𝐇𝐈𝐒𝐓𝐎𝐑𝐘 تاریخ

Call Directions Contact the museum

𝐇𝐈𝐒𝐓𝐎𝐑𝐘 تاریخ ہمارا مقصد نوجوان نسل کو تاریخ اسلامی سے آگاہ کرنا ہے ت?

یمن کے پیچیدہ، طویل اور خونریز بحران کو سمجھنے کے لیے کسی ایک سال یا ایک واقعے پر نظر ڈالنا کافی نہیں۔ اس کے لیے اس خطے ...
23/09/2026

یمن کے پیچیدہ، طویل اور خونریز بحران کو سمجھنے کے لیے کسی ایک سال یا ایک واقعے پر نظر ڈالنا کافی نہیں۔ اس کے لیے اس خطے کی صدیوں پر پھیلی تاریخ، اس کا جغرافیہ، مذہبی اور قبائلی تقسیم، شمال اور جنوب کی الگ سیاسی کہانی، اور سعودی عرب، ایران، مصر، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات جیسی علاقائی طاقتوں کے بدلتے مفادات کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔

یمن جزیرۂ عرب کے جنوب مغربی سرے پر واقع ہے۔ اس کے شمال میں سعودی عرب، مشرق میں عمان، مغرب میں بحیرۂ احمر اور جنوب میں خلیجِ عدن ہے۔ اس کے مغربی ساحل کے سامنے باب المندب کی وہ اہم آبنائے ہے جو بحیرۂ احمر کو خلیجِ عدن اور آگے بحرِ ہند سے ملاتی ہے۔ اسی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے یمن صدیوں سے تجارت، سمندری راستوں اور علاقائی طاقتوں کے لیے انتہائی اہم رہا ہے۔

قدیم زمانے میں یہی سرزمین سبا اور حمیر جیسی بڑی عرب سلطنتوں کا مرکز تھی۔ بعد میں یہاں حبشی اور فارسی اثرات بھی پہنچے۔ اسلام کی آمد کے بعد یمن مختلف اسلامی حکومتوں کے زیرِ اثر رہا، لیکن شمالی پہاڑی علاقوں میں زیدی مذہبی و سیاسی نظام نے خاص طور پر مضبوط جگہ بنائی۔

897ء میں یحییٰ بن حسین، جنہیں امام ہادی الی الحق کہا جاتا ہے، نے شمالی یمن میں زیدی امامت کی بنیاد رکھی۔

زیدی امام صرف مذہبی رہنما نہیں تھے بلکہ کئی ادوار میں سیاسی اور عسکری سربراہ بھی رہے۔ مختلف خاندانوں کے ذریعے یہ نظام تقریباً ایک ہزار سال تک شمالی یمن کی سیاست پر اثر انداز رہا، اگرچہ پورا یمن ہر دور میں ایک ہی امام کے زیرِ حکومت نہیں رہا۔

دوسری طرف جنوبی یمن کی تاریخ بالکل مختلف راستے پر چل رہی تھی سولہویں صدی میں عثمانیوں کے زیر اثر رہا۔ 1839ء میں برطانیہ نے عدن پر قبضہ کر لیا، کیونکہ یہ ہندوستان جانے والے بحری راستے پر ایک انتہائی اہم بندرگاہ تھی۔ 1869ء میں نہر سویز کھلنے کے بعد عدن کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔ برطانیہ نے عدن کو براہِ راست اپنے قبضے میں رکھا جبکہ اردگرد کے قبائلی حکمرانوں کے ساتھ معاہدے کر کے اپنا اثر قائم کیا۔ یوں بیسویں صدی کے آغاز میں شمالی یمن زیدی امامی نظام کے زیرِ اثر تھا جبکہ جنوب میں برطانوی طاقت موجود تھی۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد 1918ء میں عثمانی فوج کے یمن سے مکمل طور نکلنے کے بعد امام یحییٰ حمیدالدین نے شمالی یمن میں اپنی حکومت مضبوط کر لی۔ بعد میں ان کے بیٹے امام احمد اور پھر محمد البدر اقتدار میں آئے۔

لیکن یمن کی جدید تاریخ کو سمجھنے کے لیے ایک اور پرانی کشمکش کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا: شمالی یمن اور سعودی ریاست کے درمیان سرحدی اور علاقائی تنازع۔ جدید سعودی ریاست کی تشکیل کے ابتدائی دور میں عسیر، نجران اور جازان کے علاقوں پر مختلف طاقتوں کے دعوے اور اثرات موجود تھے۔
عبدالعزیز ابن سعود کی طاقت جنوب کی طرف بڑھ رہی تھی جبکہ امام یحییٰ بھی یمن کے اثر و رسوخ کو وسیع کرنا چاہتے تھے۔
اس وقت عسیر میں مقامی حکمرانوں اور قبائل کی اپنی سیاست بھی تھی، اس لیے یہ معاملہ صرف دو حکومتوں کے درمیان سیدھی لڑائی نہیں تھا۔

اسی کشیدگی کے دوران 1923ء میں تنومہ اور سَدوان کا ایک انتہائی المناک واقعہ پیش آیا۔ یمن سے آنے والا ایک بڑا حج قافلہ کم وبیش 3000 ہزار افراد پر مشتمل مکہ مکرمہ کی طرف جا رہا تھا جس کو ابن سعود کے خوان جنگجووں نے قتل کردیا

اس واقعے نے پہلے سے موجود سعودی-یمنی بداعتمادی کو مزید گہرا کیا۔ اس کے بعد عسیر، نجران اور جازان کے مسئلے پر کشیدگی بڑھتی رہی اور بالآخر 1934ء میں سعودی عرب اور یمن کے درمیان باقاعدہ جنگ ہوگئی۔

1934ء کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدۂ طائف ہوا۔ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے درمیان امن، باہمی خودمختاری اور سرحدی معاملات کو ایک نئے فریم ورک میں رکھا۔ عسیر، نجران اور جازان کے حوالے سے سعودی انتظام کچھ حد تک تسلیم کیا گیا اور بیس سال بعد دوبارہ اس پر بات چیت کا وقت طے ہوا ۔۔۔لیکن اس پر دوبارہ بات چیت درست طریقے سے نہ ہو پائی
یہاں تک کہ 2000ء میں سعودی عرب اور یمن نے جدہ میں ایک جامع سرحدی معاہدہ کیا جس کے ذریعے زمینی اور بحری سرحد کی مزید واضح حد بندی کی گئی۔

یعنی آج اگر کوئی سعودی-یمنی سرحدی مسئلے کو سمجھنا چاہتا ہے تو اسے صرف 2015ء سے نہیں بلکہ 1920ء اور 1930ء کی دہائی کی اس پوری تاریخ کو بھی دیکھنا ہوگا۔

اس کے علاؤہ شمالی یمن ایک اور بڑی تبدیلی سے گزرا۔ ستمبر 1962ء میں فوجی افسران نے امامی حکومت کا تختہ الٹ کر یمن عرب جمہوریہ قائم کر دی۔ اس کے بعد 1962ء سے 1970ء تک خانہ جنگی ہوئی۔ ایک طرف جمہوری حکومت تھی جسے مصر کے جمال عبدالناصر کی حمایت حاصل تھی، جبکہ دوسری طرف سابق امامی نظام کے حامی تھے۔

یہاں تاریخ کا ایک دلچسپ موڑ سامنے آتا ہے۔ آج سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان شدید دشمنی ہے، لیکن 1960ء کی دہائی میں سعودی عرب نے انہی زیدی امامی قوتوں کی مدد کی تھی جو جمہوری حکومت کے خلاف لڑ رہی تھیں۔ اس وقت سعودی عرب کی بنیادی تشویش یمن میں مصر اور جمال عبدالناصر کے بڑھتے ہوئے اثر کو روکنا تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ سعودی عرب اور زیدی قوتوں کے تعلقات ہمیشہ دشمنی پر مبنی نہیں رہے بلکہ مختلف ادوار میں علاقائی سیاسی مفادات کے مطابق بدلتے رہے۔اس سے ان کو بھی سمجھنا چاہیے جو کہتے ہیں یہ خالص شیعہ سنی معمالات ہیں ، دراصل یہ مفادات کی جنگ ہے ۔

اسی دوران جنوب میں برطانیہ کے خلاف جدوجہد تیز ہوئی اور 1967ء میں برطانوی انخلا کے بعد جنوبی یمن ایک الگ ریاست PRSY بن گیا۔ یوں یمن کئی دہائیوں تک شمال اور جنوب میں تقسیم رہا۔

22 مئی 1990ء کو شمالی اور جنوبی یمن متحد ہو گئے اور موجودہ جمہوریہ یمن قائم ہوئی۔ علی عبداللہ صالح متحدہ یمن کے صدر بنے، لیکن اتحاد کے باوجود دونوں حصوں کے درمیان سیاسی اور معاشی اختلافات ختم نہ ہوئے۔ 1994ء میں جنوبی قوتوں نے دوبارہ علیحدگی کی کوشش کی، مگر یہ جنگ ناکام ہوگئی۔

اسی دور میں شمالی یمن کے زیدی علاقوں میں ایک نئی مذہبی اور سیاسی تحریک ابھر رہی تھی۔ حسین بدرالدین الحوثی اور ان کے خاندان نے زیدی مذہبی و ثقافتی شناخت کے احیا کے لیے کام شروع کیا جو صدیوں سے قائم تھی ۔ یہی تحریک آگے چل کر حوثی تحریک یا انصار اللہ کے نام سے معروف ہوئی۔

حوثی تحریک کی ابتدائی جڑیں مقامی زیدی معاشرے، سیاسی محرومی اور شناخت کے مسائل میں تھیں۔ اسے شروع ہی سے مکمل طور پر ایران کی بنائی ہوئی تنظیم کہنا درست تاریخی تصویر نہیں ہوگی۔ البتہ بعد کے برسوں میں ایران کے ساتھ اس کے سیاسی، عسکری اور تکنیکی تعلقات بہت مضبوط ہوئے اور آج ایران کی حمایت حوثیوں کی طاقت کا ایک اہم حصہ سمجھی جاتی ہے۔

2004ء میں علی عبداللہ صالح کی حکومت اور حوثیوں کے درمیان کھلی جنگ شروع ہوئی۔ حسین الحوثی اسی سال مارے گئے، لیکن تحریک ختم نہیں ہوئی۔ 2004ء سے 2010ء تک حکومت اور حوثیوں کے درمیان چھ جنگیں ہوئیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ بحران کی فوری اندرونی جڑ صرف 2015ء کی سعودی مداخلت نہیں بلکہ 2004ء سے جاری حکومت اور حوثیوں کا مسلح تنازع بھی ہے۔

2011ء میں عرب بہار کے مظاہروں نے یمن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جمہوریہ یمن کے علی عبداللہ صالح اقتدار سے الگ ہوئے اور عبدربہ منصور ہادی عبوری صدر بنے، لیکن ریاستی نظام پہلے ہی کمزور ہو چکا تھا۔ فوج، قبائل، سیاسی جماعتیں اور مختلف مسلح گروہ اپنی اپنی طاقت رکھتے تھے۔

2014ء میں حوثیوں نے اپنی طاقت تیزی سے بڑھائی اور بالآخر صنعاء پر قبضہ کر لیا۔ صدر ہادی پہلے عدن اور پھر سعودی عرب منتقل ہو گئے۔ اس کے بعد یمن کا بحران صرف اندرونی سیاسی تنازع نہیں رہا بلکہ ایک بڑے علاقائی تنازع میں بدل گیا۔

مارچ 2015ء میں سعودی عرب کی قیادت میں ایک فوجی اتحاد نے یمن میں مداخلت کی۔ سعودی عرب کا بنیادی مؤقف یہ تھا کہ حوثیوں کی پیش قدمی نے یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کو ختم کرنے کے قریب پہنچا دیا ہے اور سعودی سرحد کے قریب ایران سے قریبی تعلق رکھنے والی ایک مسلح قوت کا مضبوط ہونا براہِ راست قومی سلامتی کا خطرہ ہے۔ سعودی عرب نے صرف اس ڈر کی وجہ سے یمنی جمہوری حکومت کو سپورٹ کرنا شروع کیا یوں یمنی حکومت ( جو حال میں یمن کی بیس فیصد ابادی کو کنٹرول کرتی ہے ) اور سعودی کا اتحاد قائم ہوا اور معاشی اور ملٹری سپورٹ فراہم کرنا شروع کر دی تاکہ حوثیوں کو کمزور کیا جائے ،

دوسری طرف حوثیوں کا کہنا تھا کہ سعودی فوجی کارروائی یمن کی خودمختاری کے خلاف بیرونی مداخلت ہے یہ ہمارا اندرونی مسئلہ سعودی عرب کو اس دور رہنا چاہیے ۔ یوں ایک اندرونی یمنی جنگ علاقائی طاقتوں کی جنگ بن گئی۔

اس جنگ نے یمن کو ایک شدید انسانی بحران میں دھکیل دیا۔ خوراک، ایندھن، بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور بنیادی سہولیات پر پابندیوں اور حملوں نے عام لوگوں کی زندگی مشکل بنا دی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی بحران کی ذمہ داری کو صرف ایک فریق پر ڈالنا مکمل تصویر نہیں؛ حوثیوں، سعودی قیادت والے اتحاد، یمنی حکومت اور مختلف مقامی مسلح گروہوں کی کارروائیوں نے مجموعی صورتحال کو خراب کیا۔اس خانی جنگی میں تقریبا ساڑھے تین لاکھ یمنی فوت ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں کو خواتین کی تھی۔

پھر 2022ء میں ایک ایسا موقع آیا جب یہ محسوس ہونے لگا کہ شاید جنگ کا راستہ بدل سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ثالثی سے 2 اپریل 2022ء کو جنگ بندی شروع ہوئی۔ اس کے تحت تمام جارحانہ فوجی کارروائیاں روکنے، حدیدہ بندرگاہ پر ایندھن کے جہاز آنے، صنعاء ایئرپورٹ سے تجارتی پروازیں چلانے اور تعز سمیت دیگر علاقوں میں سڑکیں کھولنے پر بات ہوئی۔ تقریباً چھ ماہ تک اس جنگ بندی نے بڑے پیمانے کی لڑائی کو روک کر یمن کو ایک نسبتاً پرسکون دور دیا۔لیکن اصل مسئلہ حل نہیں ہوا۔

حوثیوں کی طرف سے مطالبہ تھا کہ صرف بمباری بند کرنا کافی نہیں، بلکہ صنعاء ایئرپورٹ اور حدیدہ بندرگاہ کی پابندیاں ختم ہوں، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ حل ہو اور یمن کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں ان علاقوں کے ملازمین کو بھی حصہ ملے۔ اکتوبر 2022ء میں جنگ بندی کی توسیع آخری مرحلے میں ناکام ہوگئی۔ اقوام متحدہ نے تنخواہوں، راستوں، صنعاء ایئرپورٹ اور حدیدہ سے متعلق مزید اقدامات کی تجویز دی تھی، لیکن فریقین ایک وسیع معاہدے پر متفق نہ ہو سکے۔

اس کے باوجود 2022ء کے بعد ایک عجیب صورت حال پیدا ہوئی: مکمل امن نہیں تھا، مگر بڑے پیمانے کی جنگ بھی واپس نہیں آئی۔ یوں یمن کئی برس تک ایک طرح کی نہ جنگ، نہ مکمل امن کی حالت میں رہا۔
اور پھر 2026ء میں وہ خاموشی ٹوٹ گئی۔
اس بار فوری موڑ 13 جولائی 2026ء کو آیا، جب سعودی حمایت یافتہ یمنی حکومتی فورسز نے صنعاء ایئرپورٹ کے رن وے پر فضائی حملہ کیا۔ انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق کم از کم پانچ گولہ بارود استعمال کیا گیا اور تین براہِ راست ایئرپورٹ کے واحد فعال رن وے سے ٹکرائے۔ یمنی حکومت کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو صنعاء میں اترنے سے روکنا تھا۔

یہ واقعہ اس لیے حساس تھا کہ ایرانی طیارہ حوثی وفد کو علی خامنہ ای کے جنازے سے واپس لا رہا تھا۔ صنعاء سینٹر کی تحقیق کے مطابق 3 جولائی کو ایک ایرانی طیارہ حوثی وفد کو خامنہ ای کے جنازے کے لیے ایران لے گیا تھا اور واپسی پر اس پرواز کے حوالے سے یمنی حکومت کی اجازت کا مسئلہ پیدا ہوا۔ 13 جولائی کو صنعاء ایئرپورٹ پر کارروائی ہوئی، اور اس کے فوراً بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف جوابی حملے شروع کیے۔
یہاں سے چار سال سے قائم بڑی سطح کی جنگ بندی عملاً ٹوٹ گئی۔
ایئرپورٹ پر حملہ اس طویل تعطل کے بعد وہ واقعہ بنا جس نے دونوں طرف کے عدمِ اعتماد کو دوبارہ مسلح تصادم میں بدل دیا۔ حوثیوں نے اسے اپنے خلاف سعودی جارحیت قرار دیا اور دہائیوں پر مشتعمل بلاکیڈ ، محرومی نے دوبارہ جنم لیا اور جواب میں سعودی اہداف کو نشانہ بنایا۔

اس کے بعد صورت حال تیزی سے بدل گئی۔ ستمبر 2026ء میں حوثیوں نے بحیرۂ احمر کے ساحلی علاقوں میں بڑی پیش قدمی کی اور موخا سمیت اہم مقامات پر قبضہ کیا۔ بعد میں باب المندب کے قریب اہم جزائر پر بھی ان کا کنٹرول قائم ہونے کی اطلاعات سامنے ہیں
سعودی عرب کے لیے یہ صورتحال پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ اب معاملہ صرف یمن کے اندر ایک مسلح گروہ سے نہیں بلکہ ایسے گروہ سے ہے جس نے برسوں کی جنگ میں میزائل، ڈرون، بحری حملوں اور طویل فاصلے تک پہنچنے والی کارروائیوں کی صلاحیت حاصل کر لی ہے۔ اب حوثی ایک قوت ہیں جو یمن کی اسی فیصد ابادی پر کنٹرول رکھتے ہیں اور ان کے آپسی معاملات بھی زیادہ مسائل کا شکار نہیں ، وہ اب ایک چھوٹی پہاڑی ملیشیا نہیں رہے بلکہ ایک ایسی علاقائی قوت بن چکے ہیں جو سعودی تنصیبات اور بحیرۂ احمر کی جہاز رانی دونوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جس فریق کی عسکری اور جغرافیائی طاقت بڑھتی ہے، مذاکرات میں اس کی سودے بازی کی طاقت بھی بڑھتی ہے۔ مستقبل میں حوثی صرف صنعاء، حدیدہ یا موجودہ زیرِ قبضہ علاقوں تک محدود مطالبات پر اکتفا کریں گے یا مزید علاقائی و سیاسی مطالبات سامنے لائیں گے، اس بارے میں ابھی کوئی حتمی پیش گوئی نہیں کی جا سکتی۔

خاص طور پر نجران، جازان اور عسیر کا معاملہ تاریخی طور پر حساس ہے۔ 1934ء کے معاہدۂ طائف اور پھر 2000ء کے جدہ سرحدی معاہدے کے بعد موجودہ بین الاقوامی سرحدی حقیقت ایک الگ قانونی حیثیت رکھتی ہے، اس لیے کسی بھی مستقبل کے حوثی مطالبے کو براہِ راست "پرانے یمنی دعوے کی واپسی" قرار دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ لیکن اگر حوثیوں کی عسکری طاقت مسلسل بڑھتی ہے تو سعودی عرب کے لیے اس کے سرحدی اور سکیورٹی اثرات یقیناً زیادہ اہم ہوتے جائیں گے۔

یہاں اصل مشکل یہ ہے کہ سعودی عرب کے پاس فوجی طاقت تو ہے، لیکن گزشتہ تجربہ یہ دکھاتا ہے کہ صرف فوجی طاقت سے یمن کا سیاسی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ 2015ء سے برسوں کی جنگ حوثیوں کو ختم نہیں کر سکی؛ اس کے برعکس وہ ایک زیادہ منظم اور طاقتور قوت بن کر سامنے آئے۔ آج وہ سعودی شہروں، تیل کی تنصیبات اور بحیرۂ احمر کی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ستمبر 2026ء میں سعودی تنصیبات پر حوثی حملوں اور سعودی جوابی کارروائیوں نے دوبارہ یہی حقیقت سامنے رکھی ہے۔

اسی لیے یمن کے مسئلے کا بنیادی سوال شاید یہ نہیں کہ کون فوجی طور پر دوسرے کو مکمل شکست دے سکتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ کون ایسا سیاسی معاہدہ بنا سکتا ہے جس میں دونوں فریق اپنی بنیادی سکیورٹی اور سیاسی ضروریات کے لیے کچھ قابلِ قبول ضمانت حاصل کر سکیں۔

یہ صورت حال کسی حد تک خطے کے دوسرے تنازعات کی یاد دلاتی ہے جہاں ایک فریق فوجی طاقت سے ایسا نتیجہ حاصل کرنا چاہتا ہے جو دوسرا فریق قبول ہی نہیں کرتا۔ جب زمینی حقیقت یہ بن جائے کہ ایک فریق کو مکمل طور پر ختم کرنا عملی طور پر ممکن نہیں، تو آخرکار مذاکرات کی میز ہی واپس آتی ہے۔

یمن میں بھی شاید اصل راستہ یہی ہے۔

حوثیوں کو مکمل طور پر نظرانداز کرنا اب آسان نہیں، کیونکہ وہ شمالی یمن میں ایک بڑی عسکری اور سیاسی قوت ہیں۔ سعودی عرب کے لیے بھی یہ ممکن نہیں کہ وہ اپنی سرحد اور شہری و اقتصادی تنصیبات کو مسلسل حملوں کے خطرے میں چھوڑ دے۔ جنوبی یمن کے سیاسی مطالبات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، جبکہ ایران کے کردار اور بحیرۂ احمر و باب المندب کی عالمی اہمیت نے اس مسئلے کو یمن کی سرحدوں سے بہت آگے پہنچا دیا ہے۔

اس لیے اگر آنے والے دنوں میں جنگ مزید بڑھے گی تو مطالبات بھی سخت ہو سکتے ہیں اور اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو ممکن ہے کہ آج کے مقابلے میں بہت زیادہ پیچیدہ شرائط کے ساتھ ہوں۔ لیکن ایک بات یمن کی گزشتہ سو سالہ تاریخ بار بار دکھا چکی ہے: عسکری کامیابی عارضی ہو سکتی ہے، مگر جغرافیہ، مقامی طاقتیں، سیاسی شناخت اور تاریخی دعوے صرف بمباری سے ختم نہیں ہوتے۔

1923ء کے حجاج کا خون ہو، 1934ء کی سعودی-یمنی جنگ اور معاہدۂ طائف ہو، 1962ء کی خانہ جنگی ہو، 1994ء کی جنوبی بغاوت ہو، 2004ء کی حوثی جنگ ہو یا 2015ء کے بعد کی علاقائی جنگ
ہر مرحلے پر طاقت کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی کوشش کے بعد کوئی نہ کوئی سیاسی بندوبست تلاش کرنا پڑا۔

اور آج بھی بنیادی سوال یہی ہے کہ کیا یمن ایک بار پھر اسی چکر میں جائے گا اور مزید قتل و۔ غارت کا بازار گرم ہو گا ، یا اس بار ایسا معاہدہ سامنے آئے گا جس میں حوثیوں کی موجودہ طاقت، سعودی عرب کی سرحدی سلامتی، جنوبی یمن کے سیاسی مطالبات اور علاقائی طاقتوں کے مفادات کو ایک ہی میز پر حل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

شاید یمن کے لیے اصل امن اسی دن شروع ہوگا جب فریقین یہ سمجھ لیں گے کہ ایک دوسرے کو مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں، لیکن ایک دوسرے کے ساتھ کوئی قابلِ عمل سیاسی سمجھوتہ کرنا ممکن ہے۔ جس کی پہلی کڑی ایک دوسرے پر اعتماد کرنا ہے یہ ہی سعودی عرب اور یمن کے باسیوں کے لیے اچھا ہو گا ورنہ نیلے ، جھنڈے والے تو یہ ہی چاہتے ہیں کہ یہ مسلم ممالک آپس میں لڑتے رہے اور ہم اسلحہ بھیچتے رہے ۔
اللہ کریم دونوں برادر ممالک کی خیر فرمائے اور اصل دشمن کو سمجھنے کی صلاحیت دے آمین ۔
نوٹ : یہ تحریر جذباتی یا مذہبی وابستگی سے ہٹ کر صرف حقائق اور تاریخی مسلّمات پر مبنی ہے۔

Address

Gujranwala

Telephone

+923456575111

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when 𝐇𝐈𝐒𝐓𝐎𝐑𝐘 تاریخ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Museum

Send a message to 𝐇𝐈𝐒𝐓𝐎𝐑𝐘 تاریخ:

Shortcuts

Share

Category