیل وزیر اعظم بننے والا تھا اس بڑے سیاسی گروہ کی مخالفت مول لینے پر ملکہ کو تضحیک کا نشانہ بننا پڑا۔ ایک موقع پر اسے مسز ملبورن کہہ کر اس کا مذاق بھی اڑایا گیا حالانکہ ملبورن کے ساتھ اس کے تعلقات مخلصانہ تھے اور وہ ملکی امور میں محض اس کی مشاورت کرتا تھا البتہ بعض دیگر لوگوں کے ساتھ اس کے رومانوی تعلقات بھی تھے آخرکار وہ ایک عورت تھی۔

تخت نشینی کے دو سال بعد ایک جرمن شہزادے البرٹ کے ساتھ اس کی منگنی کا اعلان کر دیا گیا وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی تھی شہزادہ بھی مسحور کن شخصیت کا مالک تھا۔

1857ء میں اسے پرنس آف کنسورٹ کا خطاب دیا گیا۔ ملکہ یہ پسند نہیں کرتی تھی کہ کوئی اس پر حکم چلائے لیکن پرنس البرٹ خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ نہایت ذہین بھی تھا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بہت حقیقی حکمران بن گیا۔ امورِ سلطنت کے اکثر فیصلے وہی کرتا تھا ملکہ صرف توثیق کرتی تھی۔

انیسویں صدی کے آخری زمانے میں جب دنیا میں بادشاہت زوال پذیر تھی، ملکہ کا اقتدار بہت مضبوط اور مستحکم تھا۔ وہ اپنے دور کی نمائندگی کرتی تھی یہی وجہ ہے کہ عوام اسے پسند کرتے تھے۔


صوفی زادہ💓

*قبر والوں سے گفتگو*امیرالمومنین حضرت عمرِ فاروق رضی اللّٰہ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اور فرم...
22/02/2023

*قبر والوں سے گفتگو*

امیرالمومنین حضرت عمرِ فاروق رضی اللّٰہ عنہ ایک مرتبہ ایک نوجوان صالح کی قبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اے فلاں !
اللّٰہ تعالٰی نے وعدہ فرمایا ہے کہ *وٙلِمن خٙاف مقٙام ربّہ جنّتان* (یعنی جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈر گیا اس کے لئے دو جنتیں ہیں)
اے نوجوان !
بتا قبر میں تیرا کیا حال ہے ؟
اس نوجوان صالح نے قبر کے اندر سے آپ کا نام لے کر پکارا اور بآواز بلند دو مرتبہ جواب دیا کہ میرے رب نے یہ دونوں جنتیں مجھے عطا فرما دیں ہیں۔
(حجۃ اللّٰہ علی العالمین، ج٢، ص٨٦٠ : حاکم)۔

*مدینہ کی آواز نہاوند تک*

امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ نے حضرت ساریہ رضی اللّٰہ عنہ کو ایک لشکر کا سپہ سالار بنا کر *نہاوند* کی سرزمین میں جہاد کے لیے روانہ فرمایا۔ آپ جہاد میں مصروف تھے کہ ایک دن حضرت عمر رضی اللّٰہ عنہ نے مسجدِ نبوی کے منبر پر خطبہ پڑھتے ہوئے ناگہاں یہ ارشاد فرمایا کہ ؛
یٙا سٙارِیة الجٙبٙل(اے ساریہ پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کر لو)۔
حاضرینِ مسجد حیران رہ گئے کہ حضرت ساریہ تو سرزمینِ نہاوند میں مصروفِ جہاد ہیں اور مدینہ منورہ سے سیکڑوں میل دُور ہیں۔ آج امیر المومنین نے اُنہیں کیونکر اور کیسے پکارا ؟
لیکن نہاوند سے جب حضرت ساریہ رضی اللّٰہ عنہ کا قاصد آیا تو اس نے یہ خبر دی کہ میدانِ جنگ میں جب کفار سے مقابلہ ہوا تو ہم کو شکست ہونے لگی۔ اتنے میں ناگہاں ایک چیخنے والے کی آواز آئی جو چِلا چِلا کر یہ کہہ رہا تھا کہ اے ساریہ ! تم پہاڑ کی طرف اپنی پیٹھ کر لو۔
حضرت ساریہ رضی اللّٰہ عنہ نے فرمایا کہ یہ تو امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رضی اللّٰہ عنہ کی آواز ہے۔ یہ کہا اور فوراً ہی انہوں نے اپنے لشکر کو پہاڑ کی طرف پشت کرکے صف بندی کا حکم دیا اور اس کے بعد جو ہمارے لشکر کی کفار سے ٹکر ہوئی تو ایک دم اچانک جنگ کا پانسہ ہی پلٹ گیا اور دم زدن میں اسلامی لشکر نے کفار کی فوجوں کو روند ڈالا اور عساکرِ اسلامیہ کے قاہرانہ حملوں کی تاب نہ لاکر کفار کا لشکر میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگ نکلا اور افواجِ اسلامیہ نے فتحِ مبین کا پرچم لہرا دیا۔

حوالہ جات :
(مشکٰوة شریف، باب الکرامات، ص ۵۴٦)۔
(حجتہ اللّٰہ، ج٢، ص ٨٦٠)۔
(تاریخ الخلفاء، ص ٨۵)۔

تبصرہ ؛
حضرت امیرالمومنین فاروق اعظم اور آپ کے سپہ سالار دونوں صاحبِ کرامت ہیں کیونکہ مدینہ منورہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر آواز کو پہنچا دینا یہ امیرالمومنین کی کرامت ہے اور سینکڑوں میل کی دوری سے کسی آواز کو سن لینا یہ حضرت ساریہ کی کرامت ہے۔

٢ : یہ کہ امیرالمومنین نے مدینہ طیبہ سے سینکڑوں میل کی دوری پر نہاوند کے میدانِ جنگ اور اس کے احوال و کیفیات کو دیکھ لیا۔ اور پھر عساکرِ اسلامیہ کی مشکلات کا حل بھی منبر پر کھڑے کھڑے لشکر کے سپہ سالار کو بتا دیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ اولیاءِ کرام کے کان اور آنکھ اور ان کی سمع و بصر کی طاقتوں کا عام انسانوں کی آنکھ اور کان کی قوتوں پر ہرگز ہرگز قیاس نہیں کرنا چاہیے۔ بلکہ یہ ایمان رکھنا چاہیے کہ اللّٰہ تعالی نے اپنے محبوب بندوں کے کان اور آنکھ کو عام انسانوں سے بہت ہی زیادہ طاقت عطا فرمائی ہے۔

٣ : حضرت عمرِ فاروق رضی اللّٰہ عنہ کی حکومت ہوا پر بھی تھی اور ہوا بھی ان کے کنٹرول میں تھی اس لیے کہ آوازوں کو دوسرے کانوں تک پہنچانا درحقیقت ہوا کا کام ہے کہ ہوا کے تموج ہی سے آوازیں لوگوں کے کانوں کے پردوں سے ٹکرا کر سنائی دیا کرتی ہیں۔ حضرت فاروق اعظم نے جب چاہا اپنے قریب والوں کو اپنی آواز سنا دی اور جب چاہا تو سینکڑوں میل دور والوں کو بھی سنا دی اس لیے کہ ہوا آپ کے تابع فرمان تھی جہاں تک آپ نے چاہا ہوا سے پہنچانے کا کام لے لیا۔
سبحان اللّٰہ ! حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا کہ ؛
*من کان لِلّٰہ کان اللّٰہ لہ*
یعنی جو بندہ خدا کا فرمانبردار بن جاتا ہے تو خدا اس کا کارساز و مددگار بن جاتا ہے۔
اسی مضمون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت شٙیخ سعدی رحمتہ اللّٰہ علیہ نے کیا خوب فرمایا :

*تو ہم گردن از حکم داور ہیچ*

*کہ گردن نہ پیچد زحکم تو ہیچ*

(یعنی تُو خدا کے حکم سے سرتابی نہ کر ! تاکہ تیرے حکم سے دنیا کی کوئی چیز روگردانی نہ کرے)۔


صوفی زادہ💓

ہے دلِ محزوں، مکانِ دردِ دل،،،،اچھی دنیا ہے، جہانِ دردِ دل۔۔۔۔دل بنا ہے قصّہ خوانِ دردِ دل،،،،اب سُنو تم! داستانِ دردِ د...
22/02/2023

ہے دلِ محزوں، مکانِ دردِ دل،،،،

اچھی دنیا ہے، جہانِ دردِ دل۔۔۔۔

دل بنا ہے قصّہ خوانِ دردِ دل،،،،

اب سُنو تم! داستانِ دردِ دل۔۔۔۔

ماجرائے درد، دِل سے پُوچھئیے،،،،

دل ہے اپنا ترجمانِ دردِ دل۔۔۔۔

اُٹھ رہے ہیں بیٹھ کر پہلو سے وہ،،،،

ہو رہا ہے امتحانِ دردِ دل۔۔۔۔

اِک لفظِ آہ میں پوشیدہ ہے،،،،

سٙر سے پا تک داستانِ دردِ دل۔۔۔۔

آ گیا پہلو میں وہ رٙشکِ مسیح،،،،

مِٹ گیا نام و نشانِ دردِ دل۔۔۔۔

پِھر سے دِلِ بیدم میں ہے دخلِ سکوں،،،،

ٹُوٹ پڑ ! اے آسمانِ دردِ دل۔۔۔۔

(حضرت بیدم شاہ وارث)

(محزوں : غمگین، رنجیدہ،)


صوفی زادہ💓

*ابنِ رُشد**سپین کا سب سے بڑا عرب طبیب فلسفی، سائنسدان، فلکیات اور فقہ کا بڑا ماہر ؛*پیدائش : 14 اپریل 1126ء، قرطبہ(سپین...
22/02/2023

*ابنِ رُشد*

*سپین کا سب سے بڑا عرب طبیب فلسفی، سائنسدان، فلکیات اور فقہ کا بڑا ماہر ؛*

پیدائش : 14 اپریل 1126ء، قرطبہ(سپین)۔

وفات : 10 دسمبر 1198ء، مراکش۔

قسط : 4

پیغمبرِ اسلام صلی اللّٰہ علیہ و سلم کے وصال کو ابھی بمشکل سو برس گزرے ہوں گے کہ اہلِ اسلام کے باہمی تنازعات کی وجہ سے اسلامی تعلیمات کی مختلف تعبیرات سامنے آنے لگیں چنانچہ آئندہ چند صدیوں میں اتنے بے شمار فرقوں نے جنم لیا کہ ان کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔ ان تمام فرقوں میں ایک قدر مشترک ہے وہ یہ کہ ان سب کا موضوع ایک تھا یعنی *الٰہیات*۔
صفاتِ باری تعالی کے بارے میں جو جنگ و جدل ان فرقوں نے برپا کی ان سے گھبرا کر بعض اعتدال پسند طبیعتیں ایک مذہب کے اردگرد، جیسا کہ معتزلہ کا ہے مجتمع ہونے لگیں۔
معتزلہ ہر بات کو عقل کے معیار سے جانچتے یا کم سے کم یہ کہ عقل کو معاملاتِ شرعیہ میں بیکار نہیں خیال کرتے تھے۔
ان کے عقائد میں الہام و وحی قوائے انسانی کا فطری نتیجہ سمجھی جاتی تھی اور عقل پر مبنی عقائد ہی حصولِ نجات کا ذریعہ ہو سکتے تھے۔ کوئی عقیدہ عقل سے خارج متصور نہیں ہوتا تھا۔ دراصل اعتزال ایک کوشش تھی فلسفہ اور مذہب کو باہم ملانے کی، لیکن یہ کوشش رائیگاں گئی کیونکہ اس سے نہ تو فلسفہ ہی کو کچھ ملا اور نہ ہی اہلِ مذہب اس سے خوش ہوئے لیکن ایک ایسا گروہ متکلمین کا ضرور وجود میں آ گیا جو عقلیت سے مسلح ہو کر مذہب کی حمایت کرنے لگا۔ اس طرح علمِ کلام آخرکار دینیات پر منتِج ہوا۔
متکلمین کہتے تھے کہ عالٙم قدیم نہیں بلکہ حادِث ہے۔
خدا تعالٰی قادرِ مطلق ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اس عالٙم سے وہ الگ ہے لیکن بایں ہمہ اس کا تصرف یہاں سب جگہ ہے۔ متکلمین کے نظام میں اجسامِ بسیط کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اجزاءِ لا یتجزٰی کو خدا ہی نے پیدا کیا اور وہی انہیں فنا کر سکتا ہے۔ وہ ہمیشہ نئے نئے اجزاء پیدا کرتا جا رہا ہے وہ جیسا چاہتا ہے کرتا ہے اور تمام اشیاء براہ راست اس کے دستِ تصرف میں ہیں۔ یہ سب موجودات صرف اسی کا کام ہے۔
عدمِ اشیاء، عوارض سلبیہ مثلاً گمنامی، ناواقفیت وغیرہ بھی خدا کی طرف سے اپنے موضوع میں ظاہر ہوتے ہیں۔ یہی حالت عوارضِ ایجابی کی ہیں۔ اسی طریقہ پر خدا تعالی موت کو پیدا کرتا ہے۔ خدا ہی سکون کو پیدا کرتا ہے جیسے کہ اس نے حیات و حرکت کو پیدا کیا۔ روح بھی صرف ایک عرض ہے جسے خدا بِلا اِنقطاع جاری رکھتا ہے۔ تسبیبِ قوانین قدرت کے اندر موجود نہیں ہیں بلکہ خدا کی ذات سبب ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ دو واقعات ایک سلسلہ لازم کے ساتھ باہم متعلق و مربوط ہوں۔ اور عالم کی ہیئتِ مجموعی بہت ممکن ہے کہ جیسے حقیقتاً نظر آتی ہے، اس سے بالکل مختلف ہو۔
یہ تھا وہ نظام جس سے متکلمین پیروانِ ارسطو کے سامنے پیش کرتے تھے۔

آئیے دیکھیں کہ اس نظام کے مقابلہ میں ابن رشد کیا کہتا ہے ؛

تخلیقِ عالٙم کے مسئلہ پر عقلاء نے ہمیشہ تین رائیں اختیار کی ہیں۔ ایک فریق کہتا ہے کہ عالٙم ایک مجتمع الصفات ہستی کا پیدا کردہ ہے۔ اس ذات نے نہ صرف عالٙم کا ابتدائی ڈھانچہ تیار کیا بلکہ دنیا میں جتنی چیزیں پیدا ہوتی ہیں اسی ذات کی بدولت پیدا ہوتی ہیں۔ اسباب ومسببات محض خیال اور ڈھکوسلے ہیں۔ ورنہ آسمان و زمین میں سے لے کر معمولی سے معمولی چیز تک کی تخلیق و تشکیل محض اُس ذات کے ارادہ و مشیّت سے ہوتی ہے۔ وہ عالِمُ الکُل اور غیب دان ہے۔ اس کا ارادہ سب پرحاوی اور اٹل ہے۔ یہ اہلِ ادیان اور متکلمین کی رائے ہے۔

جاری ہے۔ ۔۔۔۔


صوفی زادہ💓

22/02/2023

دوسرا کتا !

✨ایک حاجی صاحب کی گارمنٹس کی فیکٹری تھی، حاجی صاحب صبح صبح فیکٹری چلے جاتے اور رات آنے تک کام کرتے تھے_

ایک دن وہ فیکٹری پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک درمیانے قد کا کتا گھسٹ گھسٹ کر ان کے گودام میں داخل ہو رہا ہے، حاجی صاحب نے غور کیا تو پتہ چلا کتا شدید زخمی ہے، شاید وہ کسی گاڑی کے نیچے آ گیا تھا جس کے باعث اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ گئی تھیں اور وہ صرف ایک ٹانگ کے ذریعے اپنے جسم کو گھسیٹ کر ان کے گودام تک پہنچا تھا_ حاجی صاحب کو کتے پر بڑا رحم آیا، انہوں نے سوچا وہ کتے کو جانوروں کے کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے ہیں، اس کا علاج کراتے ہیں اور جب کتا ٹھیک ہو جائے گا تو وہ اسے گلی میں چھوڑ دیں گے_ حاجی صاحب نے ڈاکٹر سے رابطے کے لیۓ فون اٹھایا لیکن نمبر ملانے سے قبل ان کے دل میں ایک انوکھا خیال آیا اور حاجی صاحب نے فون واپس رکھ دیا_

حاجی صاحب نے سوچا کتّا شدید زخمی ہے، اس کی تین ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں، اس کا جبڑا زخمی ہے اور پیٹ پر بھی چوٹ کا نشان ہے چنانچہ کتا روزی روٹی کا بندوبست نہیں کر سکتا- حاجی صاحب نے سوچا' اب دیکھنا یہ ہے قدرت اس کتے کی خوراک کا بندوبست کیسے کرتی ہے؟ حاجی صاحب نے مشاہدے کا فیصلہ کیا اور چُپ چاپ بیٹھ گئے- وہ کتا سارا دن گودام میں بیہوش پڑا رہا، شام کو جب اندھیرا پھیلنے لگا تو حاجی صاحب نے دیکھا ان کی فیکٹری کے گیٹ کے نیچے سے ایک دوسرا کتا اندر داخل ہوا، کتے کے منہ میں ایک لمبی سی بوٹی تھی- کتا چھپتا چھپاتا گودام تک پہنچا، زخمی کتے کے قریب آیا، اس نے پاؤں سے زخمی کتے کو جگایا اور بوٹی اس کے منہ میں دے دی- زخمی کتے کا جبڑا حرکت نہیں کر پا رہا تھا چنانچہ اس نے بوٹی واپس اگل دی- صحت مند کتے نے بوٹی اٹھا کر اپنے منہ میں ڈالی، بوٹی چبائی، جب وہ اچھی طرح نرم ہو گئی تو اس نے بوٹی کا لقمہ سا بنا کر زخمی کتے کے منہ میں دے دیا-

زخمی کتا بوٹی نگل گیا، اسکے بعد وہ کتا گودام سے باہر آیا، اس نے پانی کے حوض میں اپنی دُم گیلی کی، واپس گیا اور دم زخمی کتے کے منہ میں دے دی_ زخمی کتے نے صحت مند کتے کی دم چوس لی- صحت مند کتا ایساکرنے کے بعد اطمینان سے واپس چلا گیا- حاجی صاحب مسکرا پڑے- اس کے بعد یہ کھیل روزانہ ہونے لگا- روز کتا آتا اور زخمی کتے کو بوٹی کھلاتا، پانی پلاتا اور چلا جاتا- حاجی صاحب کئی دنوں تک یہ کھیل دیکھتے رہے_

ایک دن حاجی صاحب نے اپنے آپ سے پوچھا "وہ قدرت جو اس زخمی کتے کو رزق فراہم کر رہی ہے کیا وہ مجھے دو وقت کی روٹی نہیں دے گی؟" سوال بہت دلچسپ تھا، حاجی صاحب رات تک اس سوال کا جواب تلاش کرتے رہے یہاں تک کہ وہ توکل کی حقیقت بھانپ گئے- انہوں نے فیکٹری اپنے بھائی کے حوالے کی اور تارک الدنیا ہو گئے- وہ مہینے میں تیس دن روزے رکھتے اور صبح صادق سے اگلی صبح کاذب تک رکوع و سجود کرتے، وہ برسوں اللہ کے دربار میں کھڑے رہے، اس عرصے میں اللہ انہیں رزق بھی دیتا رہا اور ان کی دعاؤں کو قبولیت بھی- یہاں تک کہ وہ صوفی بابا کے نام سے مشہور ہو گئے اور لوگ ان کے پاؤں کی خاک کا تعویز بنا کر گلے میں ڈالنے لگے لیکن پھر ایک دوسرا واقعہ پیش آیا اور صوفی بابا دوبارہ حاجی صاحب ہو گئے_
یہ سردیوں کی ایک نیم گرم دوپہر تھی، صوفی بابا کی بیٹھک میں درجنوں عقیدت مند بیٹھے تھے- صوفی بابا ان کے ساتھ روحانیت کے رموز پر بات چیت کر رہے تھے- باتوں ہی باتوں میں صوفی بابا نے کتے کا قصہ چھیڑ دیا اور اس قصے کے آخر میں حاضرین کو بتایا "رزق ہمیشہ انسان کا پیچھا کرتا ہے لیکن ہم بیوقوف انسانوں نے رزق کا پیچھا شروع کر دیا ہے-

اگر انسان کی توکل زندہ ہو تو رزق انسان تک ضرور پہنچتا ہے بلکل اس کتے کی طرح جو زخمی ہوا تو دوسرا کتا اس کے حصے کا رزق لے کر اس کے پاس آ گیا- میں نے اس زخمی کتے سے توکل سیکھی- میں نے دنیاداری ترک کی اور اللہ کی راہ میں نکل آیا- آج اس راہ کا انعام ہے میں آپ کے درمیان بیٹھا ہوں- ان تیس برسوں میں کوئی ایسا دن نہیں گزرا جب اللہ تعالی نے کسی نہ کسی وسیلے سے مجھے رزق نہ دیا ہو یا میں کسی رات بھوکا سویا ہوں- میں ہمیشہ اس زخمی کتے کاشکریہ اداکرتارہتا ہوں جس نے مجھے توکل کا سبق سکھایا تھا-

صوفی بابا کی محفل میں ایک نوجوان پروفیسر بھی بیٹھا تھا، پروفیسر نے جینز پہن رکھی تھی اور اس کے کان میں ایم پی تھری کا ائر فون لگا تھا- نوجوان پروفیسر نے ائر فون اتارا اور قہقہہ لگا کر بولا "صوفی بابا ان دونوں کتوں میں افضل زخمی کتا نہیں تھا بلکہ وہ کتا تھا جو روز شام کو زخمی کتے کو بوٹی چبا کر کھلاتا تھا اور اپنی گیلی دم سے اس کی پیاس بجھاتا تھا-

کاش آپ نے زخمی کتے کے توکل کی بجائے صحت مند کتے کی خدمت، قربانی اور ایثار پر توجہ دی ہوتی تو آج آپ کی فیکٹری پانچ، چھ سو لوگوں کا چولہا جلا رہی ہوتی-" صوفی بابا کو پسینہ آ گیا- نوجوان پروفیسر بولا "صوفی بابا! اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے افضل ہوتا ہے، وہ صحت مند کتا اوپر والا ہاتھ تھا جبکہ زخمی کتا نیچے والا-

افسوس آپ نے نیچے والا ہاتھ تو دیکھ لیا لیکن آپ کو اوپر والا ہاتھ نظر نہ آیا- میرا خیال ہے آپ کا یہ سارا تصوف اور سارا توکل خود غرضی پر مبنی ہے کیونکہ ایک سخی بزنس مین دس ہزار نکمے اور بے ہنر درویشوں سے بہتر ہوتا ہے" نوجوان اٹھا' اس نے سلام کیا اور بیٹھک سے نکل گیا- حاجی صاحب نے دو نفل پڑھے، بیٹھک کو تالا لگایا اور فیکٹری کھول لی، اب وہ عبادت بھی کرتے ہیں اور کاروبار بھی.

(منقول)

Address

Jhelum
49600

Telephone

+923189411275

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Alquds History Point posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category