25/01/2026
*عرس حضور شمس العلماء علیہ الرحمہ میں شرف حاضری*
آج بروز اتوار بتاریخ ۲۵، جنوری ۲۰۲۶ء ہمارا ایک مختصر وفد، حضور شمس العلماء عالم ربانی فقیہ لا ثانی مفتی اعظم مہاراشٹر محدث بہار حضرت علامہ مفتی غلام مجتبیٰ اشرفی صاحب قبلہ علیہ الرحمتہ و الرضوان کے عرس مبارک میں شرکت کے لئے کوسیاری روانہ ہوا ،
گیارہ بجے دن ہم سب لوگ ٹھاکر گنج سے نکلے تقریبا ۴۵، منٹوں میں ہم لوگ کوسیاری پہونچ گئے وہاں معلوم ہوا کہ پروگرام باضابطہ طور پر بعد ظہر شروع ہوگا پھر ہم لوگ پہلے استاذ محترم پروفیسر معقولات و منقولات حضرت علامہ مفتی مظفر حسین صاحب قبلہ نور اللہ مرقدہ کی بارگاہ بافیض میں شرف زیارت و فاتحہ خوانی سے مشرف ہوئے
بعدۂ صاحب عرس حضور شمس العلماء علیہ الرحمہ کی مزار پر انوار کی خوبصورت و دیدہ زیب گنبد و مینار کو دیکھ کر فرط مسرت سے جھوم اٹھے اور قلب اسقدر زیارت کا مشتاق ہوا کہ ہم سب با ادب ہو کر آستانہ شمس العلماء میں پہونچے فاتحہ پڑھے تو اک قلبی سکون کا احساس ہوا پھر ہماری ملاقات شہزادہ حضور شمس العلماء حضرت علامہ و مولانا محمد مثنی صاحب قبلہ دام ظلہ العالی سے ہوئی، حضرت کافی خندہ پیشانی سے ملے اور ہم لوگوں سے فرمائے کہ عرس ھذا کے سرپرست پیر طریقت رہبر شریعت تاج الاولیاء حضرت علامہ الحاج سید شاہ جلال الدین اشرف اشرفی و جیلانی حضور قادری میاں مد ظلہ العالی بعد ظہر تشریف لائیں گے،لہذا نماز ظہر اور ظہرانہ سے فارغ ہو کر باضابطہ پروگرام شروع ہوگا فی الحال آپ حضرات اسٹیج سنبھالئے،
حضرت کے حکم پر رئیس العلماء حضرت علامہ و مولانا رئیس الدین صاحب جامنی گوڑی (جو ہمارے اس مختصر وفد کے روح رواں تھے)نے تلاوت قرآن کریم سے بزم پاک کا آغاز کیا پھر ناچیز راقم الحروف نے کچھ دیر صاحب عرس کی بارگاہ میں خراج عقیدت پیش کیا ، چند اور طلبا کرام نے نعت و منقبت کے اشعار پیش کئے اور حضرت مولانا اظہار الحق راہی صاحب نے مختصر خطاب فرمایا جس میں انہوں نے کہا کہ صاحب عرس حضور شمس العلماء کوئی معمولی شخصیت کے حامل نہیں تھے بلکہ ایک عبقری ذات تھے جوبراہ راست حضور ملک العلماء سے شرف تلمذ حاصل کئے وہ ملک العلماء جو اعلی حضرت کے شاگرد و خلیفہ تھے گویا حضور شمس العلماء صرف ایک واسطے سے اعلی حضرت امام احمد رضا خاں کے شاگرد ہوئے ،اسی اثنا میں ہماری ملاقات میرے سسر حضرت علامہ و مولانا الحاج عبدالغفار اشرفی صاحب قبلہ مدظلہ العالی سے ہوئی جو حال ہی میں شہزادہ شمس العلماء حضرت مولانا مفتی مثنی صاحب قبلہ کے سمدھی بنے ہیں، پھر ان کے ہمراہ حضرت کے دولت کدے پر گئے جہاں ہماری ملاقات معزز علماء کرام بالخصوص عمدۃ الخطباء مفتی محفل اشرف صاحب و حضرت مفتی غلام مدنی اشرفی صاحب حضرت مولانا الیاس رضوی صاحب قبلہ وغیرھم سے ہوئی، چائے نوشی کے دوران اذان ظہر ہوئی تو سب لوگ مسجد کی طرف کوچ کئے باجماعت نماز ظہر کی ادائیگی ہوئی پھر شہزادہ شمس العلماءسبھی مہمان علماء کرام کو اپنے گھر لے گئے شاندار ظہرانہ سے میزبانی کی، کھانے سے فارغ ہوکر سیدھے محفل میں پہنچے،
نقیب محفل تلاوت قرآن کریم کے لئے قاری شبیر احمد صاحب بہبل ڈانگی(جو ہمارے وفد کا حصہ تھے)کو آواز دی، تلاوت نے ایک نورانی سما باندھی بعدۂ مداح خیر الانام محترم مرزا غالب صاحب (جو کوسیاری ہی کے رہنے والے ہیں)نے اپنے منفرد لب و لہجے میں نعت کے اشعار پڑھ کر اہل محفل کو اپنا گرویدہ بنا لیا بعدۂ حضرت مفتی مدنی صاحب کا مختصر خطاب کے دوران پیر طریقت سید شاہ قادری میاں مدظلہ العالی کی آمد آمد ہوئی حاضرین محفل نے حضرت تاج الاولیاء کا شایان شان استقبال کیا پھر شاعر اسلام عثمان غنی و مرزا غالب صاحبان نے صاحب عرس حضور شمس العلماء کی شان میں منقبت کے اشعار پیش کئے اور پھر حضرت کے ایما پر عمدۃ الخطباء کی مختصر خطابت ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ حضور شمس العلماء اپنے وقت جید عالم اور یکتائے روزگار تھے حدیث کی معتبر و مستند کتاب بخاری شریف کی شرح لکھ کر زندہ جاوید ہوگئے،
پھر اخیر میں سرپرست عرس سید قادری میاں دام ظلہ العالی کی پر مغز خطاب ہوئی جس میں حضرت نے فرمایا کہ جس طرح سورج کی تخلیق رب نے اس لئے کی ہے کہ وہ ہر جگہ چمکتے ہوئے گردش کرتا جائے اسی طرح حضور شمس العلماء کی ذات تھی جو پورے ہندوستان میں علم و فضل کی روشنی لٹائے اور شام میں جب آفتاب غروب ہوتا ہے تو اس کی روشنی حاصل کر چاند اور ستارے رات کو چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں ٹھیک اسی طرح حضرت کے وصال کے بعد بالواسطہ یا بلا واسطہ ان کے شاگرد دنیا بھر میں خدمت دین متین میں مصروف عمل ہیں گویا شمس العلماء کا علمی فیضان آج بھی جاری و ساری ہے،
دوران خطاب حضرت قادری میاں نے شہزادہ شمس العلماء سے ہر سال عرس کی تقریبات منعقد کرنے کو فرمایا ساتھ ہی انہوں نےکہا کہ آج تو حال یہ ہےکہ ہر گھانس پھونس کا عرس ہو رہا ہے جس کی مذمت کا روک تھام بہت ضروری ہے، اور جب حضور شمس العلماء کا ہر سال عرس ہوگاتو ان کا روحانی فیضان بھی عام ہوگا
پھر صلوٰۃ و سلام اور قل شریف کے اختتام میں شہزادہ حضور شمس العلماء نے حضرت سید قادری میاں سمیت سبھی مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور حضرت سے التجا کیا کہ حاضرین میں سے بہت سے لوگ داخل سلسلہ ہونے کی خواہشمند ہیں آپ مرید فرما لیں پھر حضرت نے سلسلہ اشرفیہ مخدومیہ کی بیعت فرمایا اور رقت انگیز دعاؤں محفل کا کامیابی کے ساتھ اختتام ہوا پھر ہم لوگ جلدی سے مسجد آئے اور حضرت مولانا رئیس الدین صاحب کی اقتداء میں نماز عصر ادا کئے اور اپنے شناساؤں سے مل کر سلام رخصت لئے،
ہمارے وفد میں چونکہ میرے استاد محترم مولانا اظہار الحق راہی صاحب جوکہ ہماری جامع مسجد بہبل ڈانگی کے خطیب و امام ہیں، تھے اور انہیں نماز مغرب کی امامت کرنی تھی اس لئے میں نے گاڑی ہانتے ہوئے صرف ۳۰ منٹوں میں ہی اللہ اللہ کر کے ہم گھر پہونچ گئے تو ہماری مسجد میں اس وقت اذان ہی ہو رہی تھی پھر ہم نے شکر خدا بجا لایا اور اپنی مسجد میں نماز مغرب بالجماعت پڑھی
فقط والسلام
راقم الحروف ۔۔۔ (مولانا) شاہ رخ التمش مصباحی، بہبل ڈانگی ، ٹھاکرگنج