islami waqiat in Urdu

islami waqiat in Urdu Sadiyon Ka Safar shares the stories of Islamic history,true waqiat, and important news from the Muslim world. Join us

We revive the past to inspire the present — connecting you with the timeless legacy of Islam.

20/03/2026
😂😂😂
20/03/2026

😂😂😂

یہ ایران کا وہ ائیرڈفینس ہے جس نے امریکا کے جدید ففتھ جنریشن طیارے ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے۔اسکا نام AD-08 ہے جسے ماجد ب...
20/03/2026

یہ ایران کا وہ ائیرڈفینس ہے جس نے امریکا کے جدید ففتھ جنریشن طیارے ایف 35 کو نشانہ بنایا ہے۔
اسکا نام AD-08 ہے جسے ماجد بھی کہتے ہیں۔

یہ سسٹم ایک گاڑی پر نصب ہوتا ہے، اسکے چار میزائل لانچر ،ایک ٹارگیٹنگ سائٹ اور کچھ معاون آلات مل کر ایک سسٹم تشکیل دیتے ہیں۔
یہ ایک شارٹ رینج سسٹم ہے جس کے میزائل کی رینج زیادہ سے زیادہ 8 کلومیٹر تک ہوتی ہے, میزائل ٹارگٹ سے نکلنے والی انفراریڈ شعاعوں کا پیچھا کرتے ہوۓ اسے نشانہ بناتا ہے۔
چونکہ اس سسٹم میں کوئ ریڈار استعمال نہیں ہوتا اس لیے اسے جیم نہیں کیا جا سکتا نا ہی اسکی نشان دہی کرنا آسان ہوتا ہے۔
عموما" یہ ائیر ڈفینس سسٹم ڈرون اور کروز میزائلوں کے خلاف زیادہ مؤثر سمجھا جاتا ہے، مگر یہ کم بلندی پر محو پرواز لڑاکا طیارے بھی گرا سکتا ہے۔

ایف 35 اس ائیرڈفینس کا نشانہ بننے کے بعد کیوں نہیں گرا ؟
چونکہ اسکا میزائل چھوٹا ہوتا ہے اور اس میں بارودی وارہیڈ بھی چھوٹا ہوتا ہے اس لیے ایف 35 طیارے کو پہنچنے والا ڈیمج اتنا زیادہ نہیں تھا، مگر ہٹ ہونے والا ایف 35 آؤٹ آف سروس لازمی ہو گیا ہو گا۔

قطر: 19 ارب ڈالر کا ائیر ڈیفنس سسٹم ایک بٹن سے ناکارہمغربی ممالک سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدنا کسی قوم کے دفاع کی مضبوط...
10/09/2025

قطر: 19 ارب ڈالر کا ائیر ڈیفنس سسٹم ایک بٹن سے ناکارہ

مغربی ممالک سے اربوں ڈالر کے ہتھیار خریدنا کسی قوم کے دفاع کی مضبوطی کی ضمانت نہیں، بلکہ اکثر محض پیسے کا ضیاع ثابت ہوتا ہے۔ قطری حکومت نے اپنے فضائی دفاع کے لیے دنیا کے جدید ترین چار سسٹم خریدے: امریکی پیٹریاٹ PAC-3، ناروے کا NASAMS-2، برطانیہ کا Rapier اور فرانس-جرمنی کا Roland۔ ان کی خریداری، دیکھ بھال اور عملے کی تربیت پر کُل لاگت 19 ارب ڈالر سے زیادہ آئی۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ تمام سسٹمز اس وقت بے کار نکلے جب ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ کہا جاتا ہے کہ محض ایک بٹن دبانے سے یہ سب سسٹمز غیر فعال ہوگئے۔

یہ صورتحال ایک تلخ حقیقت کی غمازی کرتی ہے: مغرب ہمارے لیے جو ہتھیار بناتا اور بیچتا ہے، وہ اصل میں ہمارے دفاع کے لیے نہیں بلکہ ہماری کمزوری بڑھانے اور ہمیں ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ یہ ہتھیار تب کام کرتے ہیں جب وہ مسلمانوں پر آزمائے جائیں، لیکن جب دشمن اسرائیل یا امریکہ کے مقابل کھڑے ہوں تو اچانک ان کا پورا نظام مفلوج ہوجاتا ہے۔

مزید افسوسناک امر یہ ہے کہ دوحہ پر حالیہ حملے کی اجازت خود امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دی۔ وہی ٹرمپ جس نے چند ماہ قبل ہی قطری حکمرانوں سے 1.2 ٹریلین ڈالر وصول کیے تھے اور بظاہر دوستی کے وعدے کیے تھے۔ لیکن جب عملی وقت آیا تو نہ اربوں ڈالر کا دیا گیا اسلحہ قطر کے کام آیا، نہ اربوں کا سرمایہ امریکی حمایت خرید سکا۔

ایک تجزیہ کار نے بالکل درست لکھا ہے:
اگر قطر جیسی دولت مند ریاست، جو امریکہ کو مہنگے ترین تحائف اور کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری دے چکی ہے، پھر بھی اس کا اعتماد حاصل نہیں کرسکی تو اس کی وجہ محض مفاد نہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کسی وقتی مصلحت یا لین دین پر قائم نہیں، بلکہ ایک گہرے عقیدے اور نظریے کے رشتے پر استوار ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم مسلمان ابھی تک یہ بنیادی حقیقت سمجھنے میں ناکام ہیں۔

روس نے کہا ہے کہ ایران کے نیو کلئیر پلانٹ کو تباہ کیا گیا تو چرنوبل جیسی صورتحال ہوسکتی ہے۔ چرنوبل یوکرین کا ایک علاقہ ہ...
22/06/2025

روس نے کہا ہے کہ ایران کے نیو کلئیر پلانٹ کو تباہ کیا گیا تو چرنوبل جیسی صورتحال ہوسکتی ہے۔ چرنوبل یوکرین کا ایک علاقہ ہے۔۔۔ جو دنیا کے سب سے بڑے نیوکلیئرحادثے کی وجہ سے مشہور ہوا۔۔🔥
یہ حادثہ 26 اپریل 1986 کو پیش آیا۔۔ جب چرنوبل نیوکلیئر پاور پلانٹ کا ایک ری ایکٹر (Reactor 4) پھٹ گیاتھا۔۔ ری ایکٹر کے اندر ایک تجربہ ہو رہا تھا جو غلطی سےقابو سےباہرہو گیا۔ری ایکٹر میں دھماکہ ہوا اور بہت زیادہ تابکار (Radioactive) مواد فضا میں پھیل گیا۔۔۔⛈️
یہ مواد ہوا کے ذریعے یورپ کے کئی ملکوں تک پہنچا
ہزاروں لوگ فوری طور پر متاثر ہوئے۔ 33 ہزار اموات ہوئیں کئی لوگ بعد میں کینسر اور دیگر بیماریوں سے مرے۔ چرنوبل شہر اورآس پاس کے علاقوں کو خالی کروا لیا گیا۔ آج تک یہ علاقہ خطرناک زون میں شامل ہےاور وہاں انسانوں کا رہنا ممنوع ہے۔۔🕷️
آج چرنوبل ایک "بھوتوں کا شہر" (Ghost Town) بن چکا ہے۔ وہاں صرف سائنسدان، فوجی، یا سیاح خاص اجازت سے جا سکتے ہیں۔۔۔🚁

اسرائیلی اخبار کا سرکاری ذرائع سے چشم کُشا انکشاف، کہا ایران کے نظام حکومت میں کوئی کمزوری یا عدم استحکام پیدا نہیں ہوا ...
21/06/2025

اسرائیلی اخبار کا سرکاری ذرائع سے چشم کُشا انکشاف، کہا ایران کے نظام حکومت میں کوئی کمزوری یا عدم استحکام پیدا نہیں ہوا ،اسرائیلی حملوں سے ایران میں نظام حکومت کمزور ہونے کے بجائے مزید مستحکم ہو گیا۔

اسرائیلی اخبار 'دی یروشلم پوسٹ' نے تین اسرائیلی حکام کے توسط سے انکشاف کیا ہے کہ ایران پر اسرائیلی حملوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باوجود، تہران کی حکومت میں کسی قسم کی کمزوری یا عدم استحکام کے شواہد نہیں ملے، بلکہ ایرانی حکومت نے اندرونی طور پر اپنی گرفت مزید مضبوط کر لی ہے۔

دی یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی سیکیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ تہران میں مرکزی حکومت کے کنٹرول میں کسی قسم کی کمی دیکھنے میں نہیں آئی، بلکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ایرانی حکومت اندرونی سطح پر مزید سختی سے کنٹرول حاصل کر رہی ہے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کچھ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا تھا کہ مسلسل اسرائیلی حملوں، معاشی پابندیوں اور عوامی دباؤ کے باعث ایران میں داخلی سیاسی کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔

تاہم اسرائیلی انٹیلیجنس کے مطابق، ایران کی حکومت نے فوجی اور انٹیلیجنس اداروں کے ساتھ روابط کو مزید مضبوط کیا ہے، اور ممکنہ "بغاوت یا بےچینی" کے ہر پہلو کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا ہے۔

اخبار کے ذرائع کے مطابق، ایرانی حکومت اس وقت قومی یکجہتی کو فروغ دینے اور "خارجی خطرے" کو بنیاد بنا کر داخلی حمایت حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے

21/06/2025

ایرانی میزائل حملوں سے نمٹنے کے لیے اسرائیلی انٹرسیپٹر نظام کی فی میزائل لاگت کتنی؟

ایران کے ممکنہ میزائل حملوں کے خطرے کے پیش نظر اسرائیل نے مختلف دفاعی انٹرسیپٹر سسٹمز تعینات کر رکھے ہیں، جن کی فی میزائل قیمت درج ذیل ہے:

ڈیوڈز سلنگ: 7 لاکھ امریکی ڈالر

ایرو 2: 15 لاکھ امریکی ڈالر

ایرو 3: 20 لاکھ امریکی ڈالر

آئرن ڈوم: 30 لاکھ امریکی ڈالر تک

یہ تمام سسٹمز اسرائیل کی دفاعی حکمت عملی کا حصہ ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو بروقت روکا جا سکے، تاہم ان کی بھاری قیمت ملکی دفاعی بجٹ پر واضح اثر ڈالتی ہے۔

21/06/2025

ایران پر حملے کے لیے امریکہ کو پاکستانی اڈوں کی ضرورت نہیں، عسکری تجزیہ کاروں کا مؤقف

واشنگٹن: دفاعی و عسکری تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ امریکی کارروائی کے لیے پاکستان کے کسی بھی فوجی یا فضائی اڈے کی ضرورت نہیں ہے۔ جدید جنگی طیاروں اور خطے میں مضبوط عسکری موجودگی کے باعث امریکہ مکمل خود کفیل ہے۔

امریکی فضائیہ کے پاس B-2 اسٹیلتھ بمبار، F-35 لائٹننگ اور FA-18 ہارنیٹ جیسے جدید طیارے موجود ہیں، جو زمین دوز اور انتہائی محفوظ اہداف کو بھی مؤثر طریقے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان طیاروں کے ساتھ ساتھ گہرائی میں مار کرنے والے اسمارٹ بم اور میزائل امریکہ کو تکنیکی برتری فراہم کرتے ہیں۔

مزید برآں، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد اور بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی را (RAW) سے حاصل شدہ زمینی معلومات امریکی اہداف کو مزید واضح اور قابلِ بھروسہ بناتی ہیں، جس سے ایرانی تنصیبات پر حملے کی کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

خلیج میں پہلے ہی امریکہ کے پاس قطر، بحرین، متحدہ عرب امارات اور کویت میں مستقل فوجی اڈے موجود ہیں، جہاں سے کسی بھی کارروائی کا آغاز ممکن ہے۔ ماہرین کے مطابق ان اڈوں کی موجودگی امریکہ کو خطے میں اسٹریٹیجک برتری فراہم کرتی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ایران کے قریب ہے، تاہم موجودہ حالات اور امریکہ کی تکنیکی و انٹیلیجنس برتری کے تناظر میں واشنگٹن کو اسلام آباد کے کسی تعاون کی ضرورت نہیں رہی۔

21/06/2025

امریکا کو صدر اوباما کے بعد ٹرمپ لاحق ہوا تھا۔ ٹرمپ صاحب اوباما کے بعد پہلی بار اقتدار میں آئے اور پھر بیچ میں بائیڈن صاحب کا وقفہ آ گیا۔ البتہ ٹرمپ نے اوباما پر ہوائی حملے جاری رکھے۔ شاید وہ اوباما سے شدید متاثر ہیں۔

ٹرمپ کو سیاسی شہرت سنہ 2011 میں ملی جب اس نے بارک اوباما کی امریکی شہریت چیلنج کرتے اسے غیرملکی مسلمان خاندان سے جوڑ دیا تھا۔ اوباما نے جب ریاست ہوائی کا برتھ سرٹیفکیٹ لہرا دیا تو ٹرمپ نے پینترا بدل کر کہا خدا معلوم نقلی ہے کہ اصلی!!!۔۔ ٹرمپ کے چھیاسٹھ فیصد حامیوں کو آج بھی یہ یقین ہے کہ اوبامہ نہ صرف غیر ملکی بلکہ مسلمان بھی ہے۔یہ ہوتی ہے سیاسی ہوائی بازی!

صدر اوباما کو 2009 میں نوبیل پرائز ملا تھا۔ ٹرمپ کی بھی شدید خواہش رہی کہ اسے بھی اوباما کے بعد نوبیل ملے۔ یہ خواہش نئی نہیں ہے۔ اس خواہش کا اظہار وہ کئی بار اپنی زبان سے فرما چکے ہیں۔” وہ مجھے نوبیل نہیں دیں گے کیونکہ وہ نوبیل لبرلز کو دیتے ہیں۔”۔اوباما کو نوبیل ملنے کے بعد ٹرمپ نے ٹوئٹر پر کہا تھا کہ اوباما کا انعام واپس لے لیا جانا چاہیے۔

نوبیل کی خواہش میں ٹرمپ کو خوش کرنے کی خاطر سنہ 2020 میں نارویجین سیاستدان تائیبرنگ جیڈ نے ٹرمپ کا نام نامزد کیا تھا۔ جیڈ نے کہا تھا “ میرے خیال میں انہوں نے دیگر ممالک کے درمیان امن قائم کرنے میں بہت سے نوبیل انعام یافتہ افراد سے زیادہ کوششیں کی ہیں۔”۔ جواباً ٹرمپ نے جیڈ کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔

سنہ 2024 میں یوکرین کے رکن پارلیمنٹ اولیکسنڈر میرزکو نے بھی ٹرمپ کو نامزد کیا تھا۔ اور اس سال 2025 کے آغاز میں نوبیل نامزدگیوں کی تعداد 338 تھی جن میں ٹرمپ پھر شامل تھے۔ امریکی کانگریس کے رکن ڈیرل عیسیٰ نے ٹرمپ کو نوبیل انعام کے لیے نامزد کیا۔ پہلے سے نامزد ٹرمپ کو اب حکومت پاکستان نے بھی نوبیل کے لیے نامزد کر دیا ہے۔

آپ دیکھئیے پاکستان کی ڈپلومیسی کا جال کیسا پھیلا ہوا ہے۔ امریکا کے ساتھ بھی ، چین کے ساتھ بھی، روس کے ساتھ بھی تعلقات خوشگوار ہیں۔ اب آپ سوچیئے کہ آخر پاکستان کے پاس ایسی کونسی گیدڑ سنگھی ہے ؟۔ پاکستان کے اعلیٰ عہدیداروں نے سوچا ہو گا ٹرمپ کا نام پہلے سے نامزد ہے پھر سے کرنے میں کیا حرج ہے، چلو چچا خوش ہو جائے گا۔ اس کی بڑی شدید خواہش ہے کہ نوبیل کو چوم کر گھر میں سجائے۔اگر مل گیا تو ٹھیک اور حسب سابق نہ ملا تو گونگلو (اس کی جگہ ٹرمپ بھی پڑھ سکتے ہیں) سے مٹی جھاڑ دی جائے۔

پاکستان کے چین سے سٹریٹجک تعلقات دیرینہ ہیں۔ اگر اسرائیل امریکا کا چھوٹا ہے تو پاکستان چین کا چھوٹا ہے۔ امریکا سے ہمارا تعلق ڈالر جاتی یا قرض جاتی ہے۔ امریکا سے ڈائیریکٹ مالی مدد کے ساتھ امریکا کے زیر اثر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف سے قرض وصولی کی ایک ہسٹری ہے۔ بدلے میں پاکستان نے بھی امریکا کے لیے اپنا کافی خون پسینا بہایا ہے۔روس بھارت تعلقات گہرے تھے اور پاکستان کے ساتھ روس کا ناطہ سائبیریا جیسا ٹھنڈا تھا۔ نارتھ کوریا روس کا چھوٹا ہے۔ پاکستان نے نارتھ کوریا یعنی روسی چھوٹے کے ذریعہ تعلقات بحال کرنے کو بہت محنت کی۔

نوے کی دہائی میں بینظیر صاحبہ نے شمالی کوریا کے متعدد ہائی آفیشلز سے ملاقاتیں کی تھیں۔مبینہ طور پر ان ملاقاتوں کی پشت پر اسٹیبلشمنٹ کی سپورٹ تھی۔ جوہری ٹیکنالوجی منتقل کرنے کے بدلے پاکستان کوریا کے Rodong لانگ رینج بیلسٹک میزائلز ٹیکنالوجی حاصل کرنے کا خواہشمند تھا۔ اس دور میں بہت سے “مشکوک” کارگو دونوں ممالک کے درمیاں ایکسچینج ہوئے۔ سی آئی اے نے سیٹلائٹ امیجز سے کچھ شواہد جمع کر لیے اور یوں پاکستان پر الزام لگا کہ اس نے نارتھ کوریا کو جوہری ٹیکنالوجی منتقل کی ہے اور بدلے میں نارتھ کوریا سے بیلسٹک میزائل پروگرام میں مدد لی ہے۔ان شواہد کو تقویت تب ملی جب پاکستان نے غوری ون میزائل کا تجربہ کر لیا۔ غوری ون کے متعلق کہا گیا کہ کوریائی روڈونگ میزائل کا بس کور بدلا گیا ہے اندر پراڈکٹ سیم ہے۔ پاکستان پر جوہری پھیلاؤ کا الزام لگا جس سے بچ نکلنے کو قدیر خان کی گردن پیش کی گئی۔ جو کیا قدیر خان نے ذاتی حیثیت میں کیا ریاست کو کچھ معلوم نہیں۔

پاکستان دنیا میں ٹاپ پندرہ پروفیشنل افواج رکھنے والے ممالک میں بارہویں نمبر اور جوہری صلاحیت رکھنے والے ممالک میں ساتویں نمبر پر شمار ہوتا ہے۔ پاکستان کسی طاقت سے ٹکراؤ یا ناراضگی افورڈ نہیں کر سکتا۔ جغرافیائی اعتبار سے اس جگہ واقع ہے جہاں روس، چین اور امریکی اڈے اردگرد واقع ہیں۔بھارت، سعودیہ اور ایران بھی پاس پاس ہیں۔ میں جب جب پاکستان کی ڈپلومیسی پر غور کرتا ہوں مجھے یہ قطع یاد آ جاتا ہے اور یہی ہمارا ڈپلومیٹک ڈاکٹرائن ہے۔

16/06/2025

اسرائیل نے ایرانی سرکاری ٹی وی کی عمارت کو اڑا دیا ہے اور متعدد مقامات پر شدید حملے کیے ہیں۔ نیتن یاہو نے ابھی کچھ دیر قبل کہا ہے ہمارا نشانہ علی خامنہ ای ہو سکتے ہیں اور تہران کے شہری شہر کو چھوڑ کر محفوظ مقام پر چلے جائیں۔ تہران پر آگ برسائیں گے۔ اور ابھی ابھی ایران نے حملوں کے جواب میں اسرائیل پر بلیسٹک میزائلز داغ دیے ہیں۔

اسرائیل میں سائرن بج رہے ہیں۔ میزائل گر رہے ہیں۔ صورتحال یوں بھی مزید بگڑتی جا رہی ہے کہ امریکی بحری بیڑہ سدرن چائنہ سمندر سے خلیج فارس پہنچ رہا ہے جس پر سو سے زائد طیارے ہیں۔ اس بیڑے نے آٹھ گھنٹے قبل سدرن چائنہ سمندر سے خلیج فارس کی جانب سفر شروع کیا تھا۔امریکی بیڑے کی موومنٹ یا تو ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے ہے یا پھر امریکا بھی ایران پر حملے میں شریک ہو سکتا ہے۔ اس بارے ابھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا کہ امریکا کیا کرنے جا رہا ہے۔

بہرحال دعا ہی کی جا سکتی ہے ایران کسی طرح بچ نکلے اور عالمی طاقتیں بھی اسرائیل پر دباؤ ڈال کر جنگ رکوائیں۔

Address

Hyderabad
71000

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when islami waqiat in Urdu posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Museum

Send a message to islami waqiat in Urdu:

Share