Miftah Hamdard

Miftah Hamdard knowledge and History

12/01/2020

نیا اک رشتہ پیدا کیوں کریں ہم
بچھڑنا ہے تو جھگڑا کیوں کریں ہم
خموشی سے ادا ہو رسمِ دوری
کوئی ہنگامہ برپا کیوں کریں ہم
یہ کافی ہے کہ ہم دشمن نہیں ہیں
وفاداری کا دعویٰ کیوں کریں ہم
وفا، اخلاص، قربانی، محبت
اب ان لفظوں کا پیچھا کیوں کریں ہم
سنا دیں عصمتِ مریم کا قصّہ؟
پر اب اس باب کو وا کیوں کریں ہم
زلیخائے عزیزاں بات یہ ہے
بھلا گھاٹے کا سودا کیوں کری ہم
ہماری ہی تمنّا کیوں کرو تم
تمہاری ہی تمنا کیوں کریں ہم
کیا تھا عہد جب لمحوں میں ہم نے
تو ساری عمر ایفا کیوں کریں ہم
اُٹھا کر کیوں نہ پھینکیں ساری چیزیں
فقط کمروں میں ٹہلا کیوں کریں ہم
جو اک نسل فرومایہ کو پہنچے
وہ سرمایہ اکٹھا کیوں کریں ہم
نہیں دُنیا کو جب پروا ہماری
تو پھر دُنیا کی پروا کیوں کریں ہم
برہنہ ہیں سرِبازار تو کیا
بھلا اندھوں سے پردہ کیوں کریں ہم
ہیں باشندے اسی بستی کے ہم بھی
سو خود پر بھی بھروسا کیوں کریں ہم
چبا لیں کیوں نہ خود ہی اپنا ڈھانچہ
تمہیں راتب مہیا کیوں کریں ہم
پڑی رہنے دو انسانوں کی لاشیں
زمیں کا بوجھ ہلکا کیوں کریں ہم
یہ بستی ہے مسلمانوں کی بستی
یہاں کارِ مسیحا کیوں کریں ہم

      Law is the command of sovereign backed by sanction.
11/28/2020


Law is the command of sovereign backed by sanction.

11/28/2020


10/30/2020

د صدو نه
د مودو نه
د کلونو
د پېړو نه
څو کسانو
ظالمانو
سردارانو
د انسان عظمت لوټلو
د انسان غېرت لوټلو
هر څوک سوے لولپه ؤ
خو چا هيڅ وئيلے نۀ شو
خو چا هيڅ کولے نۀ شو
د چا ډله، نۀ پره وه
نۀ رهبر، نۀ قافله وه
نۀ همت، نۀ حوصله وه
نۀ اميد ؤ، نۀ اسره وه
بې وسی وه، مجبوري وه
د بتانو بندګي وه
دردېدۀ وو، تزنېدۀ وو
لوګېدۀ وو، سوزېدۀ وو
اخر جام د صبر ډک شو
يو سحر ناڅاپه غږ شو
يو بنده د خداے پېدا شو
پېغمبر شو، رهنما شو
بې اسرې، بې وسيلې ؤ
خو سړے د کار سړے ؤ
د خپل خداے لۀ شان خبر ؤ
لوے نبي لوے پېغمبر ؤ
د توحيد اعلان ئې وکړو
د تجديد اعلان ئې وکړو
پۀ بتانو ئې تور ووې
پۀ غټانو ئې تور ووې
د مظلوم هېبت ئې ورک کړو
د ظالم غرور ئې سپک کړو
سرداران ئې کور و کر کړو
ټول بتان ئې کنډ کپر کړو
د تفريق زهر ئې خام کړو
د توحيد شراب ئې عام کړو

ډاکټر صاحب شاه صابر

Advocate Sobiya Qazi has been killed by her husband, In Hyderabad Sindh, She was preparing for civil Judge...May Allah r...
09/14/2020

Advocate Sobiya Qazi has been killed by her husband, In Hyderabad Sindh, She was preparing for civil Judge...
May Allah rest her soul in peace...
?

08/10/2020

کیا آپ کو کمنٹ کرنے کا درست طریقہ معلوم ہے
پہلے نہیں سیکھا تو اب سیکھ لیں!!!

آپ کسی تحریر، کسی بات، یا کسی کی پوسٹ کے متن سے متفق نہیں تو یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن ضروری نہیں اس شخص کا منہ توڑ دیا جائے.سخت ترین الفاظ میں طنزیہ یا تضحیک آمیز تبصرہ ہی کیا جائے۔ کوشش کریں اکیڈیمک انداز میں اختلاف کا اظہار کر دیں۔ اکیڈیمک انداز کیا ہے؟

یعنی علمی انداز۔ اس میں دو چیزیں ہیں:
اوّل: یک لفظی یا دو لفظی سویپنگ ریمارک دینے کی بجائے جس نکتہ سے اختلاف ہے، اس کے مخالف کوئی دلیل یا مثال پیش کی جائے۔
دوئم: تمیزداری، تہذیب، شائستگی۔ نہ کہ اُڑا کر رکھ دینے والا انداز۔

نادرست طریقہ:
غیر متفق۔
بالکل بوگس۔
آپ نے ہمارا وقت برباد کیا۔
کسی اچھے نفسیاتی معالج سے علاج کروائیں۔۔۔
شخص پر ذاتی حملہ
یا اس کے مکتبہ فکر پر حملہ۔
مکتبہ فکر کے لیڈر پر حملہ۔
یا تحریر کے معیار کا تمسخر اڑانا۔۔۔۔ وغیرہ۔

درست طریقہ:
1- میری رائے میں فلاں نکتہ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ۔۔۔
2- آپ نے اچھا لکھا۔ تاہم، آپ اس موضوع پر مزید ریسرچ کریں تو آپ جان لیں گے کہ یہ موضوع کچھ تشنہ رہ گیا۔ مثلاً ۔۔۔
3- خوب۔ مگر اس ساری صورت حال کو یوں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔۔۔
4- پہلے دو پیراگرافز کے متن سے متفق ہوں۔
5- میں اس ساری صورتحال کو ذرا مختلف دیکھتا ہوں۔۔۔
6- بہت خوب۔ اگر میں اس میں تھوڑا اضافہ کرنے کی جسارت کروں تو یہ کہوں گا کہ۔۔۔

ایسا کرنے سے آپ دیکھیں گے کہ آپ کی بات کمیونیکیٹ بھی ہوگئی، اختلاف کا اظہار بھی ہو گیا، اور اچھا تعلق بھی استوار رہا۔ آپ کی تمیزداری کچھ عرصہ بعد اس تعلق کو دوستی میں بدل دیا کرتی ہے۔

رہی بات مزاحیہ تبصروں کی، تو بے تکلف دوستوں میں وہ خوب چلا کرتے ہیں, اور دونوں اطراف میں برداشت بھی کیے جاتے ہیں۔ تاہم، اس میں بھی ایک بات نوٹ کر لیں۔

واصف علی واصف مرحوم کا جملہ ہے

"بے باکی تعلق بڑھا دیتی ہے۔ جبکہ گستاخی تعلق توڑ دیتی ہے۔"
یعنی اپنے لیے ایک لائن آف کنٹرول ضرور رکھیں تاکہ
پچھتاوے نہ ہوں۔

Writer: Miftah Hamdardاگر کسی کو وکیل بننا ہے تو وہ مرزا امجد بیگ ( ایڈوکیٹ ) سے ملاقات کرلے اور ان سے سیکھے کہ وکالت کس...
07/11/2020

Writer: Miftah Hamdard
اگر کسی کو وکیل بننا ہے تو وہ مرزا امجد بیگ ( ایڈوکیٹ ) سے ملاقات کرلے اور ان سے سیکھے کہ وکالت کس طرح کیجاتی ہے ۔
مرزا امجد بیگ ( ایڈوکیٹ ) کراچی میں رہائش پزیر ہیں۔
اب آپ لوگ کہینگے کہ مرزا امجد بیگ سے ملاقات کیلئے میں کراچی جاؤنگا ؟ تو میں نے کب کہا ہے کہ کراچی جاؤ ، میں تو آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جاؤ اور مرزا امجد بیگ ( ایڈوکیٹ) کی کتابیں خریدو جس میں اس نے جو کیسس لڑے ہیں وہ سب ان کی کتابوں میں درج ہے ۔
میں آپ لوگوں کو مرزا امجد بیگ کی کتاب " جزائے سزا" Recommend کرنا چاہوگا جس میں صرف پانچ مقدمے درج ہیں
1) پس منظر
2) دائمی نجات
3) جزائے سزا
4)میٹھا زھر
5) مرچ مسالا
میں نے اس کتاب کو بہت ہی Enjoy کیا ہے اور آپ لوگوں سے گزارش ہے کہ اس کتاب کو پڑھیں اور خاص کر وہ لوگ جو وکیل بننا چاہتے ہوں تو اس کیلئے " جزائے سزا" اور مرزا امجد بیگ کی اور کتابیں دیکھنا بہت ضروری ہے ۔
انگریزی میں ایک محاورہ ہے کہ Readers are Leaders یعنی پڑھنے والا انسان کل ایک لیڈر ہوتا ہے
اسلئے سب اس کتاب کو پڑھیں اور اس سے استفادہ کریں

06/28/2020

وہی خدا ہے ۔۔۔
A heart ❤️ touching hamd sings by Obaid Csm

06/25/2020

پولیس گردی کے خلاف آواز اٹھانا فرض ہے۔ جس جرم کا بھی الزام ہو، ملزم جیسا بھی ہو، عدالت کے سوا کسی کے پاس سزا کا اختیار نہیں ہے۔

06/21/2020

Video on
Child abuse
Protect your children !
Next episode of this video will be coming soon.

سکول اب طویل عرصے تک شاید بند رہیں۔۔ ویسے بھی اسکولوں میں نہ تعلیم ہے نہ تربیت نہ ہنر۔۔سکولوں، کالجوں سے پڑھ کر نکلنے وا...
06/11/2020

سکول اب طویل عرصے تک شاید بند رہیں۔۔ ویسے بھی اسکولوں میں نہ تعلیم ہے نہ تربیت نہ ہنر۔۔
سکولوں، کالجوں سے پڑھ کر نکلنے والے بچے دنیا میں کچھ بھی نہیں کر سکتے۔۔
نہ زبانیں جانتے ہیں، نہ دین کی تعلیم، نہ ہاتھ کا ہنر، نہ بزرگوں کا ادب اور نہ ہی مشکل حالات میں زندہ رہنے کا سلیقہ۔
اب بچوں نے طویل عرصے تک ماں باپ کی نگرانی میں گھروں میں ہی رہنا ہے۔۔
اپنے بچوں کو آنے والے دور کے لیے تیار کریں۔۔
جسمانی طور پر بھی ذہنی طور پر بھی اور روحانی طور پر بھی۔۔
ان کو اردو انگریزی اور عربی لازمی طور پر سکھائیں۔
اسلامی تاریخ تاریخ اور تہذیب کے بارے میں مکمل آگاہ کریں۔۔
اپنے بچوں کو لازماً ہنر سکھائیں۔۔
کوئی نہ کوئی ہاتھ کا کام جو ان کو مصروف بھی رکھے اور جس سے آنے والے وقت میں یہ کارامد ہو سکیں۔
سلطان عبدالحمید کارپینٹر تھے، لکڑی سے بنایا ہوا ان کا فرنیچر آج بھی محفوظ ہے۔
سلطان سلیمان زیورات بناتے تھے۔۔
اورنگزیب بادشاہ قرآن لکھتا تھا۔۔
اپنے بچوں کی کی جسمانی اور ذہنی طور پر لازم ایسی تربیت کریں کہ مشکل اور نامساعد حالات میں وہ برداشت کرنے کے قابل ہوں۔
جس طرح بواۓ سکاوٹ یا کیڈٹ کی تربیت ہوتی ہے، جنگل میں خیمہ لگانا، آگ جلانا، کھانے پکانا، شکار کرنا اور ہتھیار چلانا۔
آج کل ہمارے بچے بہت آرام طلب اور نازک ہیں۔ماضی میں ہمارا تمام تر تعلیمی نظام بچوں کو دین اور ادب کے ساتھ ہنر بھی سکھاتا تھا۔۔
تمام مسلمان اپنے ہاتھ میں مخصوص ہنر رکھتے تھے اور ہاتھ سے کام کرتے تھے۔۔
کوئی لوہے کا کام جانتا تو کوئی لکڑی کا، کوئی کپڑا بناتا تو کوئی چمڑے کا ۔
کوئی مرغبانی کرتا تو کوئی گلہ بانی یا کاشتکاری۔۔
آگے آنے والا دور مشکلات اور جنگوں کا دور ہے۔
اپنے بچوں کو اس کے لئے تیار کریں۔
اب ڈگریاں ہاتھ میں لے کر کالج سے نکل کر نوکریاں تلاش کرنے کا دور ختم ہوگیا۔۔
بہت سے لوگ ابھی بھی یہ سمجھ رہے ہیں کہ دنیا دوبارہ پرانی ڈگر پر واپس چلی جائے گی۔۔
آپ ہوش میں آ جائیں دنیا بدل گئی ہے۔۔
اب دنیا دوبارہ اس ڈگر پہ کبھی نہیں لوٹے گی۔۔۔اب ہم دجالی دنیا میں قدم رکھ چکے ہیں۔۔۔
ایک کرونا نے ہی کیسا گما دیا ہے۔۔آگے کے فتنے اس سے بھی مزید سخت ہونگے۔۔اور یہ کوئی فرضی بات نہیں ۔۔۔ایک تو آنکھوں کے سمانے ہیں اور دوسرا ان سب حالات کی خبر افضل الرسل سرکار دو عالم میرے پیارے نبی محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دی ہوئی۔۔۔کہ یہ سب ہو کے رہے گا۔۔اب بچے گا وہی جو چوکنا ہو گا۔۔۔دانشمندی اور ایمان و عمل کو اختیار کرے گا۔۔
اس لیے ایمانی،،جسمانی ،،روحانی ،،اعصابی مضبوطی بہت ضروری ہے۔۔اگر زندہ رہنا ہے اور بچنا ہے ان تمام فتنوں سے تو اب ذرا جاگ جائیں۔۔۔!!


Miftah Hamdard

Address

New York, NY

Telephone

+13473349281

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Miftah Hamdard posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Museum

Send a message to Miftah Hamdard:

Share

Category