27/03/2026
یہ وہ مقالہ جس میں پروفیسر علامہ سید حسن شاہ شگری دامت برکاتہ عالیہ نے سیاچن ٹائمز والوں کی جھوٹی من گھڑت ویڈیو جو کہ جھوٹ پر منحصر تھا اس کا بہترین انداز میں جواب پیش خدمت ہے اپ سب سے گزارش ہے کہ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کیجئے
سرزمین بلتستان میں اسلامی مبلغین کی آمد۔
بلتستان میں مختلف ادوار میں مختلف مذاہب آتے رہے ہیں ۔ ان میں سے بدھ مت اسلام سے قبل آخری غیر مسلم مذہب ہے۔ بلتستان میں زرتشت بھی رائج رہے ہیں پاکستان کے مختلف تہوار میں زرتشت اور بدھ مت کے تہوار بھی موجود ہے۔ اکثر امور اسلامی معاملات سے ملتے جلتے ہیں خصوصا بدھ مت مذہب ما فوق لا فطرت امور پر زیادہ توجہ دیتے ہیں ۔ یہی وجہ مدھ مت سے اسلامی صوفی ازم مسلک میں منتقل ہونا ایک آسان امر تھا۔ تبھی جگہ جگہ شاہ ہمدان سید علی ہمدانی سے کشف و کرامات کا تقاضا کرتا رہا اور انتقال مذہب ہوتا گیا یہ کام صرف اور صرف صوفیاء کرام سے ہی ممکن تھا چوں کہ یہی مجتہد ہونے کے ساتھ ساتھ روحانی کشفی ، مشاہداتی ، معانیاتی علوم میں بے مثل تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ کم علم کج فہم لوگ عام جن گرفتہ ، جادوئی کاہنی، شیطانی علوم رکھنے والے افراد کا موازنہ ان کے ساتھ کر بیٹھے ہیں۔ ایسے لوگوں کا مقابلہ انبیاءاور آئمہ علیہم السلام کے ساتھ بھی رہا ہے مسلمانوں کا عقیدہ اس قدر کچا اور ملی نہیں ہے۔ تبھی سید محمد نوربخش نے فقہ الاحوط میں باب الامر اور باب الجہاد میں تمام شرایط و ارکان کے ساتھ بیان فرمایا ہوا ہے۔ تھوڑا بہت مواز نہ کرنا چاہیے بلتستان میں اشاعت اسلام سے لے کر استحکام اسلام تک جتنے مشائخ نے کام کیے ہیں ان تمام کا تعلق سلسلہ ذہب سے ہیں ۔ یہ افراد صرف
ظاہری صوفی نہ تھے بلکہ تمام علوم میں متجر تھے کسی بھی علوم میں کسی کا محتاج نہ تھے۔ دینی ، دنیاوی اور روحانی علوم سے سرفراز تھے۔ پاکستان میں ۷۸۳ھ میں تصوف کا بے تاج بادشاہ امیر کبیر سید علی ہمدانی " بسلسلہ تبلیغ اسلام براسته سلتر و وسیا چین بلتستان وارد ہوئے بحوالہ
زاد لجنان بعهد مقیم خان شاہ سیلنگ ۔
زهجرت دومیم یک ذال وجيم
طلوع شد خورشید اسلام ہیں علی ثانی آمد افضل کریم بعهد مقیم خان شجاعت سیلنگ علی ثانی آمد بسال نهنگ
به بشتار و سه بود هفتم صدی زکشیر به ثبت رسید آن ولی
ترجمہ ۔ سید علی ہمدانی مقیم خان والی سیلنگ (خپلو ) کے دور حکومت میں بلتستان وارد ہوئے اور اللہ کے فضل و کرم سے اسلام کا سورج طلوع ہوا۔ سید علی ہمدانی ۷۸۳ ھ میں راجہ مقیم خان سلینگ کے دور حکومت سال نہنگ میں بلتستان آئے ۔ حروف ابجد کے حوالے سے دو میم ایک
زال اور ایک جیم جمع کرنے پر ۷۸۳ بنتا ہے
۔ حشمت اللہ خان نے تاریخ جمو و کشمیر میں اور اشتیاق حسین نے عظیم پاک و ہند کی ملت اسلامیہ وغیرہ میں لکھا ہے کہ بلتستان میں امیر کبیر سید اس علی ہمدانی نہیں آئے ہیں بلکہ ان کا خلیفہ اور خواہر زادہ سید محمد نور بخش بلتستان آئے ہیں عقیدت کے طور پر شاہ ہمدان سے منسوب کیا گیاہے۔ اس پر تجزیہ آگے میں کروں گا امیر کبیر برالدو مستخ پاس شگر وارد ہوئے اس حوالے سے میر نجم الدین ثاقب یوں رقم طراز ہیں۔
ازاں زراه بر الدوشگر بانکه یک ها وزال و دو میم ٧٨٥ه غوری تهم که بد نام شاه شگر نصیب صد به اسلام نه فضل وکرم
ذخیرۃ ترجمہ ۔ آپ ۷۸۵ ھ میں براستہ برالد و شگر وارد ہوئے اس موقعہ پر راجہ غوری تھم والی شگرع جو غیر مسلم تھا اور بدنام تھا اللہ کے فضل و کرم سے انہیں اسلام نصیب ہوا۔ اور شاہ ہمدان جتنا عرصہ شگر میں مقیم رہے اس دوران مسجد امبورک مسجد چھبرون جی کی تعمیر ہوئی اس دوران رۃ الملوک اور موۃ القربی نامی کتابوں کی تصنیف ہوئی پھر آپ شکر سے بلتستان کے دیگر علاقوں میں تشریف لے گئے ۔ آپ کی وصیت کے مطابق ایک مہینہ کا سفر طے کر کے ختلان تاجکستان لے جایا گیا جہاں آپ مدفون ہیں۔ شاہ ہمدان نے تبلیغ کے دوران اپنے ساتھ کثیر تعداد میں سادات عظام اور ملا حضرات ساتھ لے کر آئے جگہ جگہ انہیں حسب ضرورت چھوڑتے گئے۔ حشمت اللہ خان نے سید محمد نور بخش کے پاکستان آنے کا لکھا ہے مگر سید محمد نور بخش کا بلتستان اور کشمیر آنے کا کوئی صحیح تاریخ نہیں ملتی البتہ شاہ ہمدان کے بعد بہت عرصه سرزمین بلتستان بیرونی اسلامی مبلغین سے خالی رہے۔ بایں وجہ لوگوں کا عقیدہ کمزور اور ابتر ہونے لگا مختلف اوھام پرستی نے جنم لیا جہالت نے پھر سے سر اٹھانے لگی ملا محمد علی کشمیری اس بارے میں یوں رقم طراز ہے۔ پاکستان میں شریعت محمدی ﷺ سے لوگ نا واقف تھے یہاں کے بادشاہ پھر دوبارہ کفر کی طرف مائل نظر آتے ہیں نہیں تو فاجر ضرور تھے۔ الناس علی دین ملو کھم کے تحت بادشاہ کو دیکھتے عوام بھی رنگ پکڑتے تھے۔ حالات ابتر اور خراب سے خراب تر تھے اس دوران سرزمین کشمیر سے میر سید شمس الدین عراقی بت شکن اپنے کم و بیش ۵۰ مریدین کے ہمراہ کشمیر سے بلتستان آئے آپ کو والی اسکر دو نے دعوت دی۔ آپ سیدھا راجہ اسکردو کے بیڈ روم جا کے راجہ کا خفیہ سونے کا بدھ تھا اسے توڑ کے پاش پاش کیا راجہ اسکر دو آپ سے خائف ہوئے دوبارہ کلمہ پڑھا مسلمان ہوئے۔ آپ کی دلیری اور بہادری کو دیکھ کر بت شکن (منکسر الاصنام ) لقب ہوئے۔ آپ عراق میں پیدا ہوئے اس لیے عراقی کہلاتے ہیں۔ پھر آپ مشهد زیارت کے لیے آئے اور شاہ قاسم فیض بخش ابن سید محمد نور بخش کے حلقہ ارادت میں شامل ہوئے سید محمد نور بخش کا خلیفہ جانشین سید قاسم فیض بخش ایران رے میں مدفن ہیں۔ آپ ایک اور بیٹا سید احمد نور بخش سید محمد نور بخش کے مرقد انور سے تھوڑ اینچے لب نالہ سولغان پائین میں مدفن ہیں۔ مجھے ان کی زیارت نصیب ہوئی ہے۔ بعد میں سید قاسم فیض بخش ابن سید محمد نور بخش نے سید شمس الدین عراقی بت شکن کی روحانی کمالات دیکھتے ہوئے آپ کو اپنا جانشین اور خلیفہ نامزد کیا آپ ایران چھوڑ کر کشمیر آئے اور کشمیر سے بسلسلہ تبلیغ دین بلتستان آئے آپ کچھ عرصہ بلتستان میں استحکام اسلام کے لیے کام کیا اس دوران آپ شگر میں بھی رہے شگر میں گونچی ری پر ایک مسجد تعمیر کیا جسے ری مسجد کہا جاتا ہے اگے گیا نکہ کے اوپر پہاڑی پر ایک آستانہ نظر آتا ہے سننے میں آیا ہے وہ آستانہ نہیں ہے بلکہ یہاں میر سید شمس الدین
عراقی نے چلہ کشی کی ہے اس جگہ آستانہ تعمیر کیا ہے۔ تاریخ رشیدی قلمی مخطوطہ لاہور پنجاب یونیورسٹی میں موجود ہے میں مرزا غلام حیدر دو غلت لکھتا ہے جو کہ فارسی میں ہے میں ملاحظہ کر چکا ہوں شمس العراقی نے امامیہ تشہیر کیا حضرت عائیشہ اور صحابہ کو برا بھلا کہا اس لیے مغل سلطنت سے فوجی تعاون حاصل کیا اور
ہندوستان کے مفتیان دین (بے دین سے شمس الدین عراقی کے خاف فتوی حاصل کر کے اس کمر میں شہد کی ان کی کتابوں کو جلایا
مریدین کا قتل عام کیا باقی ماندہ جو بچے تھے تبت کی طرف بھاگ گیا در حقیقت سید شمس الدین عراقی بت شکن کے قتل کا دینی معاملات کے
ساتھ کوئی واسطہ نہ تھا در حقیقت کشمیر میں سو سال تک چک خاندان جو نور بخشی تھے ان کی حکومت تھی یہ اقتدار کی جنگ تھی شمس الدین عراقی
اور ان کے مریدین نور بخشی کو قتل کر کے ختم کیے بغیر اقتدار پر قبضہ ممکن نہ تھا جیسا کہ ان کا پیشر و امیر تیمور لنگ نے امیر کبیر سید علی ہمدانی کے
خلاف جنگ کی تھی مرزا شارخ نے سید محمد نور بخش کی قتل کی کوشش کی ساتھ آپ کا مرشد خواجہ اسحاق ختلانی کو شاہ رخ نے شہید کر ڈالا۔
یہ سلسلہ حضرت علی مرتضی سے چلا ہے قیامت تک رہے گا رکنے والا نہیں ہے جو عالم دین یا بزرگ جس کا عقیدہ راسخ ہوار با عمل ہو وہ کبھی بکتا
اور جھلکتا نہ ہو تو حکومت وقت اور بادشاہ اس کی قوت ایمانی سے خائف رہتا ہے تو مختلف بہانہ اور حیلہ سے اسے خریدنے کی کوشش کریگا خرید
نہ سکے تو دبانے اور قتل کرنے کی کوشش کرنے لگا دبانے اور قتل کے لیے بھی بہانہ چاہئے ۔ بہانہ کے لیے سب سے سستا ذریعہ زرخرید
جاہل بے ایمان بد عقیدہ غیر عمل صالح نام نہاد علماء ہوتا ہے جس سے کفر و الحاد مرتد زندیق کا فتویٰ حاصل کر کے اپنا مقاصد حاصل کر لیتا ہے
جو کہ یہ سلسلہ نوربخشیوں میں تاحال جاری ہے ان کو نہ اپنی حیثیت کا اندازہ ہے اور نہ آخیرت میں انجام کا فکر ہے بس کسی کو خوش کرنے میں
دنیا و آخرت دونوں بر باد کر بیٹھا ہوتا ہے اللہ انہیں ہدایت کی توفیق دے۔ شمس الدین عراقی کے بعد آپ کا اکلوتا بیٹا میرسید دانیال شہید
اکستان آئے آپ کے بارے میں بہت مشہور روایت ہے سید شمس الدین عراقی کے ہاں اولا در ینہ نتھی کئی بیٹیاں تھیں شاہ سید محمد نوربخش
کے مرقد انور کی زیارت کرنے بیٹے کی خواہش لے کر شمس الدین عراقی کی بیٹیاں ایران سید محمد نور بخش کے آستانہ پر چلی گئی۔ واپس کشمیر
آئیں تو گھر داخل ہوتے ہی سید شمس الدین عراقی نے اپنی بیٹیوں سے کہا صرف ایک ہی ملایعنی ایک بیٹا واقعی میں ایک ہی بیٹا پیدا ہوا
سید محمد نور بخش کے بارے میں ایران بھر میں اولاد ہونے کے حوالے سے آج بھی بہت مشہور ہے اس حوالہ سے ایران ٹی وی پر ایک
ڈرامہ نشر ہوا اس کے بعد سے سید محمد نور بخش بہت مشہور ہوئے ۱۹۹۹ء میں ہم ایران گئے تو اتنا مشہور نہ تھا آستانہ کی حالت بھی ٹھیک نہ تھا
جب ۲۰۱۱ء میں گیا تو حالت بدلی ہوئی تھی تہران شارع عامہ پر بورڈ آویزاں تھا امام زادہ سید محمد نور بخش مدفن سولغان پائین کے نام سے
اس کی وجہ بہت ساروں کو وہاں جا کر اولاد ہوئی ہے۔ بہر حال سید میر دانیال شہید تبلیغی دورے پر سکردو آئے ہوئے تے مرزا حیدر نے
بہانے سے بلوا کر آپ کے والد سید شمس الدین عراقی کے قبر انور پر لے جا کر شہید کیا۔ پھر آپ کی اولاد اور چاہنے والوں میں خوف
و حراس پیدا اہوا جس کا ذکر تزک جہانگری میں بھی ملتا ہے۔ آپ کا بیٹا سید شمس الدین رشید جنہیں افغانستان بلخ میں شہید کیا آپ کے تین بیٹے تھے۔ سید میرا کبرسید میر
عارف سید ابوسعید سعداء سیداکبر دشمنوں کے خوف سے ایران خمین جا کر آباد ہوئے آیت الله روح اللہ خمینی انہی کی اولاد سے ہے۔ میر
عارف تھکس مین ہے۔ آپ کی بیٹی کا عقد اپنا بھیجہ میں مختار اخیار کا بیٹا میر اسحاق کے ساتھ ہو تھکس اور گردنواح کے موسوی سادات انھی کی
اولاد ہیں میر اسحاق کا آستانہ بھی میر عارف کے آستانہ کے برابر میں ہے۔ دونوں مرجع الخلائق ہیں ۔ ابو سعید سعد اعلاقہ کریس میں بارہ
سال مقیم رہے۔ پھر واپس کشمیر چلے گئے ۔ پھر ۱۲ ۱۰ ھ میں ایران طوس سے چاروں برادران بسلسلہ تبلیغ دین بلتستان وارد ہوئے سید اشتیاقحسین قریشی اور کچھ مورخ نے لکھا ہے بلتستان میں ان چار بھائیوں نے اسلام پھلا یا یہ غلط ہے۔ بلتستان میں اشاعت اسلام ۷۸۳ھ بذریعہ امیر کبیر سید علی ہمدائی ہو چکا تھا یہ چاروں بھائی سید شاہ ناصر طوسی جو کہ شگر برالدو داسو کے مقام پر سے لاپتا ہوئے سید علی طوسی کو اردو مین مرقد انور موجود ہے سید حید رطوی کو اردو کمراہ میں اور سید محمود طوسی سکر دو کشو باغ میں مرقد انور موجود ہیں۔ جب کہ اس سے پہلے ۹۵۲ھ میں میر دانیال کو بلتستان سے لے جا کر شہید کیا تھا ان چاروں سادات کے بارے میں زاد لجنان میں سید نجم الدین ثاقب لکھتے ہیں ۔
بیا آمد راہ سلتر وہیں برائے اشاعت دین کریم ہیں کرو بہ تاکید بر امر دین : به تعمیر مسجد به شوق عظیم کنندہ بنائے جامع شگر : ہمیں شاہ ناصر اسمش کریم
ایک بزرگ کا شغر سے براستہ سلتر و بلتستان میں اشاعت اسلام کے سلسلہ میں وارد ہوئے جس نے دینی معاملات پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کی جنھیں تعبیر مسجد کا بڑا شوق تھا انھوں نے جامع مسجد شگر کی بنیاد رکھی ان کا نام شاہ ناصر ہے۔ ان کے بعد میرا ابو سعید سعداً کے دو فرزند انجمن میرسید مختارا خیار میر یحییٰ برادران شگر کے راجہ اعظم خان اول کے دور حکومت میں ترکستان سے براستہ برالدو مستنغ پاس سے شگر میں وارد ہوئے چوں کہ کشمیر میں اولاد میر شمس الدین عراقی کا رہنا مشکل ہو چکا تھا یا تو گمنامی کی زندگی گزارے نہیں تو قتل کے لیے تیار ہو جائے تبلیغ دین اور شہرت دونوں موجب قتل ٹھہرے سوائے ہجرت کے کوئی چارہ نہ تھا آپ دونوں کے والد بزرگوار ابوسعید سعدا کچھ عرصہ بلتستان رہنے کے بعد کشمیر گئے تھے اور بلتستان میں ان کے عقیدت مند بھی تھے اس لیے آپ دونوں پاکستان آئے آپ دونوں کی تاریخ پیدائش ۶۴ ۱۰ ھ ملتے ہیں اس حوالے سے دونوں جڑواں ہیں۔ میر یحییٰ کی تاریخ وفات ۵۱۱۱۸ ۵۴ سال عمر اور میرسید مختار اختیار کی تاریخ وفات اسلاھ ۶۷ سال بنتے ہیں۔ میر سید ابوسعید سعداء کی تاریخ وفات ۰۹۵ار ہے۔ سید محمد نور بخش کی تاریخ وفات ۵۸۹ عمر۷۲ سال ہے۔ آپ دونوں بلتستان میں آخری اسلامی مبلغین میں سے ہیں آپ دونوں کے بعد بیرونی کوئی مبلغ بلتستان نہیں آئے آپ دونوں بلتستان کے علاقہ شگر چھور کا مو چمو کے آخری مقام برلب در یا بالمقابل نیالی مقیم رہے آپ دونوں کے رہائشی منہدم مکان کی بنیادیں اب بھی موجود ہے جو کہ بیجور گیا لموکتہ کے نام سے مشہور ہے چھوٹا سا بانچہ بھی نظر آتا ہے دیواروں کی نشانی بتاتی ہے آپ دونوں شگر کے عوام کا مرجع الخلائق بنے رہے آپ عوام الناس کے مسئلہ مسائل حل کرتے اور لوگوں کے مسائل کا مداوا فراہم کرتے تھے۔ اتفا قا اُدھر بادشاہ کے دربار میں گرما گرمی میں کمی آئی ٹھنڈ پڑ گئی بادشاہ نے وزیروں سے وجہ دریافت کیا تو وزیروں نے کہا کہ وہاں چھورکاہ میں دوسید برادران آئے ہوئے ہیں لوگوں کے تمام مسائل خود حل کرتے ہیں ۔ دوم درود سے شفاء ملتا ہے قاضی القضاۃ کا کام بھی خود کر لیتے ہیں۔ اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو آپ کے دربار میں آنے والا ایک بھی شخص نظر نہیں آئے گا لوگوں کا ان کے ساتھ عقیدت بڑھتا جا رہا ہے جوق در جوق لوگ ان کے دور بار میں حاضری دیتے ہیں یہ سلسلہ بند ہو جانا چائیے۔ وزیروں نے راجہ کو انہیں قتل کرنے کا مشورہ دیا راجہ مان گیا راجہ نے انہیں قتل کرنے اور گھر بار کو آگ لگانے کو کہا شگر سے فوجیوں کا دستہ بھیج دیا وہاں پہنچ کر رات کے اندھیرے مین انہوں نے لکڑیاں جمع کیا تا کہ گھر کو آگ لگا دے لکڑی کا نٹے جمع ہوئے تو انہیں لالچ آئی پتہ نہیں ان کے ہاں کتنے مال و دولت ہو گی ایساکرتے ہیں ہم سب بمعہ لکڑی گھر کو گیر لیتے ہیں تاکہ نکلنے کا کوئی راستہ نہ ہو صبح ہوتے ہی گھر کی تلاشی لے کر لوٹ لیتے ہیں پھر انہیں قتل کر کے گھر کو آگ لگا لیتے ہیں لوگوں نے کہا یہ بہت آچھا مشورہ ہے رات بھر لکڑی لاتے رہے رات کی تنہائی ہوئے تو تھوڑی دیر سستانے کو بیٹھ گئے اتفاقا ان کی آنکھ لگ گئی تہجد کے وقت میر مختار اخیر کا وجہ محترمہ بیورہ رگیالمو پانی لینے کو اُٹھی تو گھر کو گھیرے میں دیکھ کر میر مختار خیار کو آگاہ کیاآپ نے دیکھا راجہ کے افواج اور کارندے بمعہ لکڑی گھیرے میں ہے آپ نے زرجہ محترمہ اور میری سے کہا در حقیقت راجہ و غیرہ میرے خلاف ہے چوں کہ وہ لوگ مجھ سے نالاں تھے میں نکل جاتا ہوں۔ میری سے کہا بچے تیرے حوالے اللہ حافظ آپ نے اپنا چائے نماز ہاتھ میں لیا ایک مٹھی ریت لیا اور وہی آیت جو بنی کریم ﷺ نے ہجرت کے وقت پڑھے تھے پڑھ کر دم کر کے لوگوں کی طرف پھینکا اور لوگوں کے اوپر سے گزر کر نیالی کی طرف دریا پر جائے نماز ڈال دیا تو وہ کشتی بن گیا اور آپ اپنے پدر بزرگوار میر ابوسعید سعداء جہاں پہلے کریں میں رہائش رکھتے تھے وہاں چلے گئے۔ صبح ہونے کے بعد گھر لوٹنے داخل ہوئے تو میر مختار نہیں ملے انہوں نے میریجی سے پوچھا میر مختار کہاں ہے آپ نے جواب دیا کیا تم لوگوں نے میر مختار کو میرے سپرد کر دیا تھا جواب بھی شب ہجرت بستر پر سو کر صبح حضرت علی نے جو جواب دیا تھا وہی جواب دیدیا گھر لوٹ لیا میر مختار اخیار نہیں ملی۔ مصداق مال و متاع ملے سید کا سر نہیں ملا سید میر یحیی، زوجہ محترمہ بیور ور گیا لمواور دو صاحبزادے انہیں پکڑ کر راجہ کے پاس لے جایا جا رہا تھا راجہ کو ٹارگیٹ دیا تھا صبح تک کام تمام کر کے فورٹ میں حاضر ہوگا تاخیر ہوئی تو راجہ کو شک گزرا کہیں مڈ بھیڑ نہ ہوا ہو مزید فوجی کمک روانہ کیے محلہ سینکھو رفیا سپہ میں ملاقات ہوئی میر مختار اخیار کا پوچھا تو بتایا وہ نہیں ملا یہ دونوں ان کے صاحبزادے ہیں مزید آنے والے کمک نے قیدی بنا کر راجہ کے دربار میں پیش کیے روجہ محترمہ نے دورکعت نفل نماز پڑھنے کی اجازت طلب کی اجازت ملی آپ نماز میں مشغول ہوئی سجدہ میں جا کر رب کریم سے اپنی موت کا خواستگار ہوئی سر نہ اٹھا پائی دیکھا تو جان آفرین اللہ کے حوالے ہو چکی تھی آپ محترمہ کو شاہی قبرستان آگے پا میں سپرد خاک کیا ابھی آستانہ ٹوٹے پھوٹے حالت میں موجود ہے کہتے ہیں میر یحییٰ کو آزاد کیا میری واپس کریس چلے گئے تو میر مختار اخیار نے میر یحییٰ کو واپس شکر بھیجا کہیں شگر دین ۔ میری سے خالی نہ ہو جائے آپ واپس شگر آئے اور محلہ آستانہ میں رہائش پزیر ہوئے۔ میر یحییٰ کی اولاد اس وقت شکر خاص وزیر پور گلاب پور اور الچورڑی میں آباد ہیں میر مختار اختیار کی دوسری زوجہ سے ۱۲ اولا دنرینہ ہوئی جو کہ سب زندہ رہے دو صاحب زادے جو شہید ہوئے وہ فیاسپہ جانب دریا
آپ دونوں کے آستانہ موجود ہیں جو کہ آستانہ معصومین کے نام سے مشہور ہے۔ یہاں کچھ شک و شبہاب اور غیر حقیقت پسندانہ اعتراضات اور الزامات کا ازالہ بحیثیت مریبی کی اولاد ہونے کے ناطے ضروری سمجھتا ہوں جو کہ ہر لکھاری نے ایک دوسرے کی تتبع کرتے ہوئے بغیر تحقیق منحش غلطی کر بیٹھے ہیں ایک تو یہ ہونا چاہیئے جب آپ کچھ لکھتے ہیں مثلا قرآن کا تفسیر لکھتا ہے یا حدیث کی شرح لکھنا ہے یا تاریخ لکھتے ہیں تو اس کا کچھ اسلوب ضابطہ، قاعدہ ضوابطہ قانون ہوتا ہے اس کے بغیر آپ قلم نہیں اٹھا سکتے ہیں اگر لکھیں گے تو خائن کہلائے کا علم تفسیر لکھنے ولاے کے لیے ضروری ہے کم از کم چودہ علوم پر علوم پر عبور حاصل ہو اور تفسیری کے سارے اصلوب جانتے ہو اسی طرح علم حدیث کا بھی ہے ہم تاریخ لکھنابت سمجھتے ہیں کس قد رستم ظریفی کی بات ہے۔ ہر شخص تاریخ نہیں لکھ سکتا کتاب تو بارہ سال کا بچہ بھی لکھ سکتا ہے جس مضمون پر لکھنا ہو اس مضمون کے حوالے سے چند کتابوں کو سامنے رکھ کر ہر ایک کتاب سے کچھ کچھ حصہ عبارت لے کر کھے گا توکتاب کی شکل بن جائے گی پھر جائل قوم اسے لکھاری محقق اسکالر کا نام دے دیتا ہے۔ اسکالر کا لقب ملنے کے بعد وہ شخص تاریخ کیا ہر مضمون کا بیڑا غرق کر دیتا ہے خصوصا تاریخ لکھنا اور پڑھنے کے لیے کتنے علوم پر عبور ہونا ضروری ہے اس کا اسلوب کیا ہے طریقہ کیا ہے؟ میں سمجھتا ہوں صحیح معنوں میں پی ایچ ڈی کیسے ہوئے شخص کے علاوہ کوئی نہیں جانتا بشرطہ کہ پی ایچ ڈی اصلی ہو آج کل بہت سارے پی ایچ ڈی حضرات کو دیکھتے ہیں تو لفظ بھی شرما جاتا ہے۔ کسی تاریخ اور بات کو غلط کہنے اور صحیح کہنے میں منٹ بھی نہیں لگتاذ را اسلامی اور شرعی حوالہ سے دیکھے اگر وہ واقعہ ایسا نہیں ہوا ہے جس کو آپ نے ہونے کا کہا ہے تو افترا ہوا الزام ہو ا شرعا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہو چکا ہوا ہے آپ نے
لکھ دیا یہ نہیں ہوا ہے تو جھوٹ بولا یہ بھی حرام ہے گناہ کبیرہ ہے۔ لہذا میر یکی پر بہت سارے لکھاری نے جو الزام ، افتر ابتائے اور لکھے ہیں اس کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں ایک تو یہ کہ راقم خود میرسید ی کی اولاد میں سے ایک ادنی فقیر حقیر تقصیر عبدالضعیف بندہ ہوں اس حوالے سے بیرونی لکھاریوں کی نسبت مجھے زیادہ حق پہنچتا ہے کہ میں اس کی حقیقت بیان کروں بلتستان کی اکثر تاریخ اور واقعاتی روئیداد سینه به سینه چلے آنی والی روایات پر مشتمل ہے کوئی خاص تحریری مکمل تاریخ نہیں ہے البتہ چند واقعات اور تاریخ مختلف قلمی لکھی ہوئی کتابوں سے ملتی ہے جس میں سرفہرست دیوان میر مختارا خیار منظوم شکل میں ہے جس کی فو تو کاپی میرے پاس موجود ہے میر نجم الدین ثاقب کی ذالجنان اور فصل الخطاب مشہور تاریخی کتا بیں ہیں میں جو کچھ لکھا ہے انہیں کتابوں سے لکھا ہے اس کے علاوہ لب التواریخ محمد علی کشمیری کی کتاب زیادہ مستند کتاب ہے تحفۃ الاحباب وغیرہ بھی ہے دیوان میر مختار اخبار ، لب التواریخ اور تحفۃ الاحباب میں میر سید شمس الدین عراقی بت شکن کے بارے میں زیادہ لکھی ہوئی ہے مصیبت یہ بھی ہے کہ میر شمس الدین عراقی کے بارے میں بھی آنکھیں بند کر کے غلط بیانی کیے ہوئے ہیں بلکہ کسی صاحب نے مجھے خود کہا کہ میر شمس الدین عراقی شیعه اثنا عشریہ یہ فرقہ جعفریہ سے تعلق رکھتا تھا اور بلتستان میں مسلک شیعہ کی بنیاد اس نے رکھی ہے۔ یہ نہیں دیکھا سید شمس الدین عراقی کس کا خلیفہ ہے اور اس کا خلیفہ کون ہے؟ کس سلسلہ سے وابسطہ ہے ان کی تعلیمات کیا ہے بہر حال میرا بحث ان پر نہیں ہے بلکہ میر مختار اخیار اور میر سید یحییٰ کے درمیان جو غلط نہی پیدا کی جارہ ہوئی ہے اس کی وضاحت کرنا ہے۔
سب سے پہلے حشمت اللہ خان نے تاریخ جموں کشمیر میں میر یحییٰ پر اپنے سگے بھائی پیر و مرشد ولی کامل عالم بے بدل مرجع نور بخشیہ پر قتل میں براہ راست شریک ہونے کا الزام لگایا انہیں نہیں معلوم اس الزام سے ان کی ایمان پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اور کل قیامت کے دن کیا جواب دیں گے میر یحییٰ کوئی معمولی عام انسان نہیں تھے۔ میر یحییٰ ولی کامل پیر کامل مرشد حقیقی اور عالم دین تھے۔ حشمت اللہ نے کسی تاریخی کتاب کا حوالہ نہیں دیا ہوا ہے اور نہ ہی کسی بزرگ عالم کا حوالہ دیا ہوا ہے کم از کم حشمت اللہ کے دور میں پیر طریقت سید محمد شاہ زین الاخیار کا دور تھا اس کا حوالہ دیتا سب سے زیادہ ضرورت میر مختار خیار کے خلف خلفاء ہے۔ ان میں سے کسی نے کچھ لکھا ہے اور نہ یہ
کچھ کہا ہے۔ (۲) اگر حشمت اللہ کی ہر بات کو صیح مانا جائے تولتستان میں آگ لگ جائے گی حشمت اللہ خان نے بلتستان کی تاریخ کو مسخ کر کے رکھا ہے نور بخشیوں کے اندر دیکھے وہ لکھتا ہے بلتستان میں امیر کبیر سید علی ہمدانی آیا ہی نہیں ہے اس بات کو آپ کیوں نہیں مانتے پھر وہ لکھتا ہےفقه الاحوط سید محمد نوربخش گا ہے ہی نہیں یہ کتاب سید شمس الدین عراقی بت شکن نے لکھ کر عقید تاسید محمد نوربخش سے منسوب کیا ہے چوں کہ کستان میں سید محمد نور بخش کے عقیدت مند زیادہ تھے اس لیے سید شمس الدین نے شہرت پانے کے لیے سید محمد نور بخش کا نام لیا ہے آپ مان جائیں گے پھر لکھتا ہے سید شمس الدین عراقی نے بلتستان میں شیعہ اثنی عشریہ کی بنیاد رکھی مانوں گے میں حشمت اللہ خان کے کس کس تاریخی سیاہ کاریوں کا ذکر کروں مجھے سب کچھ پتہ ہے میرے پاس اس کی کتاب بھی ہے تاریخ جموں کشمیر ۔ مجھے افسوس ہمارے بلتی لکھاریوں پر ہوتا ہے سب نے حشمت اللہ خان کا تتبع کیا ہے ان لکھاریوں پر ترس آتا ہے ان کو تاریخ لکھنے کا اصول واسلوب کا پتہ ہی نہیں
ہے۔
نمبر ۲ ۔ سید میر مختار اخیار پوری ملت نور بخشیہ کے مرکز و مرجع تھے آپ صاحب قلم و علم تھے اس وقت کے پیر کا عالم ایسا تھا وہ جو حکم دیتے من و عن سرخم تسلیم کیے دیتے تھے۔ اگر میر یحییٰ نے میر مختار اخیار کے قتل میں معاونت کی تھی تو از رو شریعت محمد مصطفی ﷺ الدال کفاعلہ کے زمرے میں آتا ہے معاونت تو بہت سنگین جرم ہے بلکہ الدال کسی کو دکھایا ہو یا دکھانے والے بھی قاتل کے زمرے میں آتا ہے اپنے قتل میں شامل بھائی کے خلاف میر مختار اخیار نے ایک لفظ نہیں بولا وہ اس قدر کمزور تھے حالانکہ اس وقت بلتستان کا سب سے زیادہ طاقتور شخصیت کے مالک تھے۔ روحانی اور علمی اعتبار سے بھی میر مختار اخیار کے بارہ بیٹے تھے جب میر یحییٰ پانچ فرزند تھے جن کے نام یہ ہیں۔
میر فخرالدین
میر صادق
میرا حیاء جان
میر باقر
میر قمر الدین
۔ میرسید مختار اخیار کم از کم میر یحییٰ کے کیخلاف فتوی دیتے نمبر ۳۔ آپ کا خلقد سعداء میر جلال تھے صاحب کشف و کرامات تھے کم از کم آپ احتجاج کرتے صاحب علم تھے۔ پھر خصوصا سید میر عبداللہ اس وقت زبردست لکھاری تھے جتنے قلمی فقہ الاحوط اور دعوات وغیرہ ہیں
آپ کی لکھی ہوئی ہے۔
نمبر ۴ ۔ ان سب میں سے میر مختار اخیار کا پوتا میں نجم الدین ثاقب جو کہ میرے خیال میں آپ کے پائے کا عالم اور روحانی شخصیت نور بخشیوں میں کم آئے شاعر قلم کار تاریخ نویست گزرے ہیں۔ نور بخشی تاریخ کا زیادہ تر حصہ آپ کا مرہون منت ہے۔ نجم الدین ثاقب میر خیا را خیار اور میری ، شاہ ناصر وغیرہ کے بارے میں لکھ سکتا ہے تو یہ بات کیوں نہیں لکھی اگر خود میر مختارا خیار، میر جلال الدین، میر معصوم اور میر نجم الدین ثاقب وغیرہ نے نہیں لکھا ہے خاموش ہیں۔ تو سمجھ لو اس سنگین نا قابل برداشت جرم میں سب شریک رہے ہیں حلانکہ نجم الدین ثاقب خود شگر میں قیام پزیر رہے ہیں آپ کا آستانہ مبارک شاہی پولو گرونڈ کے آخر میں جانب شرق بمقام بیڑی پائیں موجود ہے۔ آپ نے کبھی شکر میں کسی شخص سے ذکر کیا ہوا ہوتا تو چوں کہ آپ مرکزی پیر تھے شگر میں بھی آپ کے عقیدت مند موجود تھے
بلکہ آپ کی رحلت شکر ہی میں ہوتی ہے آخری آرام گاہ بھی شگر میں ہے۔ نمبر ۵ ۔ لکھتے ہیں سید میر بیٹی کو راجہ شکر کی آشیر باد حاصل تھی۔ جب کوئی بندہ اتنا بڑا جرم کر بیٹھتا ہے تو اس کا عوض اس زمانے میں بے حساب جائیداد میں دینی ہوتی ہے میریٹی کو کیا دیا ہے؟ میری کی کونسی جائیدایں ہیں شگر میں بند و بستی کا غذات نکال کر دیکھ لے ٹوٹل شگر خاص میں ایک باغچہ میر یحییٰ کی ملکیت ہے جسے ارغون زھر کہلاتا ہے باقی اگر وز یر پور میں جائیداد ہیں تو آپ کا پوتا سید شمس الدین کو دیا ہے آپ کی رحلت کے بعد الچوڑی میں بھی آپ کے اولا دکو دیا ہوا ہے باقی کہاں ہے جائیداد میر سید یحی کی زندگی فقر وفاقہ پر گزری ہے بہتمشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ گھر پر کوئی مہمان آیا گھر والوں نے کہا کھلانے کو کچھ نہیں ہے آپ نے کہا تھیک ہے تم فتیلہ چڑھاو میں کچھ بندو بست کر لیتا ہوں ۔ آپ سیدھا لب دریا چلے گئے چادر میں ریت لیا اور ایک پتھر بھی لیے گھر آ کر صندوق میں رکھ دیاز وجہ سے فرمایا تم نے بغیر دیکھے ایک طرف آتا ہے اور دوسرے کونے میں گھی ہے لیکے آنا ہے۔ آپ کے زوجہ نے ایسا ہی کیا کئی دن تک کام چلتا رہاز وجہ کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا لے آتے وقت تھوڑا لگ رہا تھا یہ تو کئی دن چلا۔ دیکھ لیا تو تھوڑ اسا رہ گیا ہوا تھا دوسرے دن خیم ہوا۔ آپ نے عرض کیا آٹا اور مکھن ختم ہوا ہے ۔ آپ نے فرمایا تم نے دیکھنا نہیں تھا دیکھ لیا اب کوئی چارہ نہیں اگر تم نہ یکھ لیا ہوتا تو سال بھر چلتا تھا اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے آپ کے ہاں غربت تھی دوسراریت کو آٹا اور پھر کومکھن بنانے والا ہستی اسقدر روحانی طاقت والی شخصیت پ کسی قدر بھونڈا
گناہ والی الزام ہے راجہ کے ہاں کوئی اہم کام سر انجام دینے والوں کو سینکڑوں کنال زمین دی ہے۔ نمبر ۶ ۔ سب سے زیادہ نگا جھوٹ کہ میر مختار کے قتل میں معاونت پر راجہ اعظم خان نے میریٹی کو خانقاہ بنوا کر دیا اور آپ کو اس کا متوالی
بنا دیا۔ خانقاہ معلی شکر ۲۳۔ ادھ میں شاہ ناصر طوسی نے تعمیر کی ہے جبکہ میر مختارا خیار اور میر یحییٰ کی تاریخ پیدائش ۴ ناھ ہے۔ خانقاہ کی تعمیر اور
ان کی پیدائش میں ۴۱ سال کا فرق ہے۔
نمبرے۔ بھائی کے قتل کے جرم میں شریک شخص کو صرف ایک عوامی بلڈ ینگ تعمیر کر کے دی اور وہ اس پر خوش ہوا ایک تو جامع مسجد اللہ کا گھر ہوتا ہے کسی کا قتل اللہ کو ناراض کر کے اللہ کا گھر عوض میں حاصل کر لے کیا ہی خوبصورت انعام ہے دوسری بات جامع مسجد عوامی ہوتا ہے
جہاں نماز پڑھی جاتی ہے نماز پڑھنے کی جگہ کی تعمیر بھی عوام پر واجب ہوتا ہے لہذا میر بیٹی کو کیا فائدہ؟
نمبر ۸۔ اس قسم کا جرم عام انسان نہیں کر سکتا ہے پھر مسلمان پھر عالم دین پھر ایک کمال درجے کا صوفی بزرگ صرف بزرگ ہی نہیں بلک بلکہ ولی کامل ومکمل مرشد حقیقت جس کی رشد و ہدایت سے دنیا مستفید ہو ۔ سوچ بھی نہیں سکتا میری سادہ لوح دن رات عبادت و ذکر واذکار میں غرق رہنے والا ایک عظیم صوفی بزرگ تھے ویسے عام صوفی بزرگ اور صوفیاء کرام کو حرص و ہوس لالچ ، مال و دولت منصب و عہدہ وغیرہ سے
کوئی غرض نہیں ہوتا پھر ایسا مر شد حقیقت جو تبلیغ دین کے لیے آئے ہو ان کے شان میں سوچنا بھی گناہ ہے۔ کا ہے۔ صوفی کہتے ہیں نمبر ۹ حقیقی عام صوفیوں کا کردار میں کسی خلق خدا مخلوق خدا سے بغض و حسد نفاق و منافرت ان کے منصب کے خلاف ۔
اسی کو جو خلق خدا سے محبت کرلے جو کہ کتا بلتی ہی کیوں نہ ہو یہ بھی خلق خدا میں شامل ہے۔
تصوف کے لفظ میں واو سے مراد الواو ورد وود و وصفا ورد یعنی ہمیشہ اللہ کے ذکر واذکار میں مستغرق رہنا۔ وہ اللہ او مخلوق خدا
کے ساتھ محبت کرنا۔ وفا اللہ اور خلق خدا کے ساتھ ہمیشہ باوفار ہنا۔
(ص) الصاد صبر، صدق ، و صفا صبر ہر قسم کی مصیبت تکالیف اور غم پر صبر کرنا ۔ صدق اللہ اور مخلوق خدا کے ساتھ ہمیشہ سچائی سے پیش آنا ۔ وصفا اللہ اور مخلوق خدا سے صفا
قلبی رکھنا دل میں کسی کے خلاف نفرت بعض ، عناد، منافرت، جسد یعنی ہر برائی سے پاک رہنا۔(ت) التاوترک توبه و نقاء التا ترک تمام گناہ کبیرہ و صغیرہ کا ترک کرنا چھوڑ دینا۔ تو بہ پھر اللہ کی طرف رجوع ہونا تو بہ کرنا
و تقاء۔ پھر تقوی پر ہیز گاری اختیار کرنا۔ ( ف ) الفاء فرد فقر وفنا - فرد عبادت میں اللہ کے ساتھ انفرادیت اختیار کرنا فقر دنیاوی معاملات میں دلچسپی نہ لینا۔ مال و دولت عہدہ و منصب حرص ولالچ سے بے نیاز ہونا۔ وفنا۔ پھر اپنی ہستی کو مٹا کر ختم کر کے اللہ کے لیے زندہ رہنا یہ عام تصوف والوں کا حال ہے پھر مرشد کے مقام پر پہنچنے کے بعد مشاہدہ ، معائینہ مکاشفات کے مقام پر فائز ہوتا ہے تو اس کی حالت کچھ اور ہو جاتا ہے چہ جائکہ عام صوفیوں کی یہ تعریف ہے جو کہ صحیح معنوں میں صوفی کے دل کسی کے خلاف بغض و حسد اور نفرت نہیں ہوتی ہمیشہ خلق خدا کے لیے سوچتا ہے۔ اور کام کرتا رہتا ہے مرشد کا معنی دوسروں کو اس معاملہ پر چلانا آپ سے ظاہرہ شرعی ارباطنی روحانی ہدایت ملے جو چیز عام انسانوں کے لیے حرام ہو وہ کام ایک مرشد کے لیے سوچنا بھی گہاہ کبیرہ ہے۔ ایک صوفی بزرگ کو مال و متاع منصب جائیداد سے کیا غرض ان تمام سے
کنارہ کشی کیے بغیر مرشد اور ولی بنتا ہی نہیں ہے۔ در حقیقت یہ الزام صرف میریٹی پر نہیں ہے بلکہ پوری نور بخشیت پر ہے چوں کہ نوربخشیت میں صرف ظاہری شرعی علوم والے کی اتنی فوقیت نہیں ہے جب تک روحانی عرفانی طریقت کا علوم نہ ہو اب روحانی طریقت کا علم کسی علوم تو ہے نہیں یہ بہت مشکل عمل ہوتا ہے نفسانی خواہشات کو ختم کر کے جہد مسلسل کے بغیر اس مقام پر نہیں پہنچ سکتا اور یہی شرعی روحانی علوم کے متجر علماء وارث انبیاء ہوتے ہیں چوں کہ انبیاء علیہم السلام کے علوم درسی اور کسی تو نہیں ہے انبیائے کرام علیہم السلام اور آئمہ طاہرین علیہم السلام نے کسی مدرسے سے تعلیم حاصل نہیں کیا ان کے علوم موہوبی اور لدونی ہوتے ہیں۔ لہذا صرف ضرب یضرب پڑھنے والے رارث انبیاء نہیں ہو سکت جب تک طریقت مین ریاضت محنت مشقت کر کے جو مقام حاصل نہ کرلے اور ساتھ شرعی علوم میں مشجر نہ ہو اس لیے شاہ سید محمد نور بخش نے اصول اعتقاد یہ میں لکھا ہے۔ العلماء ورثة الأنبياء الى اى الاولياء ورثه الانبیاء چون که اولیاء کا علم شرعی اور روحانی دونوں ہوتے ہیں ۔ جو صرف روحانی علوم کا دعوی کرے جب تک دینی شرعی علوم نہ ہو تو ا ز ما کسی کا محتاج رہے گا۔ میریکی وغیرہ پر اس قسم کی الزام اس لیے لگایا تا کہ ان کی حقیقت اور مرشدیت کو مطعون کہا جائے پھر نور بخشیوں کو طعنہ دیا جائے دیکھو تمھارے مرشد اس طرح کا ہوتا ہے اگر نور بخشیت سے روحانیت کو نکال دیا جائے تو باقی رہتا کچھ نہیں ہے لہذا دشمن نے روحانیت والے علماء اور شخصیت کی مخالفت کرنا ہے تا کہ ان کی حیثیت کو داغ دار کر کے بدنام کیا اصل اعتراض یہاں پر یہ ہونا چاہیئے کہ صرف میر مختار اخیار کو تل کرنا کیوں چاہتا تھا دراصل میر مختار اخیار کے خلاف رپورٹ راجہ کو جاتی رہی ہے اچانک قتل کا فیصلہ نہیں ہوا ہے مرکزی حیثیت میرمحتار کیتھی میر مختار خیار نور خصیوں کا روحانی پیشوا اور پیر طریقت تھے حکم اس کا چلتا تھا تو مخالفت بھی اس کی ہوگی جیسا کہ شہید حضرت علی کو کرنا تھا باقی بھائیوں کو کیوں کرے اس وقت جنگ حضرت امام امام حسن علیہ السلام سے ہونا تھی ۔ حضرت امام حسین علیہ السلام بھی موجود تھے اسی طرح حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام تک کے آئمہ علیہم السلام کو زہر دے کر شہید کیا گیا ہے تو ان تمام ائمہ علیہم السلام کے برادران بھی موجود تھے یا ان کے اور بھی رشتہ داران بھی موجود ہو تھے تو مخالفت یا شہید کرنے کی کوشش صرف اور صرف مرکزی شخصیت کی ہوتی ہے ناقدین سمجھتا ہے اگر مرکزی شخص کو ہٹا دیا جائےتو معاملہ آسان ہوگا۔ اور مسئلہ حل ہو جائے گا۔ جیسا کہ ہر وقت ہر دور میں ایسا ہی ہوا ہے اور امیر کبیر سید علی ہمدانی کو بھی شہید کرنے کی کوشش کی گئی امیر تیمور لنگ سے وابستہ پڑا باقی میریدین کو کچھ نہ کہا گیا۔ خواجہ اسحاق ختلانی کو شہید کیا گیا آپ مرکزی پیر و مرشد تھے۔ پھر سید محمد نوربخش کو مرزا شارخ نے شہید کرنے کی کوشش کی گئی آپ مرکزی شخصیت تھی اسی طرح نجم الدین کبری گو تا تاری جنگجو فوج نے شہید کیا۔ پہلے ذکر ہو چکا ہے سید شمس الدین عراقی بت شکن ہو یا آپ کا بیٹا میر دانیال ہو یا آپ کا پوتا شمس الدین رشید ہو ان سب کو شہید کیا گیا کیوں کی آپ لوگ مرکزی نور بخشیوں کے پیرومرشد تھے ان کے برادران اور رشتہ داروں کو شہید کیوں نہیں کیا ان کا دردسر اور راستے کی رکاوٹ مرکزیت ہوتی ہے نہ کہ شاخ چون کو قتل سید میر مختار اخیار کا کرنا تھا مخالفت اس کی تھی چوں کی میر مختارا خیار تور بخشیوں کی مرکزی شخصیت تھی سید میر یحییٰ کا میر مختار کا بھائی ہونا کوئی جرم نہیں ہے۔ لہذا اس وقت سکھ گورنمنٹ کے نمک خوار بقول حشمت اللہ خان کا اپنا ہونے کی وجہ کچھ گل تو کھلانا تھا اس کے بعد والے لکھاریوں نے حشمت اللہ خان کی لکھائی کا نقل کرتے وقت عقل اور لکھائی کے اسلوب قانون اور ضابطہ کو پس پشت رکھ کر لکھ دیا ہے جو کہ سراسر نور بخشیت کے خلاف ایک عمل ہے تمام نور بخشیوں کو اس غیر حقیقت پسندانہ الزام تراشی کی مزمت کرنی چاہیے اور حشمت اللہ خان کب کا مر چکا ہے ان کے کوئی اولاد نرینہ بھی نہیں ہے اور پاکستان سے جمع کر کے لے گیا ہوا تمام قلمی کتابوں اور مواد کو گھر چھوڑ کر مر گیا اس کی نواسی نے ان تمام قیمتی ہماری کتابوں کو کسی کباڑ والے کو بے دردی سے دیدیا ہے۔ باقی ہستان کے جو لکھاری کہلاتے ہیں اپنے آپ کو کم از کم ایک عظیم صوفی بزرگ ولی اللہ مرشد کامل پر اقدام قتل کا الزام لگانے پر معافی مانگتے ہوئے تو بہ کرنا چاہیے وگرنہ قیامت کے دن مسئول ہوں گے۔ تحقیقات پر واضح ہوتی ہے کہ حشمت اللہ خان نے تاریخ جموں کشمیر میں اکثر روایات غلط لکھے ہیں اور جس شخصیت کا حوالہ دیا ہے وہ شخص بھی متنازع ہے اس شخصیت کا حوالہ تاریخ شغر نامہ نے بھی دیا ہے مگر تحقیقات اور کوئی حوالہ نہیں ہے ان دونوں دلیل کہ خانقاہ معلی شگر بنوا کے دیا۔ ذکر ہو چکا ہے خانقاہ معلی شگر کی تعمیر اور سید میر مختار میر یحییٰ کی پیدائش میں ۴۱ سال کا فرق ہے لہذا یہ دعوئی غلط ثابت ہوتا ہے۔ پھر میر مختار کے کسی اولاد سے یہ روایات ثابت نہیں ہے لہذا باطل است ۔
والسلام فقط پر و فیسر سید حسن شاہ یحیوی شگری