15/06/2026
اورکزئی قبیلہ تاریخ کے کتابوں میں
کتاب کا نام:
A Collection of Treaties, Engagements and Sanads Relating to India and Neighbouring Countries
(ہندوستان اور پڑوسی ممالک سے متعلق معاہدوں، وعدوں اور اسناد کا مجموعہ)
مرتب کنندہ: سی یو ایچیسن (C. U. Aitchison)، جو بنگال سول سروس کے افسر اور فارن ڈیپارٹمنٹ میں حکومتِ ہند کے انڈر سیکرٹری تھے۔
اشاعت کا سال اور مقام: یہ کتاب 1909 میں کلکتہ سے سرکاری پریس (Superintendent Government Printing) کے ذریعے شائع کی گئی تھی۔
تاریخی اہمیت
تاریخی حلقوں میں اس پورے مجموعے کو عام طور پر "ایچیسن کے معاہدے" (Aitchison’s Treaties) کے نام سے جانا جاتا ہے۔
سرحدی تاریخ کا اہم ماخذ: یہ جلد ان علاقوں کی تاریخ کے لیے ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو برطانوی دور میں "گریٹ گیم" (The Great Game - روس اور برطانیہ کے درمیان وسطی ایشیا پر اثر و رسوخ کی جنگ) کا مرکز تھے۔
سرکاری اور قانونی حیثیت: اس کتاب میں شامل معاہدے (جیسے مختلف قبائل، ریاستوں اور افغانستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے اور ڈیورنڈ لائن وغیرہ کے تاریخی پس منظر) آج بھی خطے کی جغرافیائی اور سرحدی تاریخ کو سمجھنے کے لیے سب سے معتبر سرکاری ریکارڈ مانے جاتے ہیں۔
)یہ رہا کتاب کا مختصر تعارف ، باقی اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ آپ لوگوں کو ہو گیا ہوگا ، اس میں آج ہم شروع کرتے ہے اورکزی قبیلہ کے ذکر کے ساتھ ،۔ انشاء اللہ کل پھر اس کی دوسری قسط کسی اور قبیلے کی ہوگی ۔ اس میں لکھی گئی تحریر کتاب سے لی گئی ہے)
📜 تاریخ کے جھروکوں سے: اورکزئی قبیلے کی دلاوری، جغرافیہ اور قبائلی نظم کی مکمل داستان 🦅
جغرافیائی وقوع اور سرحدی حدود
تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اورکزئی قبیلہ ضلع کوہاٹ کے شمال اور مغرب میں واقع فلک بوس پہاڑوں میں آباد ہے۔ ان کی جغرافیائی حدود کچھ یوں ہیں:
شمال اور مشرق: آفریدی قبیلہ۔
جنوب: وادیِ میرانزئی۔
مغرب: زائمشت کا علاقہ اور سفید کوہ کا عظیم پہاڑی سلسلہ۔
میسٹر آفریدیوں کے زیرِ اثر دو وادیوں کو چھوڑ کر، "تیراہ" کے پورے وسیع و عریض علاقے پر اورکزئی قبیلے کا راج رہا ہے۔
قبائلی تقسیم اور جنگجو قوت (بیسویں صدی کے آغاز کا ریکارڈ)
تاریخی دستاویزات کے مطابق، اورکزئی قبیلہ چار بڑے اہم حصوں (سیکشنز) میں منقسم تھا، جن کی مجموعی جنگجو قوت تقریباً 25,000 مسلح افراد پر مشتمل تھی۔ ان کے ہتھیاروں میں مقامی ساختہ مارٹینی ہنری رائفلیں، سنائیڈرز اور اینفیلڈز شامل تھیں۔ یہ چار بڑے حصے اور ان کی ذیلی شاخیں درج ذیل ہیں:
1. دولت زئی (جنگجو قوت: 4,500 مرد)
دولت زئی آگے دو ذیلی قبیلوں میں تقسیم تھا:
دولت زئی (اول الذکر): بیزوٹی، عثمان خیل اور فیروز خیل قبیلے۔
محمد خیل (مؤخر الذکر): مانی خیل، بر محمد خیل، سپایہ (سپایا) اور عبد العزیز خیل قبیلے (جو کہ زیادہ تر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں)۔ سپاہ قبیلے کا گرمائی مسکن تیراہ کا مقام "عین پوش" تھا۔
2. اسماعیل زئی (اصل اورکزئی نسل)
یہ سیکشن سات قبیلوں پر مشتمل ہے۔ ان کے بڑے قبیلے اور تاریخی جنگجو قوت یہ تھی:
ربیعہ خیل: 800 جنگجو۔
اخیل: 700 جنگجو۔
ممازئی دارادر: 300 جنگجو۔
خدیزئی اور دیگر۔
3. لشکر زئی (بہترین مسلح قبیلہ)
یہ سیکشن دو حصوں میں منقسم تھا:
ممازئی یا محمود زئی: 3,000 جنگجو (انہیں اورکزئیوں میں سب سے بہتر مسلح قبیلہ مانا جاتا تھا جن کے پاس جدید لی میٹ فورڈ رائفلیں بھی تھیں)۔
علی شیرزئی ماسوزئی: 2,750 جنگجو۔
4. ہمسایہ (تعداد میں سب سے بڑا سیکشن: 9,300 جنگجو)
یہ قبیلے سیاسی اور جغرافیائی طور پر اسماعیل زئیوں کے ساتھ ملے جلے تھے۔ اگرچہ یہ ابتدا میں بطور وابستگان آئے، لیکن بعد میں اپنی طاقت اور تعداد میں اصل اسماعیل زئیوں سے بھی بڑھ گئے۔ ان کی تقسیم یوں تھی:
مشتی: 3,000 جنگجو۔
علی خیل: 2,750 جنگجو۔
شیخان: 2,750 جنگجو۔
ملا خیل: 800 جنگجو۔
(سیاسی طور پر یہ قبیلے دو بڑے دھڑوں یعنی ویسٹرن گڑ اور سمل میں بٹے ہوئے تھے۔)
⚔️ برطانوی راج کے خلاف مزاحمت اور معرکے
اورکزئیوں کی تاریخ انگریز سامراج کے خلاف سخت مزاحمت سے بھری پڑی ہے۔ برطانوی دستاویزات گواہ ہیں کہ اورکزئیوں نے کبھی برطانوی بالادستی کو آسانی سے قبول نہیں کیا:
1855 کے درہ کوہاٹ کے تنازعات: جب بنگش قبیلہ کوہاٹ پاس میں آفریدیوں کے خلاف پوزیشن برقرار نہ رکھ سکا، تو انہوں نے اورکزئی قبیلوں (بازوتی، فیروز خیل، سپاہ) کو مدد کے لیے پکارا اور اپنے الاؤنس کا حصہ ان کے نام کیا۔ 1855 میں ربیعہ خیل نے برطانوی گاؤں شاہو خیل پر تاریخی حملہ کیا، جس کے بعد برطانوی جنرل چیمبرلین کو ان کے خلاف مہم بھیجنی پڑی۔
ہنگو کے خان اور باز گل خان کی قربانی (1811): وادیِ خانکی میں ربیعہ خیل، مشتی اور شیخان کی برطانوی مخالف سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے کے جرم میں برطانوی حکومت نے ہنگو کے خان اور ان کے صاحبزادے باز گل خان کو گرفتار کر کے لاہور جلاوطن کر دیا، جہاں باز گل خان سینٹرل جیل میں قید رہے۔
1891 کی میرانزئی مہم اور ملک مخمدین کی شجاعت: جب انگریزوں نے سمانا رینج پر چوکیاں بنانی چاہیں، تو اورکزئیوں نے غیور قبائل کا اتحاد بنایا اور انگریز فوج پر زوردار حملہ کیا۔ اس جنگ میں قبیلے کے بڑے لیڈر ملک مخمدین نے انگریزوں کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے 20 دیہاتوں کو اڑا دیے جانے تک مزاحمت کی اور بعد میں گرفتاری دی۔
1897 کا عظیم الشان پشتون ہنگامہ (تیراہ مہم): یہ اورکزئی تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ تھا۔ اکا خیل ملا، سید اکبر کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے تمام اورکزئی قبیلے (سوائے محمد خیل کے) انگریزوں کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے محمد زئی، شنواری، لکا اورسیفالدرہ کی برطانوی چوکیوں پر قبضے کیے، کاہی اور نریاب کے تھانوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا اور مشہورِ زمانہ سارہ گڑھی (Sara Garhi) کی چوکی پر قبضہ کر لیا۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے انگریزوں کو "تیراہ مہم جوئی فورس" کے تحت تین بڑے فوجی بریگیڈز میدان اور مستورا وادی بھیجنے پڑے۔ ملا خیل کے غیور مردوں نے فرار ہونے کے بجائے اپنے گھروں اور چارے کے ڈھیروں کو خود آگ لگا دی تاکہ وہ انگریزوں کے ہاتھ نہ آئیں۔
زائمشت قبیلے کا تذکرہ
اسی تاریخ کا ایک حصہ زائمشت (Zaimusht) قبیلہ بھی ہے، جو اورکزئیوں کے جنوب میں، میرانزئی اور کرم کی وادیوں کے درمیان آباد رہا ہے۔ ان کے مشہور دیہات میں ہدمیلہ، ڈھولراغہ، تھانہ، دمکھی، مناتو، درانی، کچی، بھاگن اور چپرائی شامل ہیں، جبکہ ان کی ایک بڑی شاخ "خداداد خیل" کوہاٹ کے علاقے توراوری میں آباد ہے۔ ان لوگوں نے بھی افغان جنگ کے دوران انگریزوں کے خلاف لشکر زئی اورکزئیوں کا بھرپور ساتھ دیا تھے
゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ