14/05/2026
دیہات کی کھوتا ریڑی اور شہر کی مرسیڈیز گاڑی
دیہات سے جب بندہ شہر آتا ہے تو شہر کی اپنی ہی رونق ہوتی ہے۔ اس وقت میں لاہور میں ہوں۔ کافی دوست احباب ملنے آتے ہیں، گپ شپ ہوتی ہے، ہنسی مذاق چلتا رہتا ہے پھر سب اپنے اپنے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں لیکن ان کے ساتھ گزارا ہوا وقت اور پرانی یادیں ہمیشہ یاد رہتی ہیں۔
انہی دوستوں میں سے ایک دوست مہر اللہ رکھا میاں چنوں خانیوال سے ہیں۔ شروع شروع میں انہیں وی لاگ اور ویڈیوز بنانے کا بہت شوق تھا۔ میری ساتھ والی کوٹھی میں یہ ڈیوٹی کرتے تھے اس لیے آنا جانا لگا رہتا تھا۔ اس دوران اچھی دوستی رہی، ویڈیوز بھی بنتی رہیں اور ہنسی مذاق کا سلسلہ بھی چلتا رہا۔
اس کے بعد یہ یہاں سے ڈیوٹی چھوڑ کر چلے گئے، پھر کہیں اور ڈیوٹی کرتے رہے، کچھ وقت بعد گھر بھی چلے گئے۔
کافی سالوں بعد جب دوبارہ لاہور آئے تو انہوں نے مجھے کال کی کہ آپ کہاں ہو، میں نے کہا میں وہیں کوٹھی پر ہوں جہاں پہلے تھا۔ یہ سیدھا میرے پاس پہنچ گئے، میں نے انہیں چائے پلائی، کچھ دیر گپ شپ ہوئی اور پرانی یادیں تازہ ہو گئیں۔
چائے کے بعد میں نے انہیں اپنے جاننے والوں کے پاس ڈیفنس بھیج دیا، جہاں وہ ڈیوٹی کر رہے تھے۔
کچھ عرصہ بعد جب وہ ڈیفنس سے کلمہ چوک والی سائیڈ پر آئے تو دوبارہ ان کی کال آ گئی کہ باہر آ جاؤ، میں پہنچ رہا ہوں۔ میں باہر نکلا تو گاڑی گیٹ کے سامنے آ کر رکی، مجھے ساتھ بٹھایا اور دوسری گلی میں لے گئے۔ وہاں جا کر گاڑی سائیڈ پر کھڑی کی۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ انہیں ویڈیو بنانے کا شوق تھا، انہوں نے کہا کہ میں آپ کے ساتھ ایک اور وی لاگ بناتا ہوں۔ پھر انہوں نے مجھے کہا کہ آپ نے گاڑی چلانی ہے۔ میں ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔ جب میں نے گاڑی چلانی شروع کی تو جو ہماری گفتگو ہوئی وہ آپ اس ویڈیو میں سرائیکی زبان میں سن سکتے ہیں۔
ویڈیو دیکھنے کے بعد کمنٹ ضرور کرنا کہ کیا مجھے مسلسل گاڑی سیکھنی چاہیے یا پھر اسی طرح دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق اور خوشگوار لمحے بانٹتے رہنا چاہیے۔ آپ کی قیمتی رائے کا انتظار رہے گا۔ جزاک اللہ