History of orakzai Tribes

History of orakzai Tribes Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from History of orakzai Tribes, London.
(1)

20/06/2026

اورکزئی قبائل.....



゚viralシfypシ゚viralシalシ #ممتازقبائیلی #پختون

19/06/2026

مرحوم حاجی ملک پائندہ خان اورکزئی ماسوزئی حجرہ:
حسن اور مہمان نوازی کی ایک زندہ روایت

مرحوم حاجی ملک پائندہ کا تاریخی حجرہ، جو ضلع کرم میں "صدہ ڈوگر روڈ، گاؤں ترالی" میں واقع ہے، آج بھی ماضی کی شاندار روایات کا امین اور اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن، سرسبز اور آباد ہے۔ خوبصورت اور سحر انگیز وادیوں کے درمیان گھرا یہ حجرہ ایک ایسا دلکش نظارہ پیش کرتا ہے جو یہاں آنے والے ہر شخص کے دل کو خوشی اور سکون سے بھر دیتا ہے۔
خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں یہاں کی شادابی اور ہریالی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ چاروں طرف پھیلا سبزہ اور ٹھنڈی ہوائیں روح کو تازگی بخشتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ دور دور سے اس جنت نظیر جگہ کی سیر کرنے اور یہاں کچھ وقت گزارنے آتے ہیں، اور یہ حجرہ ہمیشہ کی طرح ہر خاص و عام کو کھلے دل اور روایتی مہمان نوازی کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہے۔












゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

مبارکبادہ:  اورکزئی  درہ منی خیلکمانڈنٹ اورکزئی اسکاؤٹس کی قومی جونیئر والی بال گولڈ میڈلسٹ کو ضلع اورکزئی کا نام روشن ...
19/06/2026

مبارکبادہ: اورکزئی درہ منی خیل
کمانڈنٹ اورکزئی اسکاؤٹس کی قومی جونیئر والی بال گولڈ میڈلسٹ کو ضلع اورکزئی کا نام روشن کرنے پر ملاقات کرکے اعزاز سے نوازا

کمانڈنٹ اورکزئی اسکاؤٹس نے سجاول علی، سکنہ درہ مانی خیل، ضلع اورکزئی سے ضلعی سپورٹس آفیسر اور ان کے والدین کی موجودگی میں ملاقات کی اور خیبرپختونخوا کی نمائندگی کرتے ہوئے نیشنل جونیئر والی بال چیمپئن شپ 2026 میں گولڈ میڈل حاصل کرنے پر انہیں مبارکباد دی کمانڈنٹ اورکزئی اسکاؤٹس نے سجاول علی کی مسلسل محنت، لگن اور شاندار کارکردگی کو سراہتے ہوئے مرجڈ ایریاز انڈر-16 گیمز 2025، خیبرپختونخوا انڈر-21 ریجنل گیمز 2025، مرجڈ ایریاز میجر گیمز 2026 اور نیشنل جونیئر والی بال چیمپئن شپ 2026 میں ان کی نمایاں کامیابیوں کو ضلع اورکزئی کے لیے باعثِ فخر قرار دیا
کمانڈنٹ اورکزئی اسکاؤٹس نے سجاول علی کے عزم، نظم و ضبط اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے انہیں نوجوانوں کے لیے ایک مثالی کھلاڑی قرار دیا۔ انہوں نے سجاول کے والدین کی بھرپور حوصلہ افزائی اور ضلعی سپورٹس آفیسر کی نوجوان ٹیلنٹ کی سرپرستی میں کردار کو بھی سراہا۔کمانڈنٹ اورکزئی اسکاؤٹس نے سجاول علی کو مستقبل میں بھی اسی جذبے سے کامیابیوں کا سفر جاری رکھنے کی تلقین کی اور لاہور میں ہونے والے پاکستان انڈر-19 والی بال ٹیم کے ٹرائلز کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے یقین ظاہر کیا کہ وہ آئندہ بھی ضلع اورکزئی اور پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ملاقات کے اختتام پر کمانڈنٹ اورکزئی اسکاؤٹس نے سجاول علی کی شاندار کامیابیوں کے اعتراف میں انہیں نقد انعام، یادگاری تحائف اور ایک والی بال پیش کی تاکہ ان کی مزید حوصلہ افزائی ہو۔










゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

اخونزادہ محمود رحمہ اللہ (وادیٔ تیراہ کے بے تاج بادشاہ)*آپ اخونزادہ ولی اللہ صاحب کے پانچویں اور سب سے چھوٹے صاحبزادے تھ...
17/06/2026

اخونزادہ محمود رحمہ اللہ (وادیٔ تیراہ کے بے تاج بادشاہ)*
آپ اخونزادہ ولی اللہ صاحب کے پانچویں اور سب سے چھوٹے صاحبزادے تھے، جو ملا چپری کے نام سے مشہور تھے۔ بچپن ہی سے آپ سخاوت، بہادری اور اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔ دینی تعلیم مکمل اور وافر حاصل کی تھی۔ سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ فطری طور پر اثر و رسوخ، روحانی کشش اور غیر معمولی شخصیت کے حامل تھے۔ آپ کی وفاداری، کششِ شخصیت اور کردار کا یہ عالم تھا کہ دوستوں کے ساتھ ساتھ مخالفین بھی آپ کی تعریف کرتے تھے۔

اپنے محترم والد کے انتقال کے بعد افریدی، اورکزئی زیمشت· اور چمکنی قبائل نے متفقہ طور پر آپ کو گدی نشین منتخب کیا۔ یہ قبائل اپنے تمام داخلی اور خارجی معاملات آپ ہی کے ذریعے حل کرتے تھے۔

سیاسی اور عملی خدمات

تیراہ میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد میں آپ کا کردار نہایت فعال تھا۔ 1919ء میں افغانستان کی تیسری جنگ کے دوران تیراہ کے قبائل کے ایک بڑے لشکر کو انگریز فوج کے مقابلے میں "تل" کے محاذ پر بھیجا گیا۔ تاہم اس لشکر کی روانگی سے پہلے افغان فوج کے جنرل محمد نادر خان اور انگریز جنرل ڈائر کے درمیان جنگ بندی ہو چکی تھی۔

(حوالہ: تاریخ افغانستان، میر غلام محمد غبار؛ آئینۂ بنگش و تیراہ، عبدالحلیم خان)

اخونزادہ محمود صاحب نے تیراہ کے علاقے (اورکزئی، خیبر اور کرم کے مرکزی علاقوں) میں متعدد اصلاحات نافذ کیں۔ غیر قانونی اور غیر شرعی رسوم و رواج کا خاتمہ کیا۔ ہندوؤں اور سکھوں کے لباس میں امتیاز مقرر کیا گیا تاکہ دور سے مسلمان اور غیر مسلم کی شناخت ممکن ہو سکے۔ اس مقصد کے لیے حکم جاری کیا گیا کہ ہندو اور سکھ سفید پگڑی کے بجائے سرخ رنگ کی پگڑی پہنیں۔

آپ نے تیراہ میں مخالف فریقوں کے درمیان صلح و صفائی اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے "قوم زونہ" اور "اسلام زونہ" کا نظام متعارف کروایا۔ جو شخص اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتا، اس کے خلاف پوری قوم کارروائی کرتی، اس کا گھر جلایا جاتا، جرمانہ عائد کیا جاتا اور اسے علاقے سے نکال دیا جاتا۔ ان اقدامات سے علاقے میں امن و امان کی فضا قائم ہوئی۔

مجرموں اور قاتلوں سے بھاری جرمانے اور دیت وصول کی جاتی تھی، جن کا ایک حصہ جرگے کے ارکان میں تقسیم کیا جاتا اور باقی مقتولین کے ورثاء کو دیا جاتا تھا۔ آپ مظلوم خاندانوں سے اظہارِ تعزیت کرتے اور ان کی مدد فرماتے۔ غریب اور بے سہارا لوگ آپ کی پناہ میں آکر رہتے اور آپ ان کی کفالت کرتے، جس کے باعث وہ ظالموں کے ظلم سے محفوظ رہتے تھے۔

روایت ہے کہ 14 اپریل 1923ء کو عجب خان آفریدی نے کوہاٹ چھاؤنی سے ایک انگریز افسر کی بیٹی *مس ایلس* کو اغوا کرکے تیراہ منتقل کیا۔ انگریزوں کے خوف سے کوئی شخص اسے پناہ دینے پر آمادہ نہ تھا، چنانچہ وہ اخونزادہ محمود صاحب کے پاس آیا اور پناہ طلب کی۔ آپ نے اسے عزت و احترام کے ساتھ رہائش اور خوراک فراہم کی۔

اس وقت کوہاٹ کے ڈپٹی کمشنر مسٹر بروس تھے۔ انہوں نے اخونزادہ محمود صاحب کو دھمکی دی کہ عجب خان کو پناہ نہ دی جائے اور مس ایلس کو فوراً انگریز حکومت کے حوالے کر دیا جائے۔ دباؤ بڑھانے کے لیے جنگی طیارے بھی علاقے پر پرواز کرتے رہے، لیکن اخونزادہ محمود صاحب نے کوئی پروا نہ کی اور واضح جواب دیا کہ پشتون روایت کے مطابق پناہ مانگنے والے کو دشمن کے حوالے کرنا ناممکن ہے۔

جب ڈپٹی کمشنر کو یہ جواب ملا تو اس نے نرم رویہ اختیار کیا۔ بعد ازاں کوہاٹ کے چند معززین، جن میں ہنگو کے محمد امین جان خان مغل باز خان اور کرم کے خان بہادر قلی خان شامل تھے، ایک جرگے کی صورت میں اخونزادہ محمود صاحب کے پاس بھیجے گئے۔ مذاکرات کے بعد اخونزادہ محمود صاحب نے مس ایلس کو عزت و احترام اور تحائف کے ساتھ جرگے کے حوالے کر دیا، جبکہ انگریز حکومت سے یہ تحریری یقین دہانی حاصل کی کہ عجب خان آفریدی اور اس کے بھائی کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

اس کے بعد عجب خان اپنے بھائی کے ہمراہ افغانستان چلا گیا، جہاں افغان بادشاہ نے اسے رہائش فراہم کی۔ جب مس ایلس کو ڈپٹی کمشنر بروس اور کمشنر کے حوالے کیا گیا تو اس نے مجمع کے سامنے اخونزادہ محمود صاحب کی میزبانی، حسنِ سلوک اور عزت افزائی کی تعریف کی۔

انگریزوں کے سرکاری ریکارڈ اور متعدد کتابوں میں اخونزادہ محمود صاحب کا ذکر تیراہ، بنگش اور وزیرستان کے ایک عظیم قبائلی رہنما کے طور پر کیا گیا ہے۔ ان کا ذکر سر ولیم بار کے شمال مغربی سرحدی علاقوں سے متعلق تحریروں میں بھی ملتا ہے، جبکہ برطانوی خفیہ ریکارڈ میں بھی ان کے بارے میں کافی مواد موجود ہے۔

# وفات

اخونزادہ محمود صاحب 21 ذوالحجہ 1354 ہجری کو بیمار ہوئے اور یکم اپریل 1939ء کو وفات پا گئے۔

ان کی قبر پر فارسی زبان میں درج اشعار یہ ہیں:

دارِ فنا سے کوچ کر گئے
جلیل القدر صاحبزادہ محمود

کریم الاخلاق، سرچشمۂ فضائل
فقیر الحدیث صاحبزادہ محمود

ایک سال قبل وفات پا گئے
عظیم المرتبت صاحبزادہ محمود

آپ کو اپنے والد محترم ملا چپری صاحب کے پہلو میں، سَمہ ماموزئی میں سپردِ خاک کیا گیا۔

اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمت نازل فرمائے۔ آمین۔

تشکر
محمد طفیل کوہاٹی

وٹس گروپ کے کمنٹس سیکشن کے کچھ اہم معلوماتی کمنٹس
(1)
مولانا صاحب
" اورکزئی وطن اور قبیلے ،کتاب
کے مطابق ملا ولی اللہ کی وفات 1887 میں ہوئی تو اس وقت محمود صاحب چھوٹے تھے تو ملا ولی اللہ صاحب کی ذمہ داری ملا سیداکبراکاخیل پر پڑی ۔اور صفحہ نمبر188 پر لکھا ہے ملا صمند خان( بیٹا) ملا ولی اللہ کے جانشین تھے .
یہ اس لیے میں کہا کہ آپ کتاب میں اگر تذکرہ لکھتے ہیں تو کسی کو اعتراض نہ ہو ۔
لیکن بدقسمتی سے ہمارے ایک دوست نے جاکر ان کے موجودہ سربراہ سے کہا کہ میں محمود اخونزادہ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں آپ میری مدد کریں تو اس نے ٹال مٹول کرکے مدد نہیں کی۔

(2)
یہ تحریر مولانا یونس قاسمی صاحب نے بھیجی ہے پشتو میں ۔۔۔ غالبا کسی صحافی کی لکھی ہوئی ہے

(3)
لیکن اس کے بارے میں بابو لالا کے معلومات اہم اور زیادہ ہیں ان کے مطابق ان کے اباؤ اجدادکا تعلق ھنگو روڈ پر کچہ پکہ کے قریب علی زئی گاؤں سے تھا شاید ان میں کسی نے سنی ہو کر چھپری ناریاب میں رہائش اختیار کی ہو کیونکہ چھپری میں بھی بنگش رہتے ہیں

(4)
جی بالکل ان کے بارے میں عبدالحلیم خان نے آئینہ تیراہ و بنگش میں بھی خوب لکھا ہے ،اس زمانے کے روزنامہ انقلاب میں بھی ان کے بارے میں بہت کچھ چھپا ہے جو میرے پاس محفوظ ہے


...........................................






゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

16/06/2026

محتصر تبصرہ /
لفٹیننٹ جنرال کور کمانڈر اور سابقہ خیبر پختونخوا گورنر علی محمـد جان اورکزئی صاحب کردار پر رپورٹ....














゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

اورکزئی قبیلہ تاریخ کے کتابوں میں کتاب کا نام: A Collection of Treaties, Engagements and Sanads Relating to India and Ne...
15/06/2026

اورکزئی قبیلہ تاریخ کے کتابوں میں

کتاب کا نام:
A Collection of Treaties, Engagements and Sanads Relating to India and Neighbouring Countries

(ہندوستان اور پڑوسی ممالک سے متعلق معاہدوں، وعدوں اور اسناد کا مجموعہ)
مرتب کنندہ: سی یو ایچیسن (C. U. Aitchison)، جو بنگال سول سروس کے افسر اور فارن ڈیپارٹمنٹ میں حکومتِ ہند کے انڈر سیکرٹری تھے۔
اشاعت کا سال اور مقام: یہ کتاب 1909 میں کلکتہ سے سرکاری پریس (Superintendent Government Printing) کے ذریعے شائع کی گئی تھی۔
تاریخی اہمیت
تاریخی حلقوں میں اس پورے مجموعے کو عام طور پر "ایچیسن کے معاہدے" (Aitchison’s Treaties) کے نام سے جانا جاتا ہے۔

سرحدی تاریخ کا اہم ماخذ: یہ جلد ان علاقوں کی تاریخ کے لیے ایک بنیادی دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے جو برطانوی دور میں "گریٹ گیم" (The Great Game - روس اور برطانیہ کے درمیان وسطی ایشیا پر اثر و رسوخ کی جنگ) کا مرکز تھے۔

سرکاری اور قانونی حیثیت: اس کتاب میں شامل معاہدے (جیسے مختلف قبائل، ریاستوں اور افغانستان کے ساتھ کیے گئے معاہدے اور ڈیورنڈ لائن وغیرہ کے تاریخی پس منظر) آج بھی خطے کی جغرافیائی اور سرحدی تاریخ کو سمجھنے کے لیے سب سے معتبر سرکاری ریکارڈ مانے جاتے ہیں۔

)یہ رہا کتاب کا مختصر تعارف ، باقی اس کتاب کی اہمیت کا اندازہ آپ لوگوں کو ہو گیا ہوگا ، اس میں آج ہم شروع کرتے ہے اورکزی قبیلہ کے ذکر کے ساتھ ،۔ انشاء اللہ کل پھر اس کی دوسری قسط کسی اور قبیلے کی ہوگی ۔ اس میں لکھی گئی تحریر کتاب سے لی گئی ہے)

📜 تاریخ کے جھروکوں سے: اورکزئی قبیلے کی دلاوری، جغرافیہ اور قبائلی نظم کی مکمل داستان 🦅
جغرافیائی وقوع اور سرحدی حدود
تاریخی ریکارڈ کے مطابق، اورکزئی قبیلہ ضلع کوہاٹ کے شمال اور مغرب میں واقع فلک بوس پہاڑوں میں آباد ہے۔ ان کی جغرافیائی حدود کچھ یوں ہیں:

شمال اور مشرق: آفریدی قبیلہ۔

جنوب: وادیِ میرانزئی۔

مغرب: زائمشت کا علاقہ اور سفید کوہ کا عظیم پہاڑی سلسلہ۔
میسٹر آفریدیوں کے زیرِ اثر دو وادیوں کو چھوڑ کر، "تیراہ" کے پورے وسیع و عریض علاقے پر اورکزئی قبیلے کا راج رہا ہے۔
قبائلی تقسیم اور جنگجو قوت (بیسویں صدی کے آغاز کا ریکارڈ)
تاریخی دستاویزات کے مطابق، اورکزئی قبیلہ چار بڑے اہم حصوں (سیکشنز) میں منقسم تھا، جن کی مجموعی جنگجو قوت تقریباً 25,000 مسلح افراد پر مشتمل تھی۔ ان کے ہتھیاروں میں مقامی ساختہ مارٹینی ہنری رائفلیں، سنائیڈرز اور اینفیلڈز شامل تھیں۔ یہ چار بڑے حصے اور ان کی ذیلی شاخیں درج ذیل ہیں:
1. دولت زئی (جنگجو قوت: 4,500 مرد)
دولت زئی آگے دو ذیلی قبیلوں میں تقسیم تھا:
دولت زئی (اول الذکر): بیزوٹی، عثمان خیل اور فیروز خیل قبیلے۔
محمد خیل (مؤخر الذکر): مانی خیل، بر محمد خیل، سپایہ (سپایا) اور عبد العزیز خیل قبیلے (جو کہ زیادہ تر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے ہیں)۔ سپاہ قبیلے کا گرمائی مسکن تیراہ کا مقام "عین پوش" تھا۔

2. اسماعیل زئی (اصل اورکزئی نسل)
یہ سیکشن سات قبیلوں پر مشتمل ہے۔ ان کے بڑے قبیلے اور تاریخی جنگجو قوت یہ تھی:
ربیعہ خیل: 800 جنگجو۔
اخیل: 700 جنگجو۔
ممازئی دارادر: 300 جنگجو۔
خدیزئی اور دیگر۔

3. لشکر زئی (بہترین مسلح قبیلہ)
یہ سیکشن دو حصوں میں منقسم تھا:
ممازئی یا محمود زئی: 3,000 جنگجو (انہیں اورکزئیوں میں سب سے بہتر مسلح قبیلہ مانا جاتا تھا جن کے پاس جدید لی میٹ فورڈ رائفلیں بھی تھیں)۔
علی شیرزئی ماسوزئی: 2,750 جنگجو۔

4. ہمسایہ (تعداد میں سب سے بڑا سیکشن: 9,300 جنگجو)
یہ قبیلے سیاسی اور جغرافیائی طور پر اسماعیل زئیوں کے ساتھ ملے جلے تھے۔ اگرچہ یہ ابتدا میں بطور وابستگان آئے، لیکن بعد میں اپنی طاقت اور تعداد میں اصل اسماعیل زئیوں سے بھی بڑھ گئے۔ ان کی تقسیم یوں تھی:
مشتی: 3,000 جنگجو۔
علی خیل: 2,750 جنگجو۔
شیخان: 2,750 جنگجو۔
ملا خیل: 800 جنگجو۔

(سیاسی طور پر یہ قبیلے دو بڑے دھڑوں یعنی ویسٹرن گڑ اور سمل میں بٹے ہوئے تھے۔)

⚔️ برطانوی راج کے خلاف مزاحمت اور معرکے
اورکزئیوں کی تاریخ انگریز سامراج کے خلاف سخت مزاحمت سے بھری پڑی ہے۔ برطانوی دستاویزات گواہ ہیں کہ اورکزئیوں نے کبھی برطانوی بالادستی کو آسانی سے قبول نہیں کیا:
1855 کے درہ کوہاٹ کے تنازعات: جب بنگش قبیلہ کوہاٹ پاس میں آفریدیوں کے خلاف پوزیشن برقرار نہ رکھ سکا، تو انہوں نے اورکزئی قبیلوں (بازوتی، فیروز خیل، سپاہ) کو مدد کے لیے پکارا اور اپنے الاؤنس کا حصہ ان کے نام کیا۔ 1855 میں ربیعہ خیل نے برطانوی گاؤں شاہو خیل پر تاریخی حملہ کیا، جس کے بعد برطانوی جنرل چیمبرلین کو ان کے خلاف مہم بھیجنی پڑی۔

ہنگو کے خان اور باز گل خان کی قربانی (1811): وادیِ خانکی میں ربیعہ خیل، مشتی اور شیخان کی برطانوی مخالف سرگرمیوں کی پشت پناہی کرنے کے جرم میں برطانوی حکومت نے ہنگو کے خان اور ان کے صاحبزادے باز گل خان کو گرفتار کر کے لاہور جلاوطن کر دیا، جہاں باز گل خان سینٹرل جیل میں قید رہے۔
1891 کی میرانزئی مہم اور ملک مخمدین کی شجاعت: جب انگریزوں نے سمانا رینج پر چوکیاں بنانی چاہیں، تو اورکزئیوں نے غیور قبائل کا اتحاد بنایا اور انگریز فوج پر زوردار حملہ کیا۔ اس جنگ میں قبیلے کے بڑے لیڈر ملک مخمدین نے انگریزوں کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے 20 دیہاتوں کو اڑا دیے جانے تک مزاحمت کی اور بعد میں گرفتاری دی۔

1897 کا عظیم الشان پشتون ہنگامہ (تیراہ مہم): یہ اورکزئی تاریخ کا سب سے بڑا معرکہ تھا۔ اکا خیل ملا، سید اکبر کی پکار پر لبیک کہتے ہوئے تمام اورکزئی قبیلے (سوائے محمد خیل کے) انگریزوں کے خلاف کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے محمد زئی، شنواری، لکا اورسیفالدرہ کی برطانوی چوکیوں پر قبضے کیے، کاہی اور نریاب کے تھانوں اور اسکولوں کو نشانہ بنایا اور مشہورِ زمانہ سارہ گڑھی (Sara Garhi) کی چوکی پر قبضہ کر لیا۔ اس بغاوت کو کچلنے کے لیے انگریزوں کو "تیراہ مہم جوئی فورس" کے تحت تین بڑے فوجی بریگیڈز میدان اور مستورا وادی بھیجنے پڑے۔ ملا خیل کے غیور مردوں نے فرار ہونے کے بجائے اپنے گھروں اور چارے کے ڈھیروں کو خود آگ لگا دی تاکہ وہ انگریزوں کے ہاتھ نہ آئیں۔
زائمشت قبیلے کا تذکرہ
اسی تاریخ کا ایک حصہ زائمشت (Zaimusht) قبیلہ بھی ہے، جو اورکزئیوں کے جنوب میں، میرانزئی اور کرم کی وادیوں کے درمیان آباد رہا ہے۔ ان کے مشہور دیہات میں ہدمیلہ، ڈھولراغہ، تھانہ، دمکھی، مناتو، درانی، کچی، بھاگن اور چپرائی شامل ہیں، جبکہ ان کی ایک بڑی شاخ "خداداد خیل" کوہاٹ کے علاقے توراوری میں آباد ہے۔ ان لوگوں نے بھی افغان جنگ کے دوران انگریزوں کے خلاف لشکر زئی اورکزئیوں کا بھرپور ساتھ دیا تھے










゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

ممتازہ قبائلی رہنماہ ملک میر اکبر خان مرحوم کرم ایجنسی: اورکزئی علی شیرزئی قوم کے اُن عظیم اور باوقار مشران میں شمار ہوت...
14/06/2026

ممتازہ قبائلی رہنماہ
ملک میر اکبر خان مرحوم
کرم ایجنسی: اورکزئی علی شیرزئی قوم کے اُن عظیم اور باوقار مشران میں شمار ہوتے تھے جن کی پوری زندگی بہادری، دانائی، رواداری اور خدمتِ خلق سے عبارت تھی۔ ان کا تعلق قوم علی شیرزئی، تپہ مصرخیل، گاؤں طورنارزون سے تھا۔ وہ نہ صرف ایک بااثر قبائلی رہنما تھے بلکہ اپنی شرافت، انصاف پسند طبیعت اور اعلیٰ کردار کی بدولت ہر دلعزیز شخصیت کی حیثیت رکھتے تھے۔

قبائلی جرگوں میں ان کی رائے کو عزت، وقار اور اعتماد کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ انہوں نے ہمیشہ امن، اتحاد، بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے فروغ کیلئے نمایاں کردار ادا کیا۔ قوم کے مسائل کے حل، نوجوانوں کی رہنمائی اور علاقے کے بہتر مستقبل کیلئے ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔

ملک میر اکبر خان مرحوم 10/4/2018 کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوئے، مگر ان کی یادیں، فیصلے، خدمات اور اچھا اخلاق آج بھی لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی شخصیت نوجوان نسل کیلئے ایک روشن مثال ہے کہ اصل عزت انسان کے کردار، اخلاص اور عوامی خدمت میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ ملک میر اکبر خان مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل نصیب فرمائے۔ آمین۔











゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

08/06/2026

شکریہ رور جانہ تاسو جزبہ تاسو مینہ 🌹
History of orakzai Tribes











゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

06/06/2026

اورکزئی ایجنسی / پخوانی کلی والا کرونہ










゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

الحاج ملک پائندہ خان ایک عظیم اور ممتاز رہنما گزرے ہیں۔ ان کا تعلق کرم ایجنسی اورکزئی/مسوزئی کے مستو خیل (عنایت قبیلے سے...
06/06/2026

الحاج ملک پائندہ خان ایک عظیم اور ممتاز رہنما گزرے ہیں۔ ان کا تعلق کرم ایجنسی
اورکزئی/مسوزئی کے مستو خیل (عنایت قبیلے سے تھا۔

الحاج ملک پائندہ خان مرحوم جیسے رہنما صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں، جنہوں نے اپنے آپ کو ایک قبیلے تک محدود نہیں رکھا تھا بلکہ کرم ایجنسی میں تمام سنی قوم کی رہنمائی کرتے رہے۔ وہ کرم میں رہنے والی تمام اقوام جیسے کہ منگل، زدران، بنگش، پاڑا چمکنی، علیشیر زئی، اوتیزئی، آفریدی اور دیگر تمام چھوٹی بڑی اقوام کے ہر دلعزیز (من پسند) رہنما گزرے ہیں۔

‎ان جیسے لیڈر ہمیشہ بہت کم ہی پیدا ہوئے ہیں۔ وہ ایک نڈر، قوی ارادوں والے انسان اور ایک عظیم رہنما گزرے ہیں۔ انہوں نے کبھی امیر اور غریب میں فرق نہیں رکھا، ہمیشہ مظلوم کی مدد کی اور ظالم کے سامنے ایک مضبوط دیوار بن کر کھڑے رہے۔
‎وہ کرم ایجنسی میں صرف ایک قبیلے کے رہنما نہیں بلکہ پوری سنی قوم کے لیڈر تھے۔ انہوں نے ہمیشہ سنی قوم کے اتفاق کی بات کی اور ہمیشہ سنی قوم کے اتحاد کے ایک مضبوط ستون کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہے۔ ان کی زندگی میں کبھی بھی سنی قوم پر برے حالات نہیں آئے اور کسی دوسری قوم کی جرات نہیں ہوئی کہ وہ سنی قوم کی طرف میلی آنکھ سے دیکھ سکے۔
‎کہتے ہیں کہ ہر دور کا خاتمہ ہوتا ہے، اسی طرح ملک صاحب کے دور کا بھی خاتمہ ہوا اور ستمبر 1987ء میں اپنوں میں موجود غداروں اور دشمن قوم کی ملی بھگت سے ڈوگر روڈ پر ان کے 4 باڈی گارڈز کے ساتھ ان کی اپنی ہی گاڑی میں انہیں شہید کر دیا گیا۔

‎ملک صاحب کے 12 بیٹے ہیں جو تڑالی گاؤں میں رہتے ہیں۔ ملک صاحب کا حجرہ ایک انتہائی خوبصورت جگہ پر واقع ہے اور ایک خوبصورت سیاحتی مقام ہے جہاں دور دور سے لوگ سیر کرنے آتے ہیں۔
اللہ انکو جنت الفردوس نصیب فرماے







゚viralシfypシ゚viralシalシ
#ممتازقبائیلی ゚viralシfypシ゚viralシalシ

Address

London

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when History of orakzai Tribes posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share