Pakistan History

Pakistan History Let's explore the glorious past of our beloved Pakistan. You can send the pics from your personal collection in mail.

The purpose of this group is to explore the hidden and unique history of Pakistan

امریکہ نے "ایٹمی جنگ" کو روکا، ٹرمپ نے کہا، لیکن… کچھ اور غلط ہو گیا۔**(صرف اُن لوگوں کے لیے جو سیزفائر کی کہانی کا دوسر...
15/05/2025

امریکہ نے "ایٹمی جنگ" کو روکا، ٹرمپ نے کہا، لیکن… کچھ اور غلط ہو گیا۔**
(صرف اُن لوگوں کے لیے جو سیزفائر کی کہانی کا دوسرا رخ جاننا چاہتے ہیں)

تو امریکہ کا اس انڈیا/پاکستان کشیدگی سے کوئی تعلق نہیں تھا، ٹھیک؟ کم از کم شروعات میں یہی کہا گیا جیسا کہ جی ڈی وینس نے دعویٰ کیا۔ لیکن پھر کچھ بدل گیا۔ اچانک ٹرمپ نے مداخلت کی، بحران کو ختم کیا، اور فوری سیزفائر کا اعلان کر دیا، جس کے نتیجے میں بھارت عالمی سطح پر شرمندہ ہوا اور اپنی ساکھ کھو بیٹھا۔

سوال یہ ہے… آخر غلط کیا ہوا؟
کچھ ایسا ہوا جس نے مغرب کو ہلا کر رکھ دیا اور میرا ماننا ہے کہ دو بڑی چیزیں ان کے لیے خطرہ بن گئیں
پہلا، چین کی فوجی ٹیکنالوجی نے دنیا میں تہلکہ مچا دیا۔**

جب پاکستان نے چینی ساختہ PL-15 میزائل اور JF-17 بلاک 3 طیارے استعمال کر کے بھارتی رافیلز کو مار گرایا، تو چینی ڈیفنس اسٹاکس میں دھماکہ ہو گیا! JF-17 اور J-10C بنانے والی کمپنی AVIC Chengdu Aircraft Corporation کے شیئرز صرف دو دن میں 36% بڑھ گئے۔

عالمی سرمایہ کاروں نے سمجھ لیا کہ چین کی ہتھیار سازی مغربی ٹیکنالوجی کے مقابلے میدانِ جنگ میں کامیاب ہوئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امریکی اور اسرائیلی اسلحہ ساز معاہدوں کو عالمی سطح پر خطرہ لاحق ہو گیا۔

یہ جنگ صرف پاکستان بمقابلہ بھارت نہیں تھی، یہ چینی بمقابلہ مغربی فوجی ٹیکنالوجی بھی تھی۔

**نتیجہ؟**
پاکستان نے، اپنے قریبی اتحادی چین کے لیے، دنیا کو ایک لائیو ڈیمو دے دیا — اور وہ کامیاب رہا۔

دوسری طرف، اسرائیل نے بھارت کی حمایت کی، اور بھارت نے پاکستانی اہداف کے خلاف اسرائیلی 77 ہاروپ ڈرونز استعمال کیے۔ یہ ڈرونز نہ صرف خبروں کی زینت بنے بلکہ مسلمان دنیا میں اسرائیل مخالف جذبات کو بھی بھڑکایا — خاص طور پر کشمیر اور پاکستان میں۔

یوں ایک پاک-بھارت جنگ نے ایک اور رنگ پکڑا: "ہندو-یہودی اتحاد" بمقابلہ مسلمان۔
یہ مغرب کے لیے دوہرا خطرہ تھا:

1. چین کی فوجی طاقت دنیا کی توجہ حاصل کر گئی
2. اسرائیل کی ساکھ خطرے میں آ گئی، جسے امریکہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

---

**دوسرا دھچکا امریکہ کو تب لگا جب پاکستان نے ایک چالاک قدم اٹھایا۔**

اندرونی ذرائع کے مطابق، پاکستان کے جنگی ہیڈکوارٹر سے جان بوجھ کر ایک مخصوص میٹنگ کی تفصیل لیک کی گئی، جس میں یہ بحث کی گئی کہ چونکہ بھارت کو اسرائیل کی حمایت حاصل ہے، اس لیے پاکستان کو اسرائیل کے خلاف براہ راست کارروائی کا حق حاصل ہے۔

یعنی پاکستان ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے، چین کے سائے میں، اسرائیل کو ہدف بنانے کی بات کھلے عام کرنے لگا۔

**یہ وہ "ریڈ لائن" تھی جو امریکہ نہیں چھو سکتا تھا۔**
انہیں فوری طور پر کشیدگی کم کرنی پڑی، اور یہی انہوں نے کیا — یہ کہتے ہوئے کہ دنیا کو "ایٹمی جنگ" نہیں چاہیے۔

---

**تو پھر امریکہ نے سیزفائر کے فوراً بعد کیا کیا؟**
جب دنیا کی توجہ سیزفائر اور سوشل میڈیا پر تھی، ایک اہم میٹنگ جنیوا میں ہوئی۔ اچانک امریکہ اور چین تجارتی مذاکرات میں بیٹھ گئے اور صرف چند گھنٹوں میں:

1. امریکہ نے ٹیرف 145% سے کم کر کے 30% کر دیے
2. چین نے ٹیرف 125% سے کم کر کے 10% کر دیے
3. 600 ارب ڈالر کی تجارتی پابندیاں ختم ہو گئیں

---

اب آپ سمجھ گئے؟
یہ سب کچھ اس لیے ہوا کیونکہ پاکستان نے میدانِ جنگ میں نہ صرف خود کو ثابت کیا بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

پاکستان نے صرف ایک جنگ نہیں جیتی، اس نے دنیا کو یاد دلایا کہ وہ اب بھی میز پر موجود ہے۔
اسی لیے، بھارت کے تمام دعووں، سیاسی انتشار، اور معاشی بحران کے باوجود —

**پاکستان اب بھی اہم ہے۔
پاکستان ہمیشہ اہم رہے گا۔
پاکستان زندہ باد

پاکستان کا پہلا کرنسی نوٹ انڈیا میں چھاپا گیا تھا۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد، پاکستان کے پاس اپنی کرنسی چھاپنے کے لی...
04/04/2025

پاکستان کا پہلا کرنسی نوٹ انڈیا میں چھاپا گیا تھا۔ 1947 میں قیامِ پاکستان کے بعد، پاکستان کے پاس اپنی کرنسی چھاپنے کے لیے فوری طور پر کوئی سہولت موجود نہیں تھی، اس لیے عبوری طور پر "ریزرور بینک آف انڈیا" نے پاکستان کے لیے خصوصی طور پر "پاکستان اوور پرنٹڈ انڈین نوٹ" جاری کیے۔ یہ نوٹ 1948 تک استعمال ہوتے رہے، جب پاکستان نے اپنا اسٹیٹ بینک آف پاکستان قائم کرکے اپنی کرنسی چھاپنی شروع کی۔

شروع میں پاکستان کے نوٹ برطانیہ کی کمپنی "ڈی لارُو میں بھی چھپتے رہے، اور بعد میں پاکستان نے اپنی کرنسی نوٹ چھاپنے کے لیے مقامی سطح پر انتظامات کیے۔

1937 میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا لیگ میچ کھیلا گیا اور میچ کو 60 ویں منٹ میں شدید دُھند کی وجہ س...
03/04/2024

1937 میں انگلینڈ میں چیلسی اور چارلٹن کے مابین فٹ بال کا لیگ میچ کھیلا گیا اور میچ کو 60 ویں منٹ میں شدید دُھند کی وجہ سے روک لیا گیا،
لیکن چارلٹن ٹیم کے گول کیپر سیمے بارٹرم کھیل کو روکنے کے 15 منٹ بعد بھی گول کے سامنے موجود رہے کیونکہ اُس نے اپنے گول پوسٹ کے پیچھے ہجوم ‏کی وجہ سے ریفری کی سیٹی نہیں سنی تھی، وہ اپنے بازوؤں کو پھیلائے ہوئے اور اپنی توجہ مرکوز کر کے گول پوسٹ پر کھڑا رہا، غور سے آگے دیکھتا رہا اور پندرہ منٹ بعد جب سٹیڈیم کا سیکورٹی عملہ اُس کے پاس پہنچا اور اُسے اطلاع دی کہ میچ منسوخ کردیا گیا ہے تو سیمے بارٹرم نے شدید غم و غصے‏کا اظہار کرتے ہوئے کہا:
”کتنے افسوس کی بات ہے کہ جِن کے دفاع کے لیئے میں کھڑا ہوا تھا وہ مُجھے ہی بُھول گئے" 😰
زندگی کے میدان میں کتنے ہی ایسے ساتھی موجود ہوتے ہیں جن کے مفادات کے دفاع کیلیئے ہم نے اپنا وقت، صلاحیت اور توانائی صرف کی ہوتی ہیں لیکن حالات کی دُھند میں وہ ہمیں ‏بھول جاتے ہیں،
اس لیئے سب کے مفادات کا خیال ضرور رکھیں مگر کبھی کسی سے کوئی امید یا توقع کبھی نہ رکھیں۔

*ونگار* اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔ وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار " پختون علاقوں  میں "بلاندرہ" اور"اشر" کےنام سے بھی...
30/03/2024

*ونگار*
اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔
وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار " پختون علاقوں میں "بلاندرہ" اور"اشر" کےنام سے بھی جانا جاتا ھے۔ ونگار کالفظی مطلب
جو میں سمجھا ھوں کہ بلا معاوضہ اجتماعی کام ( مفتا)
جب جدید زرعی آ لات نہیں تھے ۔ کھیتی باڑی کے کام مینوئلیManually ھوتے تھے۔ھمارےعلاقہ میں بیلوں کے ذریعے ھل چلائےجاتے (نالی پھیرنا) کھیت کو ھموار کرنا۔ تال وغیرہ۔ گندم اور چنےکی بوائی، کٹائی اور گہائی کا مرحلہ ھوتا، پڑ پکائے جاتے۔ کباڑ ،جڑی بوٹیاں (بھوکل) وغیرہ تلف کی جاتیں۔ یہ سارے کام چونکہ مشقت طلب تھے اور زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ھوتی تو سب کاشتکار مل کر باری باری ایک دوسرےکے کام کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ جب کچے مکانات کی چھتوں کی مرمت کی جاتی مٹی اور گارا چڑھایا جاتا یا نئی چھت ڈالنے کا بھاری کام ھوتاتواس موقعےپر بھی وِنگار برپا کیا جاتا تھا ۔
یہ سارے کام سب لوگ خوشی، جوش و ولولے سے انجام دیتے تھے ۔ ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ڈھول اور شہنائی والے کو بھی بلایا جاتا تھا۔ اور کام کے دوران منچلوں کا رقص وغیرہ بھی ھوتا تھا اور ڈھول کی تھاپ پر درانتی بھی چلائی جاتی تھی۔
نوجوان، (کچھ بزرگ بھی) کام کرتے ھوئے مذاق میں ایک دوسرے پرفقرے کستے اور ھنسی مذاق کے ساتھ بخوشی سارا کام ھو جاتا تھا ۔
اب بھی کہیں کہیں یہ رواج موجود ھے لیکن کم کم۔ کیونکہ جدید زرعی آلات اور زمانے کی ترقی نے ان سارے کاموں کو آسان بنا دیا ھے۔
ایک وقت تھا کہ جیسے ہی مرغ نے اذان دے کر طلوع سحرکا اعلان کیا۔ اور مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں تو گھروں میں بندھے بیلوں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔
ہر گھر سے جفاکش، محنتی کاشتکار اپنے بیل اور اونٹ لے کر گاؤں، محلہ کے چوک میں جمع ہوتے، پھر ایک سیدھی لائن میں کھیتوں کی جانب رواں دواں، ایک کاشتکار کے کھیت میں پہنچ کر سب ہل جوت لیتے۔ یہ سلسلہ ’’ونگار‘‘ کہلاتا تھا۔۔۔
ونگار کے یہ مناظر ہمیں آج سے دو تین دہائی قبل تھل کےسب دیہاتوں میں عام طور پر نظر آتے تھے۔ جہاں کبھی کام اور دکھ درد سانجھے ہوتے تھے۔
کھیتوں کی تیاری، گندم اورچنےکی کٹائی، گہائی، شادی بیاہ کی تقریبات، علاقہ کے فلاحی کام جیسےکنوے کی صفائی وغیرہ سب مل جل کر ونگار جیسی رسموں سے نمٹائے جاتے تھے۔
جس شخص نے ونگار لینا ہوتی وہ شام کو ہی اطلاع کر دیتا کہ صبح اس کا کونسا کام ہے۔ کوئی فرد انکار نہیں کرتا تھا اور سب لوگ خوشی خوشی صبح اجتماعی طور پر کام کے لیے چلے جاتے تھے جس سے دنوں کاکام لمحوں میں ہوجاتا تھا اور اتفاق، اتحاد اور محبت بھی قائم رہتی۔
ونگار والے دن ونگاریوں کا ناشتہ، لنچ ونگار لینے والے کے ذمہ ہوتا۔
خواتین عموماً ونگار میں کام تو نہیں کرتی تھیں لیکن ونگار میں شامل لوگوں کے لیے خالص دیسی مزیدار کھانے پکاتی تھیں۔ ھم بچوں کے ذمہ کھانا کھیت میں پہنچانا ھوتا تھا۔ پانی گروٹ کے ٹھنڈے مٹی والے گھڑوں میں اونٹوں کے کچاوے میں رکھ کر علی الصبح ھی روانہ کر دیا جاتا اور یہ ھم بچوں کی ڈیوٹی ھوتی کہ چھوٹی جھاڑیوں کے سائے میں رکھے گھڑوں کو پانی گرائے بنا کیسے سائے کی طرف سرکاتے رھنا ھے۔ اتنا ٹھنڈا اور مذیدار پانی کہ برف اور واٹر فلٹر کی کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔
ھمارے فرائض منصبی میں ایندھن اکٹھا کر کے حقہ بھرنا بھی شامل تھا۔
کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ یا شکر لازمی شامل ہوتے۔ کچھ لوگوں کی ونگار میں چٹنی اضافی آ ئٹم تھا۔ دوپہر کو اکثر لوگ مسی روٹیاں ( چنے کی روٹی) پکاتے اس روٹی کے آٹے میں پیاز آلو اور دیگر لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب دلوں میں خلوص، لہجوں میں اپنائیت، اور رشتوں میں محبت باقی تھی۔ جب بڑوں میں شفقت اور چھوٹوں میں ادب کی خوبصورت عادت تھی۔
جدید گلوبلائزیشن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن ان کے فوائد سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن ہم اپنائیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
ایک مقامی شاعر " درد"
نے کیا خوب کہا ھے۔۔
"جڈاں تنگ حالات دی جنگ چھڑ پئی"
"تینوں "درد" ونگار نہ لبھی

Raja Bazar, Old Rawalpindi - 1980
22/03/2024

Raja Bazar,
Old Rawalpindi - 1980

ایک ایسا ناول جو بائیں آنکھ کے جھپکنے سے لکھا گیا تھا۔فرانسیسی ناول نگار جان ڈومینیک مکمل طور پر مفلوج تھا اور بول بھی ن...
15/02/2024

ایک ایسا ناول جو بائیں آنکھ کے جھپکنے سے لکھا گیا تھا۔

فرانسیسی ناول نگار جان ڈومینیک مکمل طور پر مفلوج تھا اور بول بھی نہیں پاتا تھا۔ انہوں نے تقریباً 150 صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھی..!!
اپنی بائیں آنکھ کی پلک کو حرکت دے کر...!!
ایڈیٹر ہر بار اسے حروف تہجی کے ترتیب سے سناتی، جس حرف کو وہ چاہتا کہ لکھا جائے وہ بائیں آنکھ کو جھپکاتا یہاں تک کہ حروف الفاظ بنیں، الفاظ جملے، اور جملے مضمون بن کر کتاب کی تکمیل کرتے رہیں.
وہ روزانہ چھ 6 گھنٹے صرف آدھے صفحے کی لکھائی میں گزارتے.
ناول کا نام: ڈائیونگ بیل اینڈ بٹر فلائی
📙 The Diving Bell and the Butterfly

منقول

سابق صوبیدار عبدلخالق جسکا ذکر نہ تو سکول و کالج کے کتابوں میں ہے اور TV کے پروگراموں میں۔ براعظم ایشیاءکے پرندے کے لقب ...
19/01/2024

سابق صوبیدار عبدلخالق جسکا ذکر نہ تو سکول و کالج کے کتابوں میں ہے اور TV کے پروگراموں میں۔ براعظم ایشیاءکے پرندے کے لقب سے مشہور اس نے 100 اور 200 میٹر دوڑ کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کے لئے 36 مرتبہ گولڈ میڈل، 15 مرتبہ سلور میڈل اور 12 مرتبہ برونز میڈل جیتے تھے۔
Subedar Abdul Khaliq of , who is not mentioned in school and college books or in TV programs. Known as the bird of the continent of Asia, this soldier represented Pakistan in the 100 - and 200-meter world championships & won 36 gold medals, 15 silver medals, and 12 bronze medals.

| | | | | | | |
| | |

Jeeps Towing Fighter Jets During world War somewhere in Karachi
24/12/2023

Jeeps Towing Fighter Jets During world War somewhere in Karachi

Wazir Khan Mosque..!!Lahore is one of the most culturally diverse and historically layered cities in Pakistan. The old p...
21/12/2023

Wazir Khan Mosque..!!
Lahore is one of the most culturally diverse and historically layered cities in Pakistan. The old parts of Lahore are filled with diversity and culture. Along with the streets being filled with history, the famous Wazir Khan Mosque of Lahore has its historical effect on the city too. Best known for its picturesque and aesthetic architecture, the most is renowned amongst locals and tourists alike.

Mohenjo Daro..!!Going through the ruins of the once-booming civilization of Mohenjo Daro is nothing short of a life-chan...
20/12/2023

Mohenjo Daro..!!

Going through the ruins of the once-booming civilization of Mohenjo Daro is nothing short of a life-changing experience. It is present in the Sindh province of the country in the city of Larkana and getting it is relatively easy as well. With a LITTLE PKR , you can see the fantastic architecture of one of the oldest civilizations of the Indus Valley and the remarkable developments that the people had achieved.

18/12/2023

کس علاقے میں ابھی بھی کالے انجن موجود ہے۔ ہائے ساڈا ماضی کتنا حسین تھا۔۔!!!

Rare paper currency - One thousand rupees of Nizam of Hyderabad:Ek hazaar rupya sikka Usmania, written in five languages...
16/12/2023

Rare paper currency - One thousand rupees of Nizam of Hyderabad:
Ek hazaar rupya sikka Usmania, written in five languages.
Released on 1341 AH, 1922 AD.

Address

Islamabad
46000

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan History posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share