10/06/2026
میاں گل دیار مرحوم (1915- 2000) ولد میاں سید محمود کانجو (سوات) میں آخوند خیل خاندان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی۔ وہ دینی تعلیم کے حصول کے لیے 1939ء میں بمبئی (ہندوستان) تشریف لے گئے. 1945ء میں آپ اپنے آبائی گاؤں کانجو واپس آئے۔ اسی سال آپ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئے اور جماعت اسلامی کی باقاعدہ رکنیت بھی اختیار کر لی۔ اگلے سال، یعنی 1946ء میں، والیٔ سوات نے آپ کی صلاحیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ریاستِ سوات میں بونیر کے مقام پر بطور "مرزا" مقرر کیا۔ ریاستی ملازمت کے ساتھ ساتھ آپ جماعت اسلامی کا کام بھی جاری رکھتے رہے، تاہم والیٔ سوات مولانا مودودیؒ اور ان کی تحریک کو شک کی نگاہ سے دیکھتے تھے اور جماعت کی سرگرمیوں سے بھی محتاط رہتے تھے۔ حالات کی نزاکت کا اندازہ ہونے پر میاں گل دیار نے جماعتی سرگرمیاں خفیہ انداز میں جاری رکھیں اور خط و کتابت میں اپنے اصل نام کے بجائے "ابو الحسین" کا قلمی نام استعمال کرنا شروع کر دیا۔ 1968ء کے آخر میں انہوں نے ملازمت سے استعفا دے دیا۔ اس وقت والیٔ سوات کو ان کی جماعت اسلامی سے وابستگی کا مکمل علم ہو چکا تھا۔
آپ کے چھوٹے بھائی، میاں گل سعید ایڈووکیٹ، عوامی نیشنل پارٹی سے وابستہ رہے۔ سن 2000ء میں میاں گل دیار اس دارِ فانی سے رخصت ہو گئے۔
آپ کے چھ بیٹے اور ایک بیٹی ہیں۔
آپ کے بڑے صاحبزادے حسین احمد کانجو مرحوم تھے، جو تین مرتبہ آل ٹیچرز ایسوسی ایشن سوات، بونیر اور شانگلہ کے منتخب صدر رہے اور ایک مرتبہ صوبائی جنرل سیکرٹری بھی منتخب ہوئے۔ وہ حرا نیشنل ایجوکیشنل فاؤنڈیشن پاکستان کے بانی اراکین میں شامل تھے اور حرا فاؤنڈیشن کا مرکزی آئین مرتب کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ سوات میں پہلے حرا اسکول کے بانی بھی تھے۔ بعد ازاں حرا فاؤنڈیشن کے ریجنل ڈائریکٹر (سوات، بونیر، شانگلہ) اور پھر صوبائی ڈائریکٹر کے فرائض انجام دیے۔ 2002ء کے عام انتخابات میں وہ جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور صوبائی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی مقرر ہوئے۔ حکومت کے آخری سال میں مزید سات وزارتوں کا اضافی قلمدان بھی ان کے سپرد کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام شخصیات کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔