Ghizerians

Ghizerians We are promoting Ghizer GB, Valley of Lakes, Heaven on Earth.

23/07/2026

محترم ڈپٹی کمشنر صاحب ضلع غذر
کلاؤڈ برسٹ کے نتجے میں گاہکوچ بالا اور گاہکوچ پائین میں بارشوں کے نتیجے میں کل رات 12 بجے کے بعد گاہکوچ پائین سنٹر محلے میں سیلابی صورت حال رہی جہاں پر ہیڈکوارٹر بازار کو آبشار سے لنک کرنے والے روڈ، پانی کا نظام بری طرح متاثر ہوا ہے۔ روڑ چلنے کے قابل نہیں ہے اور پینے کے پانی کا نظام مکمل تباہ ہوا ہے۔
بارشیں اس سے پہلے بھی ہورہی تھی لیکن اس طرح کی سیلابی صورت حال کا سامنا نہیں تھا۔
اطلاعات یہ ہیں کہ گاہکوچ کے شروعی حصے میں الگ الگ مختلف کوہل بنے ہیں جہاں سے پانی کو یکساں تقسیم کیا جاتا ہے جس سے گاوں اور یہاں کے انفراسٹرکچر کو نقصان نہیں پہنچتا مگر کل رات سیلابی ریلے کے بعد پانی کو یکساں تکسیم کرنے کی بجائے روڈ کی طرف موڑا گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ لوگوں نے جان بوجھ کر پانی تقسیم ہونے والے راستے کو بند کرکے پانی کو روڈ کی طرف موڈ دیا گیا نتیجتاً سارا انفراسٹرکچر کا نظام تباہ ہوگیا۔ جس میں آبشار اور ہیڈکوارٹر کو ملانے والا روڈ مکمل طور پر تباہ ہوگیا
پانی ریلے کے رکنے کے بعد بھی کچھ لوگوں کی ضد تھی کہ روڈ کو سڑک کی طرف ہی موڑا جائے مگر رضاکاروں نے سے لڑ کے پانی تقسیم مختلف کوہلوں میں تقسیم کیا جس کی وجہ سے یہ مقامی آبادی کسی بڑی بربادی سے بچ گئی۔
محترم ڈپٹی کمشنر صاحب اگر ان باتوں میں سچائی ہے تو یہ یہ تخریب کاری ہے اور یہ مجرمانہ غفلت ہے جو کہ کسی بڑے سانحے کا سبب بن سکتی تھی۔
اس لئے آپ سے گزارش کی جاتی ہے کہ آپنے بندوں کے زریعے موقع پر خبر لینے کا حکم نامہ جاری کرے اور ایسے سماجی ملزموں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اگلی دفعہ جب بھی تھوڑی بارش ہوگی تو یہ لوگ یہی تخریب کاری جاری رہے گی۔

امید کرتے ہیں کہ آپ اس پر کاروائی عمل میں لائیں گے۔

شکریہ
مقامی فرد ہیڈکوارٹر گاہکوچ

22/07/2026

صدی ہونے کو آئی بجلی کا نظام ٹھیک نہیں کرسکے اور چلے ہیں صوبہ بنانے۔
جب محکمے میرٹ پر ترقی کے لئے بنانے کے بجائے روزگار کے لئے بنائے جائیں تو وہ ایک جنگل بن جاتے ہیں جہاں ہاتھی، گھوڑے، بھیڑ بکری، خرگوش چوہیں سب نے وہیں سے خوراک لینی ہوتی ہے۔ جب شیر کے لئے قانون نہیں ہوگا تو چوہے کو کون پکڑے گا۔
گلگت بلتستان کی 70 فیصد سے زیادہ آبادی سرکاری ملازمتوں پہ اکتفا کر رہی ہے اور جو ایک دو لوگ ایف پی ایس سی سے نئے جذبے کے ساتھ ہیں وہ کچھ عرصے بعد سب سے بیکار پرزے بن جاتے ہیں۔
اور باقی کے جو بچتے ہیں ان کے لئے سرکاری نوکری روزگار کا بہترین زریعہ ہے۔
یعنی کل ملا کے بجلی کے محکمے کے اندر سو فیصد ملازم آفیسر سے لیکر قلی تک مقامی ہیں اور اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر یہ اپنا کام صحیح نہیں کرسکتے تو انہوں نے حرام کا لقمہ کھایا ہے۔
اور حرام خور کبھی بھی نہ ترقی کرتا ہے اور نہ وہ معاشرے کے لئے کچھ چھوڑ کے جاتا ہے۔
بنیادی طور پر یہ ایک بدعنوان انسانوں کا معاشرہ جس میں پروڈیوسر سے لیکر کنزیومر تک سب حرامخور ہیں۔

19/07/2026

Abdul Jahan Qarabash
سر آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ جس اسمبلی میں آپ ہیں وہاں لوگوں کو واٹس ایپ چلانا نہیں آتا اور جو تھوڑے پڑھے لکھے ہیں انہیں لکھا ہوا پڑھنا نہیں آتا اس اسمبلی میں آپ ڈیجیٹلائزشن کی بات کرتے ہیں سوفٹ میں فائل پڑھنے کی بات کرتے ہیں۔ سوفٹ تو چھوڑے سر ان میں سے آدھے لوگ تو موبائل صرف ٹک ٹوک کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے آدھے لوگوں کے پاس ایمیل بھی ہے اور اگر وہ اپنا ایمیل خود بناسکتے ہیں تو یہ انقلاب ہوگا۔ ایسا ہے نہیں نہ ان کو ایمیل کا پتہ ہے اور نہ ان کو ایمیل بنانا آتا ہے۔
دوسرے اداروں کی تو ہم بات ہی نہیں کرتے تعلیم کے اداروں کو ہی اٹھا کر دیکھے تو 18, 19 اسکیل کے ملازموں کے پاس اپنا لیپ ٹاپ تک نہیں ہوگا، آفس میں ان کی اپنی ٹیبل پر غلطی سے لیپ ٹاپ رکھا گیا ہے تو وہ بھی مہینوں سے اوپن نہیں ہوا ہوگا۔ اگر کوئی کام کرانا بھی ہے تو ان کے لئے کمپیٹر آپریٹر بھرتی کئے ہونگے۔
موبائل میں کوئی ڈیٹا نہیں ہوگا، موبائل سے ایمیل کی رپلائی کرنا، اکومنٹ اٹیچ کرنا ان سب سے کوسوں دور ہیں یہ لوگ۔
جس معاشرے کے دفاتر 1900 صدی کا منظر پیش کرے وہاں جدیدیت کی صرف بات نہیں کرنی ہے جدید دور کے علم اور ٹیکنالوجی کے تیزاب سے ان دفاتر کو دھونا ہے۔

24/06/2026

Celebrating my 7th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

اس وقت نذیر ایڈوکیٹ گاہکوچ میں دھرنے پر ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ووٹ اتنے نہیں ہیں جتنے ملے ہیں۔ اور وہ اس تخت کا سل...
09/06/2026

اس وقت نذیر ایڈوکیٹ گاہکوچ میں دھرنے پر ہیں کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے ووٹ اتنے نہیں ہیں جتنے ملے ہیں۔ اور وہ اس تخت کا سلطان ہے جس تخت پر اس وقت عبدلجہان ہے۔
اور دوسری طرف صفدر علی شیرازی کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے ساتھ اسپیکر گلگت بلتستان اسمبلی نذیر ایڈوکیٹ پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار نے اس کے ووٹ چرائے ہیں جو اسوقت دھرنے پر ہیں اپنی کہانی لیکر۔
صفدر کا کہنا ہے کہ نذیر ایڈوکیٹ نے اسپیکر کے عہدے کا غلط فائدہ اٹھا کر ان کے ووٹ کو تبدیل کیا ہے۔
اب بتائے کون کس کا چور ہے۔

07/06/2026

لگتا ہے گوپس پھنڈر کے لوگوں نے ٹھان لی ہے کہ وہ پونیال کو سیٹ تحفے میں دیں گے۔
غذر پونیال کے باسی، غذر گوپس پھنڈر کے باسیوں کو سلام پیش کرتے ہیں کہ وہ حکمرانی کے لئے غذر پونیال کو ہی بہتر سمجھتے ہیں۔
تشکّر

06/06/2026

نئی ڈش مارکیٹ میں آئی ہے۔ “بوٹ چاٹ”۔
اس کے فائدے ہیں کہ آپ اس سے کھا بھی سکتے ہیں لگا بھی سکتے ہیں اور چاٹ بھی سکتے ہو۔
اس ڈش کے کوئی پیسے نہیں لگتے۔
اس کو بنانے کے لئے بے شرمی کے محلول میں بکواسیات کے جملے ملا کر کچھ دنوں کے لئے رکھنا ہے جب دونوں آپس میں صحیح گَل جائے تو اندازہ ہوگا کہ محلول بن کر تیار ہے تو اُس محلوم کو بے غیرتی کی کڑاہی میں مکس کرکے اگلے ایک ماہ تک اس کو ہلاتے جُلاتے دیکھاتے رہیں تو “بوٹ چاٹ” تیار ہوکر مارکیٹ میں آجاتا ہے۔
اور کچھ لوگوں کو اس “بوٹ چاٹ” کا استعمال کرتے ہوئے بڑی خوشی محسوس ہوتی ہے۔ اور اس کا ذکر وہ اکثر کرتے رہتے ہیں۔
اِن لوگوں کا نعرہ ہے
“ایک بوٹ چاٹ زندگی آسان بنائے”

05/06/2026

عوامی مینڈیٹ کا احترام کرنا بہت ضروری ہے۔ یہاں ہر کوئی جانتا ہے کہ اسی کے امیدوار نے ہی جیت جانا ہے 7 تاریخ کی شام کو ہی اندازہ ہوگا کہ عوام نے بھی ان کے ساتھ سیاست کی ہے۔
دھونس دھمکیاں، مار پیٹ، سب کا حساب لینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ عوام پولنگ اسٹیشن جائیں اور اپنے ووٹ کا استعمال اس شخص اور پارٹی کے خلاف کرے جس نے انہیں نظرانداز کیا ہے ان پر اپنا روپ جمایا ہے کم تر سمجھا ہے، مارا پیٹا ہے دھمکیاں دی ہیں، یہ موقع ہے اس کے بعد پھر کبھی موقع ملنے والا نہیں۔

05/06/2026

آخر کے 48 گھنٹے اہم ہوتے ہیں۔ اگر لوگ ڈیوٹی پہ معمور ہوجائیں تو پائپ، پیسے انکم سپورٹس کے کارڈ پتہ نہیں کیا کیا برآمد ہوجائے گا۔

01/06/2026

ان غریب لوگوں نے تمہیں سیاست سکھائی تھی!
انہی غریبوں نے تمہیں ووٹ دیا،
تمہارے خاندان کو عزت دی،
تمہارے لیے راستے بنائے،
اور تمہیں اقتدار تک پہنچایا۔
تم بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرکے لوٹے،
مگر اپنے محسنوں کو ہی حقیر سمجھنے لگے۔

تم نے کہا: "غریب نوکری کرے، مزدوری کرے، سیاست اس کے بس کی بات نہیں!"

مگر سن لو!
یہ عوام اندھی نہیں،
صرف برسوں سے خاموش ہے۔
جس دن یہی غریب ایک صف میں کھڑا ہوگیا،
جس دن مزدور، کسان، طالب علم اور نوجوان ایک آواز بن گئے،
تو محلوں کے دروازے لرز جائیں گے،
اور خاندانی سیاست کے تاج گر جائیں گے۔
اقتدار کسی خاندان کی جاگیر نہیں،
یہ عوام کی امانت ہے۔
یاد رکھو!
جب غریب کے دل پر چوٹ لگتی ہے،
تو عرش پر بھی مقدمہ درج ہوتا ہے۔
وقت بدل چکا ہے!
اب غریب صرف ووٹ نہیں دے گا،
بلکہ خود قیادت کرے گا۔
عوام کا راج — عوام کا حق
سیاست خاندانوں کی نہیں، قوم کی ہوتی ہے۔
جاگو، سوچو، اور اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرو! ✊

Address

Ghizer
Islamabad
15200

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghizerians posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category